۳۰ اردیبهشت ۱۴۰۱ |۱۸ شوال ۱۴۴۳ | May 20, 2022
پارے

حوزہ/قرآن مجید کے تیس پاروں کا اجمالی جائزہ؛انتسویں پارے کا مختصر جائزه۔

حوزہ نیوزایجنسیl
ترتیب و تحقیق: سیدلیاقت علی کاظمی الموسوی

انتسویں پارے کا مختصر جائزه

انتسویں پارے کےچیدہ نکات

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١﴾سورة الملك

 واضح رہے کہ ملک خدا اور ساری دنیا کے اعتباری ملکوں میں علمی اعتبار سے یہ فرق ہے کہ سارے ملک فقطہ ایک فرض اور اعتبار کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ صاحب ملک اپنے ملک میں بھی ادنیٰ تبدیلی پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے اور ایک ذرہ کائنات کی حقیقت کو بھی متغیر نہیں کر سکتا ہے بلکہ اکثر اوقات خود ملک اپنے مالک میں تصرف کرتا ہے اور اسے بچے، جوان، بوڑھا، مریض اور مردہ بناتا رہتا ہے اور وہ کسی ایک بات کے ٹال دینے پر قادر نہیں ہوتا ہے لیکن ملک خدا کی حیثیت اس اسے بالکل مختلف ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کے سارے ملک اپنے حدوداربعہ سے پہچانے جاتے ہیں اور جہاں یہ حدود ختم ہو جاتے ہیں وہاں مملکت کا سلسلہ بھی تمام ہو جاتا ہے لیکن خدائی ملک بالکل غیر محدود ہے اور اس کی کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی ہے اس کا ملک اس کے اقتدار سے وابستہ ہے اور اس کے اقتدار کو محدود نہیں کیا جا سکتا ہے لہذا اس کا ملک بھی غیر محدود ہے ۔

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴿٢﴾ سورة الملك

 آیت کریمہ صاف صاف اعلان کر رہی ہے کہ نگاه پروردگار میں کثرت عمل کا کوئی معیارنہیں ہے بلکہ حسن عمل معیار ہے انسان کثرت عمل بہت آسانی سے پیدا کرسکتا ہے لیکن حسن عمل بہت مشکل کام ہے اس لئے کہ کثرت عمل کا تعلق تکرارعمل سے ہے اور حسن عمل کا تعلق اخلاص عمل سے ہے اور اخلاص عمل کا پیدا کر لینا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے وہ پیدا ہو جائے تو ایک ضربت بھی عبادت ثقلین سے بھاری ہو سکتی ہے مگر یہ شرف ہر ایک کو نصیب کہاں ’’ایں سعادت بزور باز و نیست ‘‘۔

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ﴿١٥﴾ سورة الملك

 انسان بظاہر یہ خیال کرتا ہے کہ زمین ساکن ہے اور وہ اس کی سطح پر آمد ورفت کر رہا ہے حالانکہ یہ دونوں باتیں حقیقت کے خلاف ہیں حقیقت کے اعتبار سے زمین متحرک ہے اور گول ہے لہذا انسان اس کی سطح پر نہیں چل رہا ہے بلکہ اس کے کناروں پر چل رہا ہے اس لئے که گول چیز میں کوئی برابر کی سطح نہیں ہوتی ہے صرف اطراف و جوانب اور کنارے ہوتے ہیں جنہیں انسان وسعت کی بنا پر مستوی خیال کرتا ہے قرآن مجید نے زمین کو رام ہو جانے والے جانور سے تشبیہ دے کہ اس کی حرکت کی طرف متوجہ کیا ہے اور کناروں پر چلنے کا حکم دے کر اس کی کرویت کو واضح کیا ہے اور یہ اس کی بلاغت کا شاہکار ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کر دیئے جن سے عالم اور جاہل دونوں برابر سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔

مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ﴿٢﴾ سورة القلم

 یہ آیت اور بعد کی آیات ولید بن مغیرہ کے طنز کا جواب ہیں کہ اس نے رسول اکرم1 کو دیوانہ کہہ دیا تھا تو قدرت نے اسے حلاف، مہین ، ہماز ، مشاءبنمیم ، مناع للخیر ، معتدی، اثیم،عتل اور زنیم تمام الفاظ سے یاد کیا ہے کہ یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہے اور سارے مذہب اور دین کا دارومدار نبی کی عقل کی صحت اور ان کے بیان کے وحی الٰہی ہونے ہی پر ہے؛ اس میں شیک پیدا ہو گیا تو مذہب پر اعتبار ہی نہ رہ جائے گا، آیات کریمہ سے اتنا ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ کسی نے پیغمبر کریم ؐکے دماغ پرحملہ کر دیا تھا تو قدرت نے قلم اور کتاب کا حوالہ دے کر صفائی دی ہے کہ پیغمبر1مجنون نہیں ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں قلم اور کتابت بھی کوئی مسئلہ ہے اور یہ کہ پیغمبر 1کے دماغ پر حملہ کرنے والا مذکورہ بالا القاب اور خطابات کا بھی مستحق ہوتا ہے  فتدبر ۔

إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ﴿١٧﴾ سورة القلم

 کہا جاتا ہے کہ ولید بن مغیرہ ایک دولت مند انسان تھا، اس کے پاس بہت سے باغات وغیرہ تھے اور انہیں کے غرور میں پیغمبر1 کی باتوں کا مذاق اڑایا کرتا تھا اور انہیں دیوانہ کہا کرتا تھا، قدرت نے توجہ دلائی کہ ہم ایسے افراد کا پہلے بھی امتحان لے چکے ہیں کہ جب ان میں اپنی طاقت کا غرور پیدا ہو گیا اور اپنے مال میں غریبوں کو شامل کرنا چھوڑ دیا تو ہم نے راتوں رات سارے باغ ختم کر دیئے اور صبح کوسب توبہ کرنے لگے، یہ ہمارا احسان تھا کہ ہم نے توبہ قبول کر لی اور ان پر یہ وا ضح کر دیا کہ ہمارے اقتدار سے باہر نکل جاتا ممکن نہیں ہے۔

 دور حاضر میں کتنے ہی ابن مغیرہ پائے جاتے ہیں جو دولت کے نشہ میں غرباء کو بھول جاتے ہیں اور الله کوبھی نظر انداز کر دیتے ہیں، قرآن مجید انہیں بھی متوجہ کر رہا ہے کہ ہم جس وقت چاہیں ساری نعمتیں واپس لے سکتے ہیں اور کسی میں انکار کرنے کا دم نہیں ہے ہم نے ساری نعمتیں آخرت میں صاحبان تقوی کیلئے رکھی ہیں اور کسی بدکار سے کسی بات کا وعدہ نہیں کیا ہے اور نہ کسی کتاب میں ایسی کوئی آیت نازل کی ہے کہ ہم ان کی ناز برداری کرتے رہیں گے، ہمارے یہاں صرف ایمان اور تقوی کی اہمیت ہے اور اس کا معیار بھی یہ ہے کہ انسان میں دولت کا غرور نہ پیدا ہو اور اپنے مال میں غرباء و مساکین کا بھی حصہ رکھے ورنہ برے انجام کے پیش آنے میں دیر نہیں لگتی ہے اور وہ کسی وقت بھی سامنے آ سکتا ہے اس وقت کوئی غرور کام آنے والا نہیں ہےاور سارا مال ایک مستقل وبال بن جائے گا۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ﴿٤٨﴾ سورة القلم

 ایک مبلغ کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ مصائب کو برداشت کرے اور نہ بددعا کرے اور نہ قوم سے کنارہ کشی کرے ، انہیں کے درمیان رہے اور ان کے مظالم کو برداشت کرتا رہے، اسی کی تعلیم قدرت نے اپنے حبیبؐ کو دی ہے اور اسی کی تعلیم پیغمبر 1نے اپنی قوم کے مبلغین کو عطا فرمائی ہے۔

وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿٣٤﴾ سورة الحاقة

 نگاه پروردگار میں مسکین اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ اس کو کھانا نہ کھلا تا خدا پر ایمان نہ لانے کے مرادف ہے اور اس کا عذاب اتنا سخت ہے کہ انسان زنجیر میں جکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے استغفر اللہ ۔

واضح رہے کہ یہ ان لوگوں کی سزا ہے جو لوگوں کو مسکینوں کے کھلانے پر آمادہ نہیں کرتے تھے تو جن کے پاس خدا کا دیا ہوا بے حساب تھا اور وہ اس میں سے راہ خدا میں انفاق نہیں کرتے تھے ان کا انجام کیا ہوگا یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔

سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ﴿١﴾ سورة المعارج

 تفسیر ثعلبی میں اس کی شان نزول یوں بیان ہوئی ہے کہ غدیر خم میں حضرت علیBکی ولایت کے اعلان کے بعد حارث بن نعمان فہری نے آکر کہا کہ یہ اعلان آپ1 نے اپنی طرف سے کیا ہے یا خدا کی طرف سے ہے آپ1نے فرمایا کہ خدا کی طرف سے ہے، اس نے کہا کہ خدایا اگر یہ سچے ہیں تو مجھ پر عذاب نازل کر دے، اور عذاب نازل ہو گیا کہ ایک پتھر گرا اور اس کے جسم میں داخل ہو کر نکل گیا اور یہ آیت نازل ہوئی  ۔

سوچیئے کیا بد نصیب تھا یہ انسان که دشمنیٔ علی نے اس قدر ر دیوانہ بنا دیا تھا کہ بجائے اس کے کہ مولا ماننے والوں کے بارے میں عذاب کا سوال کرتاخود اپنے بارے میں عذاب کا سوال کر دیا اور بالآخر تباہ و بر باد ہو گیا جو ہر دشمن  علیؑ کا آخری انجام ہوتا ہے ۔

وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ ﴿١٤﴾ سورة المعارج

قیامت کے دن کوئی کسی کے کام آنے والانہیں ہے اور صورت حال اس قدر سنگین  ہے کہ کل جن پر قربان ہو رہے تھے آج انہیں کو بطور فدیہ دے کر بچنا چاہتے ہیں لیکن بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے اور جہنم ایک ایک کو آواز دے رہا ہے اور تپش کا یہ عالم ہے کہ ایک کھال اتر جاتی ہے تو دوسری تیار کر دی جاتی ہے اور مسلسل عذاب کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سب اس بات کی سزا ہے کہ پیغام الہٰی کو سنا نہیں تھا اور مال کو جمع کر کے رکھا تھا خرچ نہیں کیا تھا ،جس سےیہ اندازہ ہوتا ہے کہ دین خدا میں مالیات کا مسئلہ عقائد ونظریات سے کم اہمیت کا حامل نہیں ہے ۔

إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ ﴿٢٨﴾ سورة المعارج

 جہنم سے نجات نہ تصورات وخیالات میں ہے اور نہ خوش فہمیوں میں جہنم سے بچنے کا  راستہ بہت محدود ہے اور اس کیلئے حسب ذیل اوصاف کا پیدا کرنا ضروری ہے۔

[ا ]ہمیشہ نماز کا خیال رکھا جائے[ ۲]غرباء میں مال تقسیم کیا جائے[ ۳] روز قیامت کا خیال رکھا جائے[ ۴] دل میں خوف خدا کو جگہ دی جائے[۵]پاک دامنی کی حفاظت کی جائے[ ۶ ]امانت اور عہد و پیان کا خیال رکھا جائے[ ۷] گواہیوں پر قیام کیا جائے اور انہیں ادا کیا جائے[۸]  نماز کی محافظت کی جائے اور اسے ضائع نہ ہونے دیا جائے ۔

پاکدامنی کی حفاظت میں زوجہ اور کنیز کا استثناء اس بات کی علامت ہے کہ اسلام عفت چاہتا ہے رہبانیت نہیں چاہتا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ زوجہ کا حق ضائع ہو جائے اور اس طرح دوسرے گناہ کا ارتکاب ہو جائے یا واضح لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اسلام میں جنسیات کا مرتبہ جرائم کا مرتبہ نہیں ہے، اس نے انسان کے داخلی جذبات کا مکمل احترام کیا ہے اور ان کی تسکین کے سامان کو فراہم کرنے کی تعلیم و تلقین کی ہے اور اسے مستحسن عمل قرار دیا ہے، صرف اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جو کام کیا جائے وہ قانون کے حدود کے اندر ہو اور قانون کے حدود سے باہر نہ جانے پائے کہ انسان مجرمین میں شامل ہو جائے اور نجات آخرت  سے محروم ہوجائے۔

إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١﴾ سورة نوح

 جناب نوحB کا نام عبدالغفار يا عبد الملک یا عبدالاعلیٰ تھا، شدت گریہ کی بنا پر نوح لقب قرار پایا، تقریبا ۲۵۰۰ سال عمر پائی ۹۵۰ سال تبلیغ کی اور طوفان کے بعد ۵۰ یا ۶۰ سال زندہ رہے، ان کی نسل ان کے بیٹوں حمام ، سام اور یافث سے آگے بڑھی ۔

بت پرستی کا سلسلہ جناب آدمB کے پوتے انوش بن شیث کے دور سے شروع ہوا تھا اور جناب نوح Bکے زمانے تک منزل شباب تک پہنچ گیا تھا، انہوں نے مختلف انداز سے قوم کو دعوت دی لیکن لوگ مسلسل فرار ہی کرتے رہے اور کانوں میں انگلیاں ہی ڈالتے رہے حد یہ ہے کہ انہوں نے بعض گناہوں کی بخشش کا بھی وعدہ کر لیا جو وہ اسلام لانے سے پہلے کر چکے تھے تا کہ اسلام لانے میں کوئی رکاوٹ اور جھجھک نہ باقی رہ جائے اور قوم کو دن رات خفیہ ، علانیہ ہر طرح سے دعوت بھی دی لیکن جو راہ راست پر نہیں آنے والے تھے وہ نہیں آئے اور اس سے دو باتوں کا بھی اندازہ ہو جا تا ہے۔

 انسان کو قوم کی سرکشی سے بددل اور مایوس نہیں ہونا چاہیے ۲- مبلغ کوراہِ تبلیغ میں کسی بھی طریق کار کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور کسی وقت بھی پست ہمتی کا شکار نہیں ہونا چاہیے تبلیغ کا کم سے کم اثر یہ ہوگا کہ جب عذاب کا طوفان سر پر آئے گا تو پروردگارتبلیغ کرنے والے اور اس کی اطاعت کرنے والوں کو ہر حال بچا لے گا چاہے باقی ساری قوم یا ساری دنیا کیوں نہ غرق  ہوجائےاور ایسے طوفان کے عالم میں کسی انسان یا جماعت کا محفوظ رہ جانا ایک عظیم ترین نعمت الٰہی ہے جس کا حصول تبلیغ یا اطاعت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿١﴾ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا﴿٢﴾ سورة الجن

انسان کے لئے مقام غیرت وشرم ہے کہ جن نے ایک مرتبہ قرآن سن لیا تو اس طرح کامکمل ایمان لے آئے اور انسان صبح وشام پڑھتا اور سنتا رہتا ہے اور اس کے کردار پر اثر نہیں ہوتا ہے جب کہ اسے اشرف المخلوقات ہونے کا بھی خیال ہے تو کیا ایسے انسانوں کو بھی اشرف المخلوقات کہا جا سکتا ہے جو اس قدر بھی شعور اور احساس نہ رکھتے ہوں جس قدر شعور و احساس ایک آگ کی مخلوق میں پایا جاتا ہے جب کہ قصۂ آدمBمیں روز اول ہی واضح کر دیا گیا ہے کہ خاک کا مرتبہ آگ سے بلند تر ہے اور خاک کی مخلوق کو نوری مخلوق کیلئے قبلہ بنایا جا سکتا ہے تو آتشیں مخلوق کا کیا ذکر ہے  ۔

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦﴾ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ﴿٢٧﴾ سورة الجن

آیت کریمہ صاف طور سے دلالت کرتی ہے کہ غیب کا ذاتی علم صرف پروردگار کے پاس ہے لیکن وہ جس نمائندہ کو پسند کرتا ہے اسے اس علم کا کوئی نہ کوئی حصہ ضرور عطا کردیتا ہے اور یہ بات علم غیب کے بارے میں افراط و تفریط کے درمیان ایک معتدل راستہ ہے جس سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اصل علم پروردگار کے پاس ہے اور بندہ کو عطا سے حاصل ہوتا ہے لہٰذا جب تک عطائے پروردگار کا ثبوت نہ مل جائے یا بندہ کا خدا سے مخصوص تعلق نہ ثابت ہوجائے اس وقت تک علم غیب کے کسی دعوے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی اور نہ بندہ صاحب علم غیب تسلیم کیا جاسکتا ہے،اسی مخصوص تعلق ہی کی طرف قرآن مجید نے پسندیدہ رسولؐ اور نمائندہ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ سورة المزمل

سوره مزمل اور مدثر ایک کے بعد ایک نازل ہوا ہے ، سوره مزمل میں نبی 1کے ذاتی کردار کا ذکر کیا گیا ہے اور مدثر میں عوامی اور مذہبی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دونوں جگہ چادر اوڑھنے والا کہہ کر یاد کیا گیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اب چادر پھینک کر عبادت کیلئے اٹھو اور چادر سے بے فکر ہو کر تبلیغ کیلئے کھڑے ہو جاؤ  اور یہی وجہ ہے کہ انفرادی کردار میں عبادت ِشب کو واجب قرار دیدیا گیا چاہے نصف شب قیام کرو یاایک تہائی شب یا دو تہائی شب کہ اس سے نفس پامال ہوتا ہے اور قول وعمل میں مطابقت کا اظہار ہوتا ہے ایسا نہ ہو کہ انسان دنیا کو بیدار کرنے کا منصوبہ بنائے اور خود سوتا رہ جائے ، اور شب کا وقت مناجات کیلئے بھی بہتر وقت ہوتا ہے جب بندہ اپنے پروردگار سے تنہائی میں درد دل بیان کر سکتا ہے اور اس سے اعانت اور امداد کا طلبگار ہو سکتا ہے، واضح رہے کہ نصف، ثلث اور دو ثلث میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ رات کا وقت تمام سال ایک جیسا نہیں رہتا ہے اور سردی اور گرمی کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے تو کبھی نصف حصہ مناسب ہو گا اور کبھی ثلث اور  کبھی دو ثلث اور بندہ مکمل طور پر حکم خدا کی پابندی کرسکے گا۔

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ ﴿٢﴾ سورة المدثر

 یہ پیغمبر اسلام1 کی تبلیغ کے بنیادی ارکان ہیں کہ۔[ ۱] قوم کو ڈرائیں اور اس کام کیلئے باقاعدہ قیام کریں ظاہر ہے کہ یہ کام شاہی ملبوس والے نہیں کر سکتے ہیں لہذا ایک چادر والے کو مخاطب بنا یا گیا ہے[ ۲] صرف پروردگار کی بڑائی کا اظہار کریں تا کہ دوسرے خدا خود بخود نگاہوں سے گزر جائیں[ ۳] لباس پاکیزہ رکھیں تا کہ دشمن متنفر نہ ہو سکے اور اس کے نفس کو پاکیزہ بنانے میں آسانی ہو[ ۴]- بت پرستی اور تمام کثافتوں سے الگ رہیں تا کہ تبلیغ کی تاثیر میں اضافہ ہو سکے[ ۵] لوگوں پر احسان نہ جتائیں کہ اس طرح بلندئ نفس کا احساس پیدا ہو[ ۶] پروردگار کی خاطر صبر کریں کہ صبر کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ہے ۔

یہ تعلیمات صرف رسول اکرم1ہی کیلئے نہیں ہر مبلغ اور مصلح کیلئے ضروری ہے، پیغمبر1کو صرف مخاطب بنایا گیا ہے ورنہ انہیں ان ہدایات کی ضرورت نہیں ہے ضرورت ان انسانوں کو ہے جو اپنے فریضہ ٔتبلیغ کو ادا کرنا چاہتے ہیں اور راہ خدا میں کسی کارِ نمایاں یا عظیم خدمت کو انجام دینے کے خواہش مند ہیں ۔

فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ ﴿٤٨﴾ سورة المدثر

 اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قیامت کے دن شفاعت کرنے والے ہوں گے اور شفاعت کا عقیدہ بالکل حق اور صحیح ہے لیکن اس شفاعت سے بے نمازیوں اور بے دینوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا اور وہ اس شفاعت سے محروم رہیں گے، کاش غلط فہمی میں مبتلا اور قوم کو دھوکہ دینے والے افراد اس آیت کریمہ کے مفہوم پر نگاہ ڈالتے اور حقیقت شفاعت کو محسوس کر کے بے نمازعوام کو شفاعت کا حقدار بنانے کی کوشش نہ کرتے ۔

أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ ﴿٣﴾ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ﴿٤﴾ سورة القيامة

 منکرین قیامت کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جب بہت سے مردے خاک میں مل جائیں گے تو سب کو ایک دوسرے سے الگ کیسے کیا جائے گا قدرت نے انگلی کے پوروں کا حوالہ دے کر ثابت کر دیا کہ جو اتنی بار یک نگاہ رکھتا ہے کہ ایسے پور بنا سکتا ہے جو ایک دوسرے سے ملنے نہ پائیں تو اس کیلئے مردوں کی ہڈیوں اور خاک کو الگ کر لینے میں کیا زحمت ہے واضح رہے کہ دستاویز پر نشانی انگوٹھا پوروں کے الگ الگ ہونے کا دستاویزی ثبوت ہے ۔

لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴿١٦﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ﴿١٨﴾ سورة القيامة

 اصل کام قرآن کا دل کے اندر جمع ہو جاناہے اس کے بعد اس کی تلاوت ہے، ورنہ دل قرآن سے خالی رہا اور صرف تلاوت کی گئی تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، امت کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنے کیلئے رسول اکرم1 کو مخاطب بنایا گیا ہے کہ صرف تلاوت، قرائت اور حافظہ کی کوئی قیمت نہیں ہے جب تک کہ دل کی گہرائیوں میں  اس کے مطالب اور مفاہیم کی جگہ نہ ہو اور انسان اس سے مکمل طور پر استفادہ نہ کرسکے۔

 إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا ﴿٢٢﴾ سورة الانسان

زمخشری اور فخر رازی دونوں نے نقل کیا ہے کہ آیات کریمہ اہلبیتFکی شان میں نازل ہوئی ہیں  جب حضرات حسنؑ وحسیؑن بیمار ہوئے اور پیغمبر1 نے حضرت علیB کو نذر کرنے کی دعوت دی اور انہوں نے مع جناب فاطمہؑ اور فضہؑ کے تین تین روزہ کی نذر کر لی اور جب شفا کے بعد روزے رکھے تو  حضرت علیBتین صاع جَو لے آئے، جناب فاطمہؑ نے ایک ایک صاع کی پانچ پانچ روٹیاں تینوں دن تیار کیں اور وقت افطار کبھی مسکین، کبھی یتیم اور کبھی اسیر آ گیا اور سب نے اپنی روٹیاں اس کے حوالے کر دیں اور پانی سے افطار کر لیا تیسرے دن پیغمبر1 نے یہ حال دیکھا تو پریشان ہوئے اور جبرئیلؑ  سوره لے کر نازل ہوئے کہ یہ اہلبیتF کے ایثار  کی جزا ہے ۔

واضح رہے کہ اس مقام پر اولا ًتو قدرت نے خود اہلبیتFکے کردار کی ترجمانی کی ہے کہ ہم جزا اور شکریہ نہیں چاہتے ہیں جو ان کے کمال کردار کی علامت ہے اور ہمارے لئے کار خیر کرنے کی بہترین تعلیم ہے ورنہ اہلبیتF نے اپنی زبان سے یہ بات نہیں کہی تھی اور دوسری طرف ان کے خوف قیامت کا مسلسل ذکر کیا ہے تا کہ ہم خوف قیامت سے بے نیاز نہ ہو جائیں جب ایسے کردار والوں کو ہول قیامت کا خیال ہے تو ہماری کیا حقیقت ہے ۔

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ جب جناب سیدہؑ کے ہاتھ کی پکائی ہوئی روٹیاں سائل کو دی گئی ہیں تو ان کے نام پر نذر ہو جانے کے بعد صاحبان ایمان اور خاص کر سادات کو کس طرح محروم کیا جا سکتا ہے اور یہ احترام کی کون سی قسم ہے جو خود سیرت اہلبیت Fکے خلاف ہے، معنوی اعتبار سے سائل کیسے ہی رہے ہوں لیکن ظاہری طور پر مدینہ کے مسکین و یتیم اور اسیر تھے اور احکام شریعت ظاہر ہی سے طے کیے جاتے ہیں معنویات کی دنیا اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے اور اس کو احکام کی بنیاد  نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٣٠﴾ سورة الانسان

 یوں تو انسان کو آزاد اور صاحب اختیار بنایا گیا ہے لیکن کچھ اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے ارادہ و اختیار کو عملی طور سے مشیت الہی کا پابند بنا دیا ہے اور اس کی مرضی کے خلاف سوچنے کا بھی ارادہ نہیں کرتے ہیں اور یہی ان کے کردار کا کمال اور ان کی عظمت کا راز ہے اس مقام پر اہلبیتؑ کا کمال مشیت الہی کی پابندی کو قرار دیا گیا ہے اور واقعاً یہی ایک بندے کا کمال کردار ہے کہ وہ اپنے کو اپنے مالک کے حوالے کر دے، اس کا یہ مقصد ہر گز نہیں ہے کہ مشیت الہی ان کی مرضی کے تابع ہے کہ خدا بندے کا تابع نہیں ہوسکتا ورنہ خدائی ختم ہو جائے گی، یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے بندے کی لاج رکھنے کے لئے اس کی مرضی کے مطابق کام انجام دیتا ہے کہ اس بندہ کی مرضی اصل میں مرضیٔ پروردگار ہی ہوتی ہے ۔

 وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ ﴿١١﴾ سورة المرسلات

 کیا قیامت خیز منظر ہوگا جب ستارے ماند پڑ جائیں گے آسان ٹوٹ جائیں گے، پہاڑ اڑنے لگیں گے، اولین و آخرین جمع کر لئے جائیں گے، حساب و کتاب شروع ہو جائے گا اور فیصلہ کا وقت قریب آجائے گا ۔

انسان اس ہولناک منظر کا تصور بھی کر لے تو جرم وگناہ کرنے کی ہمت نہ کرے، ہمارے گناہ اور جرائم اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے قیامت کا اقرار تو کیا ہے لیکن اس کا تصور نہیں کیا ہے اور اسی لئے قرآن کریم نے اس منظر کا نقشہ کھینچ دینا چاہا ہے تا کہ انسان راہ راست پر آجائے اور اسی ارحم الراحمین کے بندے نذر آتش جہنم نہ ہونے پائیں، وہ اپنے بندوں کو جنت النعیم عطا کرنا چاہتا ہے، آتش جہنم میں جلانانہیں چاہتا ہے ۔

فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ ﴿٣٩﴾ سورة المرسلات

 جس طرح کفار دنیا میں اسلامی تعلیمات پرطنر کیا کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اسی طرح روز قیامت ان سے کہا جائے گا کہ اب دنیا والا کوئی گُر  استعمال کر کے اپنے کو عذاب جہنم سے بچا لو اور وہ کچھ نہ کرسکیں گے تب انہیں اپنی بدبختی کا صحیح احساس ہوگا ۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ﴿٤٨﴾ سورة المرسلات

 بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب ابوسفیان کی زوجہ اسلام لائی تو پیغمبر اسلام1 نے پوچھا کہ تو نے اسلام کو کیسا پایا؟ اس نے کہا بہت عمدہ ہے صرف تین خرابیاں ہیں؛ ایک رکوع اور سجدہ، ایک پردہ اور ایک غلام حبشی کا بام کعبہ پر اذان دینا، آپؐ نے فرمایا جہاں تک رکوع وسجد کا تعلق ہے تو اس کے بغیر نماز، نماز نہیں ہے لہذا یہ ضروری ہے اور جہاں تک پردہ اور چادر کا تعلق ہے تو یہ بہترین حجاب ہے لہذا ضروری ہے اور جہاں تک بلال حبشی کے موذن ہونے کا تعلق ہے تو یہ بہترین غلام ہے لہذا اس کے ہوتے ہوئے غیر کے موذن بننے کا کوئی سوال نہیں ہے، یعنی اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ خدا و رسولؐ کے احکام کو تسلیم کیا جائے اور ان سے اپنی بات منوانے کی فکر نہ کی جائے، یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ لوگ اسلام میں بھی اپنی ہی بات منوانا چاہتے ہیں اور خدا و رسولؐ کی بات نہیں مانناچاہتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس کا نام انانیت ہے اسلام نہیں ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 8 =