بدھ 4 نومبر 2026 - 15:29
حضرت فاطمہ زہراؑ کی عظمت و فضیلت کا اعتراف شیعہ و اہل سنت علماء سبھی نے کیا ہے، مولانا سید نقی مہدی زیدی

حوزہ/ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر میں مولانا نقی مہدی زیدی کے زیرِ اہتمام سلسلہ وار دروسِ ’’فاطمہ شناسی‘‘ جاری ہیں، جن میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت، فضائل، علمی و روحانی مقام اور تاریخِ اسلام میں آپ کے کردار کو مختلف علمی و تاریخی پہلوؤں سے بیان کیا جا رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا نقی مہدی زیدی نے ’’جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا شیعہ و اہل سنت علماء کی نظر میں‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت صرف شیعہ علماء کے نزدیک ہی مسلم نہیں، بلکہ اہل سنت کے ممتاز علماء و محدثین نے بھی آپ کے فضائل پر مستقل کتابیں اور مقالات تحریر کیے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر مسلم دانشوروں نے بھی آپ کی شخصیت اور عظمت کا اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ امام خمینیؒ کے اقوال نقل کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو خاندانِ وحی کا باعثِ افتخار قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ آپ کی شخصیت ایسی عظیم ہے کہ اہل بیت علیہم السلام اور دیگر اہل علم نے اپنے فہم و ادراک کے مطابق آپ کے فضائل بیان کیے ہیں، لیکن آپ کی حقیقی منزلت کا حق ادا نہیں ہوسکا۔ امام خمینیؒ نے آپ کو ایک ملکوتی مخلوق قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام انسانی، معنوی اور الٰہی کمالات آپ کی ذات میں جلوہ گر ہیں۔

اسی طرح رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی تمام انسانیت، بالخصوص خواتین و مردوں کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ آپ کی عفت، تقویٰ، مجاہدت، سیاسی بصیرت، سماجی شعور، تربیتِ اولاد اور ازدواجی زندگی کے تمام پہلو انسانوں کے لیے عملی اسباق رکھتے ہیں۔ آپ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ پوری بشریت کے لیے آئیڈیل ہیں۔

مولانا نقی زیدی نے آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی، آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائیگانی اور آیت اللہ جوادی آملی کے اقوال بھی بیان کیے اور واضح کیا کہ ان علماء کے نزدیک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام و مرتبہ انسانی تصور اور الفاظ کی حدود سے بالاتر ہے۔ شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری نے سورۂ کوثر کی تفسیر میں آپ کو خیرِ کثیر کا مصداق اور انسانیت کے لیے جاوداں نمونہ قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر علی شریعتی نے اپنی معروف کتاب ’’فاطمہ فاطمہ ہے‘‘ میں آپ کی مستقل اور بے مثال شخصیت کو اجاگر کیا ہے۔

درس میں اہل سنت علماء کے اعترافات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ امام احمد بن حنبل اور امام بخاری نے اپنی کتب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ احادیث نقل کی ہیں جن میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو جنت کی خواتین کی سردار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جگر گوشہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ابن حجر عسقلانی، حاکم نیشاپوری اور فخر رازی نے بھی اپنی تصانیف میں آپ کے فضائل اور مقام و منزلت کو بیان کیا ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کی کتاب ’’الدر البیضاء فی مناقب فاطمہ زہرا‘‘ اور علامہ محمد اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کو تمام زمانوں کی خواتین کے لیے اعلیٰ ترین نمونۂ عمل قرار دیا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں آپ کی نسبتِ رسول، زوجۂ امیرالمؤمنین اور مادرِ امام حسین علیہم السلام ہونے کو آپ کی عظمت کے نمایاں پہلوؤں کے طور پر پیش کیا ہے۔

درس کے تیسرے حصے میں مولانا نقی مہدی زیدی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ شیخ طوسی نے اپنی کتاب ’’مصباح‘‘ میں آپ کی ولادت 20 جمادی الثانی کو جمعہ کے دن نقل کی ہے، البتہ سالِ ولادت کے حوالے سے روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپ کی ولادت بعثت کے دوسرے سال، جبکہ بعض کے مطابق پانچویں سال ہوئی۔

انہوں نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چالیس روزہ خلوت و عبادت، جنتی طعام تناول فرمانے اور اس کے بعد حضرت خدیجہ کے گھر تشریف لے جانے کا واقعہ بیان کیا۔ روایات کے مطابق اسی موقع پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نورِ وجود حضرت خدیجہ کے شکم میں منتقل ہوا۔ دورانِ حمل آپ اپنی والدہ سے گفتگو کرکے انہیں تسلی دیتی تھیں۔ ولادت کے وقت حضرت سارہ، حضرت آسیہ، حضرت مریم اور حضرت کلثوم سلام اللہ علیہن تشریف لائیں اور آپ کی ولادت میں مدد فرمائی۔

مولانا زیدی نے مزید کہا کہ روایات کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کے وقت آپ کے نور سے مکہ کے مکانات اور اطراف روشن ہوگئے اور آپ نے ولادت کے فوراً بعد کلمۂ توحید، رسالتِ رسول اکرم اور ولایتِ امیرالمؤمنین علیہم السلام کی گواہی دی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کسی ایک مسلک یا طبقے تک محدود نہیں، بلکہ آپ کی عظمت، علمی و روحانی مقام اور سیرت کا اعتراف مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء نے کیا ہے۔ آپ کی زندگی اور تعلیمات آج بھی پوری انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha