حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا محمد زکاء الحسن نے خطبۂ اول میں تقویٰ الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے قرآنی تعلیمات میں خواتین کے مقام و مرتبہ اور بالخصوص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و فضیلت پر گفتگو کی۔
انہوں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے عمومی اور خصوصی فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو الٰہی ہدایت، پاکیزگی، معرفت اور بندگی کا کامل نمونہ قرار دیا۔
خطیب جمعہ نے ایامِ فاطمیہ (س) کی مناسبت سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیاتِ طیبہ اور مقامِ عصمت و طہارت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا اور اس امر پر روشنی ڈالی کہ آپ سلام اللہ علیہا کی سیرت محض تاریخی مطالعہ کا موضوع نہیں بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لیے ہدایت اور عملی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
مولانا محمد زکاء الحسن نے اپنے خطاب میں ظہورِ اصغر اور ظہورِ اکبر کے موضوع کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے غیبتِ صغریٰ اور غیبتِ کبریٰ کی مثالوں کے ذریعے ظہورِ اصغر اور ظہورِ اکبر کے مفاہیم اور ان کے باہمی فرق کو تفصیل سے بیان کیا تاکہ سامعین ان اعتقادی مباحث کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

خطبۂ دوم میں مولانا محمد زکاء الحسن نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت اور تنہائی کے تاریخی و اعتقادی پہلوؤں کو موضوعِ سخن بنایا۔ انہوں نے یہ اہم سوال اٹھایا کہ وہ کون سے اسباب تھے جن کی بنا پر امت نے ان عظیم ہستیوں کو تنہا چھوڑ دیا؟ جبکہ ان کا مقام و مرتبہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کا قرب کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔
انہوں نے اس ضمن میں اس سوال کا بھی جائزہ لیا کہ بنو ہاشم میں سے دیگر شخصیات، بالخصوص جناب عباس اور جناب عقیل علیہما السلام کی موجودگی کے باوجود امیرالمؤمنین علیہ السلام کو کس نوعیت کے حالات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی نصرت کے حوالے سے تاریخی صورتِ حال کیا تھی۔
خطیب جمعہ نے ان موضوعات کی وضاحت کے لیے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ارشادات سے استفادہ کیا اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اس تاریخی جملے کی تشریح کی: «روحی لروحک الفداء ونفسی لنفسک الوقاء یا أبا الحسن، إن کنت فی خیر کنت معک، وإن کنت فی شر کنت معک» یعنی: اے ابوالحسن! میری جان آپ پر فدا اور میری جان آپ کی جان کے لیے سپر ہے؛ اگر آپ خیر و آسائش میں ہوں گے تو میں آپ کے ساتھ ہوں گی اور اگر آپ مشکلات و مصائب میں ہوں گے تو بھی آپ کے ساتھ رہوں گی۔

مولانا محمد زکاء الحسن نے اس فرمان کی روشنی میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی اپنے شوہر اور امامِ وقت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ وفاداری، بے مثال ایثار، محبت اور استقامت کے پہلوؤں کو واضح کیا۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو دفاعِ ولایت و امامت کا عظیم اور ناقابلِ فراموش نمونہ قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ آپ سلام اللہ علیہا نے نامساعد حالات میں بھی ولایت و امامت کے دفاع سے دست برداری اختیار نہیں کی۔
خطباتِ جمعہ کے اختتامی حصے میں مولانا محمد زکاء الحسن نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت، آپ سلام اللہ علیہا کی جدوجہد اور دفاعِ ولایت کے سلسلے میں پیش آنے والے مصائب کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایامِ فاطمیہ (س) کے تناظر میں حاضرین کو اہل بیت اطہار علیہم السلام کی سیرت و تعلیمات سے وابستگی، ولایت و امامت کی معرفت اور ان مقدس ہستیوں کے کردار کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت کی جانب متوجہ کیا۔










آپ کا تبصرہ