کمیل رضا، جامعۃ المصطفی کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی | حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ عورت محض ایک صنف نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح، اخلاقی اقدار کی سربلندی اور صبر و استقامت کا ایک عظیم مرکز ہے۔
1۔ تعارفِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
اسلامی تاریخ میں چند ایسی مقدس شخصیات ملتی ہیں جن کی سیرت و کردار نے انسانیت کے لیے ہدایت کے روشن مینار قائم کیے۔ ان میں سب سے نمایاں نام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا ہے، جو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ کبریٰ رضی اللہ عنہا کی لختِ جگر تھیں۔ آپ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ سلام اللہ علیہا کو زہرا (روشن و درخشاں) اور بتول (دنیا سے بے رغبتی اختیار کرکے عبادت میں مشغول رہنے والی) جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
والدِ گرامی سے محبت اور آپ سلام اللہ علیہا کا مقام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اس بیٹی سے بے حد محبت فرماتے تھے اور آپ کا احترام اس بلند درجے پر تھا کہ جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تشریف لاتیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبت سے اٹھ کر آپ سلام اللہ علیہا کا استقبال فرماتے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘
یہ فرمان حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بلند روحانی اور اخلاقی مقام کا واضح ثبوت ہے۔ آپ سلام اللہ علیہا نہ صرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں بلکہ آپ سلام اللہ علیہا کی روحانی وارث اور غمگسار بھی تھیں۔ مشکل ترین حالات میں بھی آپ سلام اللہ علیہا نے اپنے والدِ گرامی کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسی لیے آپ سلام اللہ علیہا کو ’’اُمِّ ابیہا‘‘ (اپنے والد کی ماں، یعنی ان کی ڈھارس بندھانے والی) کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
2۔ ازدواجی زندگی اور سادگی
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نکاح کائنات کی عظیم ہستی، شیرِ خدا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے ہوا۔ آپ دونوں کا گھرانہ سادگی، تقویٰ اور ایثار کا بہترین نمونہ تھا۔
گھریلو محنت
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے گھر کے تمام کام اپنے مبارک ہاتھوں سے خود انجام دیتی تھیں۔ چکی پیسنے سے لے کر گھر کی صفائی تک، آپ سلام اللہ علیہا نے ہمیشہ گھریلو مشقت کو خوش اسلوبی سے برداشت کیا۔
ایثار اور سخاوت
قرآن مجید کی سورۂ دہر (سورۂ انسان) میں آپ سلام اللہ علیہا کے اہلِ خانہ کے ایثار کا ذکر موجود ہے، جب انہوں نے مسلسل تین دن تک اپنی اور اپنے بچوں کی افطاری مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلا دی اور خود صرف پانی پر گزارا کیا۔
3۔ اولاد کی تربیت
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ایسی عظیم نسل کی تربیت فرمائی جس نے قیامت تک کے لیے حق و باطل کا معیار قائم کردیا۔ آپ سلام اللہ علیہا کی آغوشِ تربیت میں پرورش پانے والی عظیم ہستیوں میں شامل ہیں:
- امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام (حلم و بردباری اور صلح کے پیکر)
- امام حسین علیہ السلام (کربلا کے سالار اور حریت کے استعارہ)
- حضرت زینب سلام اللہ علیہا (خطابت اور صبر و استقامت کی پیکر)
- حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا
ان کی تربیت نے ثابت کر دیا کہ ایک ماں کس طرح اپنے بچوں کو دین، اخلاق اور انسانیت کی سربلندی کے لیے قربانی دینے کا درس دے سکتی ہے۔
4۔ سیرتِ طیبہ اور ہمارے لیے سبق
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیاتِ مبارکہ دنیا بھر کی خواتین بالخصوص امتِ مسلمہ، کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں درج ذیل امور کا درس دیتی ہے:
عفت و حیا
آپ سلام اللہ علیہا نے پردے اور حیا کی ایسی اعلیٰ مثال قائم کی جو قیامت تک خواتین کے لیے نمونۂ عمل ہے۔
عبادت و بندگی
راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنا اور پروردگار کی رضا پر راضی رہنا آپ سلام اللہ علیہا کا شیوہ تھا۔
صبر و استقامت
مصائب و آلام کے طوفان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا اور اس کے فیصلوں پر صبر کرنا آپ سلام اللہ علیہا کی زندگی کا نمایاں وصف تھا۔
5۔ اختتام
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ عورت محض ایک صنف نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح، اخلاقی اقدار کی سربلندی اور صبر و استقامت کا ایک عظیم مرکز ہے۔ آپ سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرکے ہم نہ صرف اپنی دنیا سنوار سکتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
سلام ہو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر اور آپ کی پاکیزہ سیرت پر!










آپ کا تبصرہ