حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سیّد نقی مھدی زیدی امام جمعہ تارا گڑھ اجمیر نے مسجد محمدی میں نماز عید الفطر کے خطبے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ: عید الفطر کے اس پر مسرت موقع پر خصوصاً امام زمانہ (عج) اور پوری امت مسلمہ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ سب اس مبارک موقع پر غزہ، فلسطین، لبنان، یمن اور تمام مظلوم مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش نہ کریں اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان سے یکجہتی کا اظہار کریں۔
انہوں نے کہا کہ: معصومین علیہم السلام کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عید فطر اعمال اور عبادات کا انعام حاصل کرنے کا دن ہے اس لئے مستحب ہے کہ اس دن بہت زیادہ دعا کی جائے، خدا کی یاد میں رہا جائے، لاپرواہی نہ کی جائے اور دنیا اور آخرت کی نیکی طلب کی جائے، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام عید الفطر کے دن کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو کھیل کود اور ہنسی مذاق میں مشغول تھے۔ آپ وہیں رک گئے اور فرمایا: "اللہ نے ماہِ رمضان کو اپنے بندوں کے لیے ایک میدانِ مقابلہ بنایا ہے، تاکہ وہ اس میں نیکیوں کے ذریعے اس کی رضا کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔ پس کچھ لوگ آگے بڑھے اور کامیاب ہو گئے، جب کہ کچھ پیچھے رہ گئے اور نقصان اٹھا بیٹھے۔ تعجب ہے، بہت زیادہ تعجب ہے اس شخص پر جو اس دن ہنسنے اور کھیلنے میں لگا ہوا ہے، جس دن نیک افراد کو ان کی نیکیوں کا انعام مل رہا ہے اور گناہگار نقصان اٹھا رہے ہیں! خدا کی قسم! اگر پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ نیک افراد اپنی نیکیوں میں مشغول ہے اور بدکار اپنی برائیوں میں گرفتار ہے۔" یہ کہہ کر آپ آگے بڑھ گئے۔
خطیب جمعہ تارا گڑھ نے کہا کہ: عید کی نماز کے قنوت میں پڑھتے ہیں: "... اسئلک بحق ھذا الیوم الذى جعلتہ للمسلمین عیدا و لمحمد صلى اللہ علیہ و آلہ ذخرا و شرفا و کرامۃ و مزیدا ان تصلى على محمد و آل محمد و ان تدخلنى فى کل خیر ادخلت فیہ محمدا و آل محمد و ان تخرجنى من کل سوء اخرجت منہ محمدا و آل محمد، صلواتک علیہ و علیہم اللہم انى اسالک خیر ما سئلک عبادک الصالحون و اعوذ بک مما استعاذ منہ عبادک المخلصون"، بار الھا ! اس دن کے واسطے جسے مسلمانوں کےلئے عید اور محمد صلیٰ اللہ علیہ والہ کے لئے شرافت، کرامت اور فضیلت کا ذخیرہ قرار دیا ہے، تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد و آل محمد پر درود بھیج اور مجھے اس خیر میں شامل فرما جس میں محمد و آل محمد کو شامل فرمایا ہے اور مجھے ہر بدی سے نکال دے جن سے محمد و آل محمد کو نکالا۔ ان پر آپ کا درود وسلام ہو، خدایا تجھ سے وہی کچھ مانگتا ہوں جو تیرے نیک بندے تجھ سے مانگتے ہیں، اور تجھ سے ان چیزوں سے پنا ہ مانگتا ہوں کہ جن سے تیرے مخلص بندے پناہ مانگتے تھے، خداوند متعال ہم سب کو اس دن نیک اعمال کرنے اور معصیت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
امام جمعہ تارا گڑھ نے کہا کہ: عید فطر کے سلسلہ میں وارد ہونے والی حدیثوں اور روایتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان سب کو یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "فإِذَا کَانَتْ لَیْلَةُ الْفِطْرِ وَ هِیَ تُسَمَّی لَیْلَةَ الْجَوَائِزِ أَعْطَی اللَّهُ الْعَاملینَ أَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ فَإِذَا کَانَتْ غَدَاةُ یَوْمِ الْفِطْرِ بَعَثَ اللَّهُ الْمَلَائِکَةَ فِی کُلِّ الْبِلَادِ فَیَهْبِطُونَ إِلَی الْأَرْضِ وَ یَقِفُونَ عَلَی أَفْوَاهِ السِّکَکِ فَیَقُولُونَ یَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اخْرُجُوا إِلَی رَبٍّ کَرِیمٍ یُعْطِی الْجَزِیلَ وَ یَغْفِرُ الْعَظِیمَ ، فَإِذَا بَرَزُوا إِلَی مُصَلَّاهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِلْمَلَائِکَةِ مَلَائِکَتِی مَا جَزَاءُ الْأَجِیرِ إِذَا عَمِلَ عَمَلَهُ قَالَ فَتَقُولُ الْمَلَائِکَةُ إِلَهَنَا وَ سَیِّدَنَا جَزَاؤُهُ أَنْ تُوَفِّیَ أَجْرَهُ قَالَ فَیَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَإِنِّی أُشْهِدُکُمْ مَلَائِکَتِی أَنِّی قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَهُمْ عَنْ صِیَامِهِمْ شَهْرَ رَمَضَانَ وَ قِیَامِهِمْ فِیهِ رِضَایَ وَ مَغْفِرَتِی وَ یَقُولُ یَا عِبَادِی سَلُونِی فَوَ عِزَّتِی وَ جَلَالِی لَا تَسْأَلُونِّی الْیَوْمَ فِی جَمْعِکُمْ لِآخِرَتِکُمْ وَ دُنْیَاکُمْ إِلَّا أَعْطَیْتُکُمْ وَ عِزَّتِی لَأَسْتُرَنَّ عَلَیْکُمْ عَوْرَاتِکُمْ مَا رَاقَبْتُمُونِی وَ عِزَّتِی لَآجَرْتُکُمْ وَ لَا أَفْضَحُکُمْ بَیْنَ یَدَیْ أَصْحَابِ الْخُلُودِ انْصَرِفُوا مَغْفُوراً لَکُمْ قَدْ أَرْضَیْتُمُونِی وَ رَضِیتُ عَنْکُمْ
قَالَ فَتَفْرَحُ الْمَلَائِکَةُ وَ تَسْتَبْشِرُ وَ یُهَنِّئُ بَعْضُهَا بَعْضاً بِمَا یُعْطِی اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ إِذَا أَفْطَرُوا"، جب عید فطر کی رات کہ جسے انعامات کی رات کہا جاتا ہے، آتی ہے تو اللہ عمل کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر عطا فرماتا ہے اور جب عید فطر کی صبح آتی ہے تو اللہ تمام شہروں میں فرشتوں کو بھیجتا ہے، پس وہ زمین پر اتر کر گلیوں کے کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں: اے محمد (ص) کی امت والو! نکلو کریم پروردگار کے لئے کہ وہ بہت جزا د یتا ہے اور بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ پس جب (امتی) نماز عید (ادا کرنے کے لئے) اس کے مقام پہ پہنچ جاتے ہیں تو اللہ عز و جل فرشتوں سے فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! جب کام کرنے والا، پورا کام کردے تو اس کی جزا کیا ہوتی ہے؟ پس فرشتے جواب دیتے ہیں: اے ہمارے معبود اور سید و آقا، اس کی جزا یہ ہے کہ اسے مکمل اجر عطا کرے۔ پس اللہ فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ماہ رمضان میں ان (بندوں) کے صیام و قیام (نماز و روزہ) کا ثواب اپنی رضا و خوشنودی اور بخشش و مغفرت کو قرار دیا ہے۔ پھر اللہ (اپنے بندوں سے خطاب کر کے) فرماتا ہے: اے میرے بندو! مجھ سے سوال کرو، پس اپنی عزت و جلال کی قسم کہ آج اس اجتماع میں تم اپنی آخرت اور دنیا سے متعلق جو بھی طلب کروگے، میں ضرور عطا کروں گا، اور اپنی عزت کی قسم جب تک تم مجھے اپنا محافظ قرار دو گے اور مجھ سے ڈرتے رہو گے، میں تمھارے عیبوں کو چھپاتا رہوں گا اور اپنی عزت کی قسم میں تمھیں عذاب سے پناہ دوں گا اور جو لوگ ھمیشہ جہنم میں رہنے والے ہیں ان کے سامنے تمھیں رسوا نہیں کروں گا۔ (اب) پلٹ جاؤ (اپنے گھروں کی طرف) کہ تمھیں بخش دیا گیا ہے، تم نے مجھے خوش کیا ہے، میں تم سے خوش ہوں۔ رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: پس (یہ سن کر) فرشتے خوش ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو بشارت اور تہنیت پیش کرتے ہیں، اللہ کے اس فضل و کرم پر جو اس نے ماہ رمضان کے خاتمہ پر اس امت کو عنایت فرمایا ہے۔ حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ"انما ھو عید لمن قبل اللہ صیامہ و شکر قیامہ ، و کل یوم لا یعصی اللہ فیہ فھو عید"، عید فقط اس کے لئے ہے کہ اللہ نے جس کے روزوں اور اس کے قیام(نماز) کو قبول فرما لیا ہو اور ہر وہ دن، جس میں اللہ کی معصیت و نافرمانی نہ کی جائے، روز عید خوشی منانے کا حق فقط اسے ہے جس نے ماہ رمضان کو صیام و قیام (نماز و روزہ) کے عالم میں اس طرح گزارا ہو، کہ اس کی یہ سعی و کوشش بارگاہ الہی میں قبول ہونے کے لائق قرار پا گئی ہو، حقیقت میں عید اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے تشکیل پاتی ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے مزین کر کے انسان اپنی زندگی کے ہر دن کو "روز عید" بنا سکتا ہے، واقعی کامیاب انسان وہ ہے جو اپنی زندگی کے ہر دن کو روز عید بنا ڈالے، جب کہ ناکام وہ ہے کہ جو اپنے پروردگار کی بنائی ہوئی عید کو بھی اس کی نافرمانی کر کے اپنے لئے عید نہ رہنے دے۔
حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا "ألاَ وَ إِنَّ هَـــذَا اَلْيَـــوْمَ يَـــوْمٌ جَعَلَـــهُ اَللَّهُ لَكُـــمْ عِيـــداً وَ جَعَلَـــكُمْ لَـــهُ أَهْـــلاً فَـاذْكُرُوا اَللَّهَ يَـذْكُرْكُـــمْ وَ اُدْعُـــوهُ يَسْتَجِـــبْ لَكُـــمْ وَ أَدُّوا فِطْرَتَكُـــمْ فَإِنَّهَـــا سُنَّـــةُ نَبِيِّكُـــمْ وَ فَرِيضَـــةٌ وَاجِبَـــةٌ مِـــنْ رَبِّكُـــمْ،" آگاہ رہو کہ آج وہ دن ہے جسے خدا نے تمہارے لئے عید کا دن قرار دیا ہے، اور تم کو اس کا اہل بنایا ہے، لہٰذا خدا کو یاد کرو تاکہ خدا بھی تمہیں یاد رکھے، اور اس سے دعا مانگو تاکہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے، اپنا فطرہ دو، کہ یہ تمہارے نبی کی سنّت ہے، اور تمہارے پروردگار کی جانب سے واجب قرار دیا گیا ہے۔
مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا: عید الفطر جشن کا دن ہے اپنے خواہشات نفس پر کامیابی کا جشن، شیطان پر کامیابی کا جشن، خداوند عالم کے احکام پر عمل کرنے کا دن، یہ وہ چیزیں ہیں جس پر ماہ رمضان میں مؤمن نے عمل کیا ہے، تلاوت قرآن، انفاق، صدقہ، حسن خلق، صلہ رحم، بڑوں کا احترام، عید فطر ان چیزوں کا جشن منانے کا دن ہے، جہاں ہم مل کر عید مناتے ہیں وہاں ہمیں ان خوشیوں میں تمام طبقات میں بسنے والے لوگوں کو محروم اور غریب نادار لوگوں کو ان خوشیوں میں شامل کرنا سنت پیغمبر اسلام صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور معصومین علیہم السلام ہے۔
انہوں نے مزید نے کہا کہ: آج دنیا جن حالات کا شکار ہے اس میں لوگوں کو اپنے حقوق سے محرومی اور ناامیدی کا سامنا ہے۔ اسی طرح غربت و افلاس اور دھشت گردی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے جس کی بڑی وجہ حکمرانوں کی عدم توجہ ہے، معاشرے میں خوشحالی تب ہی ممکن ہے کہ ہم اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کو شریعت محمدی (ص) کے تابع کریں اور سیاست علوی کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔
آپ کا تبصرہ