۳۰ اردیبهشت ۱۴۰۱ |۱۸ شوال ۱۴۴۳ | May 20, 2022
پارے

حوزہ/قرآن مجید کے تیس پاروں کا اجمالی جائزہ؛چھبیسویں پارے کا مختصر جائزه۔

حوزہ نیوزایجنسیl
ترتیب و تحقیق: سیدلیاقت علی کاظمی الموسوی

چھبیسویں پارے کا مختصر جائزه

چھبیسویں پارے کےچیدہ نکات

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ سورة الأحقاف

 محمد بن اسحاق نے سیرت میں یہ واقعہ درج کیا ہے کہ عثمان کے سامنے ایک عورت کو لایا گیا جس کے یہاں چھ مہینے میں بچہ پیدا ہوگیا تھا تو انہوں نے سنگسار کرنے کا حکم دیدیا، اتنے میں حضرت علیؑ آ گئے اور انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے اس نے رضاعت کا زمانہ دو سال قرار دیا ہے اور رضاعت و حمل کا زمانہ تیس مہینے کا قرار دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حمل کا کم سے کم زمانہ چھ مہینے ہوتا ہے لہذا اس پر حد جاری کر نے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

عثمان نے کہا کہ یہ استنباط تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا اور یہ کہہ کر فیصلہ بدل دیا، اس واقعہ سے صاف اندازہ ہو جاتا ہے کہ پیغمبرؐ اسلام نے قرآن کے ساتھ اہلبیتؑ کو کیوں چھوڑا تھا اہلبیتؑ قرآن کے ان اسرار و رموز سے باخبر ہیں جنہیں امت کا کوئی قاری یا حافظ نہیں سمجھ سکتا ہے اور نہ ایسے افراد کو جامع قرآن کہنے کا کوئی جواز ہے ۔

وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا ۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَىٰ قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ ﴿٢٩﴾ سورة الأحقاف

 قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جنات کا ذکر کیا گیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک مخلوق ہے جس کے حالات انسانوں کے حالات سے ملتے جلتے ہیں اور اس کے دریافت کرنے کا ذریہ بھی وحی الہٰی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس لئے کہ یہ مخلوق عام طور سے مشاہدہ سے بالاتر ہے ۔

سوره جن میں اس قوم کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ موجود ہے، غرض تخلیق کے بیان میں بھی اس کا ذکر آیا ہے، شیاطین کی اقسام میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے، خود شیطان کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق قوم جن سے تھا لیکن اس مقام پر جس تذکر کو پیش کیا گیا ہے وہ انسانوں کیلئے باعث عبرت ہے کہ جنات کے گروہ نے جیسے ہی قرآن کو سنا خود بھی ایمان لے آئے اور اپنی قوم کو بھی ہدایت دینے کیلئے تیار ہو گئے اور داعی اللہ کی آواز پر لبیک نہ کہنے کے نتائج سے بھی باخبر کرنے لگے لیکن انسان اشرف مخلوقات ہونے کا دعویٰ  کرنے کے باوجودمسلسل آیات قرآنی کو سنتا ہے لیکن اس کے دل و دماغ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے، ایسے انسانوں سے تو یہ جنات ہی بہتر ہیں ۔

واضح رہے کہ جنات کے وجود کا ثابت ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ روزانہ جتنے واقعات جنات کے بارے میں پیش آتے ہیں اور جس جس طرح جنات چڑھائے اور اتارے جاتے ہیں یہ سارے واقعات صحیح اور مطابق عقل و منطق ہیں، ان واقعات کی اکثریت تو بہر حال وہم و گمان کے علا وہ کچھ نہیں ہے  یہی وجہ ہے کہ ان کا اثر صرف جاہل عوام پر ہوتا ہے اور انہیں پر جنات آتے رہتے ہیں ورنہ صاحبان علم فضل پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿٧﴾ سورة محمد

 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا نے صاحبان ایمان سے نصرت کا وعدہ کیا ہے اور وہ ان کی مددکرتا بھی ہے چاہے فتح کی صورت میں ہو یا بقائے دوام کی صورت میں یا کسی اور صورت میں لیکن یہ سب اس بات سے مشروط ہے کہ پہلے بندہ اسکی مدد کرے اور اس کے دین کے کام آئے ورنہ قربانی کے بغیر خداکسی طرح کی امداد کا ذمہ دار نہیں ہے اور انجام کار تباہی و بربادی اور ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے، دور حاضر میں مسلمانوں کی نَکبت کا راز یہی ہے کہ وہ دین خدا کی امداد نہیں کرتے اور خدا سے غیبی امداد کے امیدوار رہتے ہیں اور اس طرح دشمن کو موقع مل جاتا ہے اور وہ ان کی کاہلی اور بے غیرتی سے فائدہ اٹھا کر انہیں مختلف قسم کی ذلتوں میں مبتلا کردیتا ہے ۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ ﴿١٢﴾ سورة محمد

 امیر المؤمنینؑ سے نہج البلاغہ میں انتہائی حسین جملہ مرقوم ہے کہ فرمایا۔خدا نے مجھے اس لئےنہیں پیدا کیا ہے کہ مجھے بہترین غذائیں اپنی طرف متوجہ کر لیں جس طرح کہ بندھا ہوا جانور صرف چارہ کھانا ہی جانتا ہے اور آزاد جانور صحرا کا کوڑا کرکٹ چباتا ہے کہ وہ چارہ سے پیٹ تو  بھر لیتا ہے لیکن مقصد کی طرف سے بالکل آزاد اور غافل ہوتا ہے؛ رب کریم ہر مسلمان کو ان فقرات سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق کرامت فرمائے۔

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰ إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ﴿١٦﴾ سورة محمد

 یہ انداز ہر دور کے مسخرے اہل حق کے ساتھ اختیار کرتے ہیں کہ جب ان کے بیانات کو سن کر باہر نکلتے ہیں تو مخلصین پر یہ طنز کرتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا کہہ رہے تھے، ہم تو کچھ بھی نہیں سمجھے ،پتہ نہیں تم لوگ کیا سمجھ گئے ہو جو ان کے پیچھے لگے ہوئے ہو ۔

وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴿٢٥﴾ سورة الفتح

 ۷ھ میں مسلمان عمرة القضاء کے عنوان سے مکہ میں داخل ہوئے اور کفار نے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کی اور مسلمانوں نے بھی خاموشی سے عمرہ ادا کر لیا تو یہ خدا کی وہ مخصوص رحمت تھی جس کا وعدہ کیا گیا تھا ورنہ یہ وہی ظالم تھے جنہوں نے ۶ھ میں انسان تو انسان قربانی کے جانوروں کو بھی مکہ کے اندر داخل نہیں ہونے دیا تھا ۔

پروردگار عالم نے اس موقع پر جنگ و جدال کو اس لئے روک دیا کہ مکہ میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو ایمان کا اظہار نہیں کرتے تھے تو یہ خطرہ بالکل واضح تھا کہ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں ان کا بھی قتل عام ہو جاتا اور اس طرح اسلام کا شدید نقصان ہو جاتا، پھر جو دوسرے لوگ اسلام میں داخل ہونے والے تھے وہ بھی اس نعمت سے محروم رہ جاتے اس لئے قدرت نے جنگ کو روک کر انہیں بھی رحمت خدا میں داخل ہونے کا موقع دے دیا۔

 اس واقعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نگاہ قدرت میں تقیہ کا ایمان اس قدر عزیز اور قیمتی ہے کہ اس کی خاطر جنگ کو معطل کر دیا گیا ورنہ جہاد ہو جاتا تو اعلان والے تو بچ جاتے لیکن تقیہ والے بہرحال ختم ہو جاتے جسے رب العالمین نے پسند نہیں کیا تو اب کسی مسلمان کو تقیہ کے ایمان پر اعتراض کرنے کاحق نہیں ہے ۔

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴿١٣﴾ سورة الحجرات

 اسلام میں فضیلت اور شرافت کا معیار قوم و قبیلہ نہیں ہے بلکہ تقوی وکردار ہے، جہاں پسرنوح غرق کر دیا جاتا ہے اور سلمان کو اہلبیتؑ میں شامل کر لیا جاتا ہے ،نسبی شرافت پر اکڑنے والے بدکردار افراد آیتِ کر یمہ کی تعلیم سے سبق لیں اور اسلام کے مزاجِ فضیلت کو پہچانیں ۔

يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّـهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٧﴾ سورة الحجرات

 بد قسمتی یہ ہے کہ خدا نے ایمان کی ہدایت دی اور یہ اسلام ہی پر رک گئے اور اس پر بھی خدا پر احسان جتانے لگے کہ ہم اسلام لائے ہیں جب کہ تقاضائے انسانیت و شرافت یہ تھا کہ خدا کے احسانات کا اعتراف کرتے ہوئے منزل ایمان تک پہنچ جاتے اور پھر کسی عقیدہ میں شک نہ کرتے اور راہِ خدا میں جان و مال کی  قربانی بھی دیتے ،نہ بخل سے کام لیتے اور نہ میدانِ جنگ سے فرار اختیار کرتے۔

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ﴿٣٩﴾ وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ﴿٤٠﴾ سورة ق

 بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ اوقات نماز کی طرف ایک اشارہ ہے کہ طلوع صبح سے پہلے نماز پڑھی جائے اور غروب سے پہلے نماز عصر  پھر رات کے اوقات میں مغرب اور عشاء ادا کی جائے اور نمازوں کے بعد نوافل ادا کیے جائیں کہ یہ سب تسبیح پروردگار کے بہترین مصادیق ہیں جہاں نفلی تسبیح بھی ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ عملی تسبیح بھی ہوتی ہے ۔

لیکن اس تفصیل میں نماز ظہر کا کوئی ذکر نہیں ہے جو واجبات میں سب سے پہلی نماز ہے اور اسے صلوۃ وسطیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ قبل الغروب میں ظہر وعصر دونوں شامل ہوں لیکن اس طرح تو دونوں نمازوں کے ایک ساتھ ادا کرنے کا حکم ظاہر ہوتا ہے جس طرح کہ مغرب و عشا ء کا تذکرہ بھی ایک ہی لفظ میں کیا گیا ہے اور الگ الگ اوقات کا کوئی اشارہ نہیں ہے اور حقیقت امربھی یہی ہے کہ قرآن مجید میں نمازوں کے الگ الگ ادا کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے خدا جانے اس عادت پر مسلمانوں کا اصرار کیوں ہے اور وہ اسے جواز ہی کی حد تک کیوں نہیں رہنے دیتے جس کے بعد ہر مسلمان کو اختیار ہے چاہے الگ الگ پڑھے یا ملا کر پڑھے ۔

 إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿١٥﴾ سورة الذاريات

 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صاحبان تقوی کے لئے باغات ہیں، چشمے ہیں، اللہ کی نعمتیں ہیں، لیکن ان متقین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے پاس فقط ظاہر داری اور نمائشی تقویٰ نہیں ہے بلکہ ان کا کردار نیک ہے، وہ راتوں کو آرام کرتے ہیں، سحر کے وقت اٹھ کر نسیم سحری سے لطف اندوز ہونے کے بجائے استغفار کرتے ہیں، دولت جمع کرنے یا گھر کی رونق بڑھانے کے بجائے اپنے مال میں غرباء کا ایک حق سمجھتے ہیں اور ان میں مال تقسیم کر دیتے ہیں جس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ رات بھر سو کر نماز صبح تک کھا جانے والے اور رات کی بیداری کو استغفار کے بجائے فلموں کے حوالے کر دینے والے اور غرباء و فقراء کا حق دینے کے بجائے خمس و زکوٰۃ  کو ہضم کر کے تعیّش آمیز زندگی گزارنے والے کسی قیمت پر متقی نہیں ہیں اور نہ ان کا جنت وکوثر سے کوئی تعلق ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 2 =