جمعہ 6 نومبر 2026 - 20:16
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات خیر، برکت اور رحمتِ الٰہی کا سرچشمہ ہے: مولانا سید علی عباس حائری

حوزہ/ امام جمعہ گوراباد شاہ پور، جونپور، مولانا سید علی عباس حائری نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرتِ مبارکہ تقویٰ، ایثار، عبادت اور خدمتِ خلق کا کامل نمونہ ہے۔ ہمیں آپؑ کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی میں خیر، برکت اور رحمت کے عملی نمونے پیش کرنے چاہئیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش کے ضلع جونپور کے علاقے گوراباد شاہ پور میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران مولانا سید علی عباس حائری نے تقوائے الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ صرف انفرادی عبادت تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی پوری زندگی کو نیکی، خیر اور رحمت کا ذریعہ بنانے کا نام ہے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان «أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے نیک انسانوں کی ایک نمایاں پہچان نیک اعمال انجام دینا قرار دی ہے۔ اس اعتبار سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی تقویٰ، عبادت، ایثار، معرفت اور خدمتِ انسانیت کا بہترین نمونہ ہے۔

انہوں نے سورۂ کوثر کی آیت «إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ» کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں کوثر کے اہم مصادیق میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا ذکر ملتا ہے۔ آپؑ کی ذات سے نسلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تسلسل، سلسلۂ امامت کا قیام اور علم و ہدایت کی روشنی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپؑ خیر و برکت کا دائمی سرچشمہ ہیں۔

امام جمعہ گوراباد شاہ پور نے مزید کہا کہ رحمت صرف شفقت اور مہربانی کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کی ضرورت محسوس کرنا، ان کی مشکلات دور کرنا اور انہیں سعادت کی راہ دکھانا بھی رحمت کا حصہ ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کو ترجیح دی۔ قرآن کریم نے سورۂ دہر میں آپؑ اور آپؑ کے اہل خانہ کے ایثار کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا»۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی رحمت انسان کو اپنی ذات سے بلند ہوکر دوسروں کے دکھ درد اور ضروریات کا احساس کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے۔

مولانا سید علی عباس حائری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ آج معاشرے کو ایسے کردار کی ضرورت ہے جو خیر پیدا کرے، برکت کو فروغ دے اور رحمت عام کرے۔ اگر ہمارے گھروں میں ایثار، معاشرے میں خدمتِ خلق اور انفرادی زندگی میں عبادت و تقویٰ کو فروغ ملے تو یہی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حقیقی معرفت اور پیروی ہوگی۔ ہمیں خود نیکی کرنے کے ساتھ دوسروں تک بھی خیر پہنچانے اور اپنے کردار کے ذریعے رحمتِ الٰہی کا مظہر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha