اتوار 30 مارچ 2025 - 06:31
عید الفطر اور اس کی برکات

حوزہ/ عید الفطر مسلمانوں کے لیے خوشی، عبادت، اتحاد اور نیکیوں میں اضافہ کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی خوشی اللہ کے احکامات پر عمل کرنے، دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔

تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی | عید الفطر اسلامی سال کی دو بڑی عیدوں میں سے ایک ہے جو رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے۔ یہ دن اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے، خوشی منانے اور غریبوں و محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ عید الفطر کو "یوم الجائزہ" یعنی انعام کا دن بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس روز اللہ اپنے نیک بندوں کو رمضان کے روزوں اور عبادات کا اجر عطا فرماتا ہے۔

عید الفطر اسلامی تعلیمات پر مبنی ایک مقدس دن ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے خصوصی اہمیت دی۔ اس دن کی سب سے نمایاں خصوصیت صدقہ فطر کی ادائیگی ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب ہے تاکہ غریب اور نادار افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: عید کا دن وہ ہے جس میں لوگ جمع ہوں، خدا کی حمد و ثنا کریں، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اس سے مزید فضل و کرم طلب کریں۔(الکافی، ج 4، ص 168)

عید الفطر کے مستحب اعمال میں فطرہ کا دا کرنا:عید کی نماز سے قبل ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زکات فطر واجب ہے، تاکہ ضرورت مند افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: روزہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ زکات فطر ادا نہ کیا جائے۔(وسائل الشیعہ، ج 6، ص 221)نمازعید کا پڑھنا:عید کی صبح مخصوص تکبیروں کے ساتھ نماز ادا کی جاتی ہے، جو اللہ کی کبریائی اور شکر گزاری کا اظہار ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:عید کا دن اللہ کے ذکر، دعا اور محتاجوں کی مدد کے لیے ہے۔(نہج البلاغہ، خطبہ 110)غسل اور عمدہ لباس پہننا: عید کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور اچھے کپڑے پہننا مستحب عمل ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص عید کے دن خوشبو لگائے اور عمدہ لباس پہنے، اللہ اسے قیامت کے دن بہترین لباس عطا کرے گا۔(مستدرک الوسائل، ج 6، ص 191)زیارتِ امام حسینؑ کا پڑھنا:عید الفطر کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا بہت زیادہ ثواب ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص عید کے دن امام حسینؑ کی زیارت کرے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو اللہ کے عرش کے نیچے عبادت کر رہا ہو۔ (کامل الزیارات، ص 174)ایک دوسرے کو مبارکباد دینا: عید کے موقع پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور محبت و اخوت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔محتاجوں اور ناداروں کی مدد: عید کے دن زکات، خیرات اور صدقات کے ذریعے ناداروں کی مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

عید الفطرکا روز بے شمار روحانی، سماجی اور اخلاقی برکات کا حامل ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں: اللہ کی رضا کا حصول: رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل پر اللہ کی جانب سے مغفرت اور رحمت کا نزول ہوتا ہے۔امت مسلمہ میں اتحاد: عید کا دن مسلمانوں کو یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ سماجی ہم آہنگی: زکات الفطر اور دیگر خیرات کے ذریعے معاشرتی ناہمواریوں کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ روحانی سکون: رمضان میں کی گئی عبادات کا اجر اللہ کی طرف سے ملتا ہے، جو قلبی اور روحانی اطمینان کا باعث بنتا ہے۔اللہ کی خاص مغفرت: امام علی زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں: عید کے دن کا پہلا لمحہ ہی اللہ کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے مغفرت کا لمحہ ہوتا ہے۔ (صحیفہ سجادیہ، دعا 45)

عید الفطر مسلمانوں کے لیے خوشی، عبادت، اتحاد اور نیکیوں میں اضافہ کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی خوشی اللہ کے احکامات پر عمل کرنے، دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونے اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے میں ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق، عید الفطر امام زمانہؑ کی خوشنودی حاصل کرنے، اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے، اپنے مرحومین کو یاد کرنے اور ایصال ثواب کرنے اور مظلوموں کی مدد کا موقع ہے۔میں عالم اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتاہوں اور ربِ کریم سے دعا گو ہوں کہ ہمیں اس مبارک دن کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔والحمدللہ رب العالمین۔

والسلام

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • ضامن جعفری IN 19:33 - 2025/03/30
    آپ کو بھی عید مبارک اچھی معلومات ہیں حوزہ نیوز کی اچھی خدمات عمدہ تحریر اور قلم کاروں کے ساتھ