اتوار 30 مارچ 2025 - 14:30
روزِ عید الٰہی انعام و تحائف کا دن، مولانا علی حیدر فرشتہ

حوزہ/ قرآن و احادیث کی روشنی میں روز عید الٰہی انعام و تحائف کا دن ہے ۔امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان ذیشان ہے:”حقیقی عید اس شخص کے لیے ہے جس کے روزے، نماز اور عبادت کو اللہ نے ماہ مبارک رمضان میں قبول کر لیا ہو۔ اور ہر وہ دن جس میں خدا کی معصیت نہ کی جائے، انسان کے لیے وہ عید کا دن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا علی حیدر فرشتہ بانی و سرپرست اعلیٰ مجمع علماء خطباء حیدرآباد دکن نے عید الفطر کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا (سورہ مائدہ ،۱۱۴) ’’عید ‘‘ ہی وہ لفظ ہے جس کے معنی خوشی کے ہیں اور اظہار مسرت کے لئے لفظ ’’عید‘‘ سے بہتر اور جامع کوئی لفظ نہیں۔

پروردگار عالم نے خوشیوں کی تمام تر کیفیات و احساسات ولذات کوسمیٹ کرجس پیکر لفظی میں سمو دیا وہ لفظ ’’عید ‘‘ ہے۔یہی وہ لفظ ہے جو زبان عیسیٰ بن مریم کی زبان سے ادا ہوا اور قرآن کے سورہ مائدہ کی آیت۱۱۴ میں جگہ مل گئی یعنی سورہ مائدہ میں نزول مائدہ کے دن کو عید قرار دیا گیا ہے۔یہی وہ لفظ ہے جو زبان معصومین ؑ سے نکلا تو روز عید الفطرہر صاحب ایمان نماز عیدین کے قنوت میں پڑھتا ہے کہ:’’اے اللہ تیری بارگاہ میں آج کے دن کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں جوتمام مسلمانوں کیلئے عید قرار دیا گیا اوراسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے باعث شرف، اسلام کا وقار اور پوری تاریخ میں کبھی نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے‘‘۔

قرآن و احادیث کی روشنی میں روز عید الٰہی انعام و تحائف کا دن ہے ۔امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان ذیشان ہے:”حقیقی عید اس شخص کے لیے ہے جس کے روزے، نماز اور عبادت کو اللہ نے ماہ مبارک رمضان میں قبول کر لیا ہو۔ اور ہر وہ دن جس میں خدا کی معصیت نہ کی جائے، انسان کے لیے وہ عید کا دن ہے۔

“اس سال ہم عید الفطر کا استقبال اس حال میں کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو نہ ملک کے اندر چین سے رہنے دیا جارہا ہے نہ بیرون ملک ۔غزہ ،فلسطین،شام،لبنان پر صیہونیوں کے ایجنٹ نام نہاد منافقین نت نئے ظلم ڈھا رہے ہیں،عرب حکمران شراب و کباب اور بے انتہا دولت کے نشہ میں مست پڑے ہوئے ہیں۔ تو اندرون ملک مسلمانوں کے اوقاف کی جائدادیں حکومت چھیننے کے چکر میں ہے جس کے لئے وقف ترمیمی بل نامی حربہ ایجاد کیا گیا ہے۔ہندوستانی مسلمان اس بل سے اتنا خوف زدہ ہیں کہ انھیں مذہبی و سیاسی طور سے سوائے آپسی اتحاد کے کوئی دوسرا راہ حل نظر نہیں آرہا ہے۔آجکل ہندوستانی مسلمان اس تاریخی بین المسالک اسلامی اتحاد کو یاد کر رہے ہیں جو بابری مسجد کے انہدام کے وقت پیدا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں برسوں تک کسی ایک پارٹی کی حکومت نہیں بنتی تھی۔اسی اتحاد کی طاقت کا پھر عملی مظاہرہ ضروری ہے۔

ہندوستان میں مذہبی منافرت کا زہر انتظامیہ سے لے کر عدلیہ تک بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ فرقہ واریت کا گھناؤنا مرض کرونا وبا کی طرح ہرسرکاری شعبہ میں سرایت کر چکا ہے۔خداوند عالم مسلمانان عالم کووہ عید جلد عطا فرمائے جب حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور پرنور ہو، دنیا سے ظلم و جور کا خاتمہ ہو، بیت المقدس سمیت تمام مقامات مقدسہ کی عظمت رفتہ بحال ہو، جنت البقیع کی تعمیر نو ہو، دہشت گردی کا خاتمہ ہواور تمام مسلمانان عالم ’’کل مومن اخوہ‘‘ یعنی تمام مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘کی عملی تصویر پیش کرسکیں۔فقط والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha