جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 20:02
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے باطل کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی؛ ان کی جدوجہد آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے: حجۃ الاسلام محمد معصوم علی

حوزہ/ میانمار کے شہر رنگون کی مغول شیعہ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت و جدوجہد کو اسلامی معاشرے کی اصلاح، غلط رسم و رواج کے خلاف آواز اٹھانے اور حق و ولایت کے دفاع کا روشن نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد پیدا ہونے والے انحرافات کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ اپنے خطبات اور دلائل کے ذریعے امت کو حقائق سے آگاہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،رنگون-میانمار/میانمار کے شہر رنگون کی مغول شیعہ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں اور غلط رویوں کے مقابلے میں خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ اپنے خطبات، دلائل اور عملی جدوجہد کے ذریعے حق کی وضاحت کی اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کا دفاع کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؑ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر، امام علی علیہ السلام کی زوجہ اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام کی والدہ نہیں تھیں، بلکہ آپؑ نے اسلامی معاشرے کی اصلاح، دینی اقدار کے تحفظ اور حق کے دفاع میں ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ آپؑ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حق کا معیار لوگوں کی اکثریت، معاشرے میں رائج رسم و رواج یا اقتدار نہیں، بلکہ قرآن، عدل اور الٰہی ہدایت ہے۔

غلط رسم و رواج کے مقابلے میں حق کی پیروی ضروری ہے

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے موجودہ معاشرتی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات غلط رسم و رواج اس قدر عام ہو جاتے ہیں کہ لوگ انہیں درست سمجھنے لگتے ہیں اور ان پر سوال اٹھانے کی جرأت بھی نہیں کرتے، حالانکہ کسی بات کا معاشرے میں رائج ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر رسم اور روایت کو قرآن، عقل، انصاف اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم نے انسان کی عزت و برتری کا معیار مال و دولت، عہدہ، خاندانی تعلق یا سیاسی طاقت کے بجائے تقویٰ کو قرار دیا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی بھی اسی حقیقت کی روشن مثال ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے ایمان، علم، کردار اور حق سے وفاداری میں ہے۔

خطبۂ جمعہ میں انہوں نے خواتین کے مقام و مرتبے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے علم، عبادت، شجاعت اور بصیرت سے ثابت کیا کہ مسلمان خواتین بھی تعلیم، تربیت، معاشرتی اصلاح اور حق کے دفاع میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آپؑ کی زندگی آج کی خواتین کے لئے علم، شعور اور ذمہ داری کا بہترین نمونہ ہے۔

ولایتِ امام علیؑ کا دفاع، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی جدوجہد کا اہم پہلو

خطیبِ جمعہ نے اپنے خطاب کے ایک اہم حصے میں ولایت و امامت کی قرآنی اہمیت بیان کرتے ہوئے آیتِ ولایت، آیتِ تبلیغ اور آیتِ اولی الامر کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام میں امامت محض حکومت اور سیاسی قیادت کا نام نہیں، بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دین کی صحیح رہنمائی اور الٰہی تعلیمات کی حفاظت کا سلسلہ ہے۔

انہوں نے واقعۂ غدیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فرمایا تھا۔ آپؐ کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے امام علی علیہ السلام کے حق اور مقام کا دفاع کیا۔ یہ محض ایک خاندانی معاملہ نہیں تھا، بلکہ دین کی رہنمائی، عدل اور امامت کے تحفظ کا مسئلہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب معاشرے میں حق سے انحراف ہو تو اہلِ ایمان کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے علم، حکمت، اخلاق اور دلیل کے ساتھ حق کا ساتھ دینا چاہئے۔

خطبۂ فدکیہ؛ صرف فدک نہیں، پورے اسلامی معاشرے کی اصلاح کا پیغام

حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے خطبۂ فدکیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے معاملے میں اپنا حق پیش کرنے کے لئے مسجد نبوی میں مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کیا اور قرآن کریم کی آیات اور مضبوط دلائل کے ذریعے اپنا موقف واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ خطبۂ فدکیہ کو صرف فدک یا مالی اختلاف کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے، کیونکہ اس میں توحید، نبوت، اسلامی احکام کی حکمت، عدل، اہل بیت علیہم السلام کے حقوق، امامت اور معاشرے کی ذمہ داریوں جیسے اہم موضوعات بھی بیان ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس خطبے میں واضح کیا کہ دین داری صرف نماز، روزے اور مذہبی تقریبات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اصل اثر انسان کے کردار، معاشرتی رویوں، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں نظر آنا چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے حق کے دفاع میں قرآن کریم کی ان آیات سے بھی استدلال کیا جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث ہونے اور حضرت زکریا علیہ السلام کی اپنے وارث کے لئے دعا کا ذکر ہے۔ اس طرح آپؑ نے میراث کے مسئلے پر قرآن کی روشنی میں اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فدک کے معاملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا ذکر شیعہ اور اہل سنت دونوں کی تاریخی و حدیثی کتابوں میں ملتا ہے۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی خاموشی نہیں، ان کا احتجاج بھی تاریخ کا حصہ ہے

خطیبِ جمعہ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شبانہ تدفین اور وصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی روایات میں آپؑ کی تدفین رات کے وقت کئے جانے اور بعض افراد کو اس کی اطلاع نہ دیئے جانے کا ذکر موجود ہے۔ مکتبِ تشیع میں اس واقعے کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد پیش آنے والے حالات پر آپؑ کے احتجاج اور ناراضگی کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر کا مقام آج بھی نامعلوم ہے اور یہ بات تاریخ میں آپؑ کی مظلومیت کی یاد دلاتی ہے۔ آپؑ کی زندگی اور آپ کے آخری ایام کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ حق کے دفاع میں اختیار کیا گیا ایک مضبوط موقف آنے والی نسلوں کے لئے بھی پیغام بن جاتا ہے۔

آج کے معاشرے کے لئے سیرتِ فاطمی کا پیغام

اپنے خطاب کے آخری حصے میں حجۃ الاسلام محمد معصوم علی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی سے حاصل ہونے والے عملی اسباق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہر پرانی رسم کو آنکھ بند کرکے قبول کرنے کے بجائے قرآن، عقل اور انصاف کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا چاہئے۔ حق کا دفاع ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر کرنا چاہئے اور خواتین کو علم، تربیت اور معاشرتی اصلاح کے میدان میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ناانصافی کے سامنے خاموشی اختیار کر لی جائے، بلکہ باہمی احترام برقرار رکھتے ہوئے تاریخی اور اعتقادی اختلافات پر علمی اور دلیل کے ساتھ گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح نئی نسل کو تاریخ اسلام کے مستند مطالعے کی ترغیب دینا اور ان میں حق و باطل کی پہچان پیدا کرنا بھی ہماری اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے والدین کو متوجہ کیا کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کریں کہ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، مطالعے کا شوق، حق کی پہچان، دوسروں کا احترام اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ پیدا ہو۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر عمل کرنے، اہل بیت علیہم السلام کی ولایت سے وابستہ رہنے اور معاشرے میں حق و انصاف کے فروغ کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha