پیر 26 اکتوبر 2026 - 14:44
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی معرفت کے بغیر فاطمی بننا ممکن نہیں: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ تاراگڑھ، اجمیر میں مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید نقی مہدی زیدی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بے مثال مقام و مرتبے کو شبِ قدر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی حقیقی معرفت حاصل کرنا انسانی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غمِ فاطمہؑ کو حقیقی طور پر درک کرنا اور اپنے غم کو سیرت و مظلومیتِ سیدہؑ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہی فاطمی زندگی کی پہچان ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہادت صدیقۂ طاہرہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے امامبارگاہ آل ابوطالب تاراگڑھ اجمیر میں منعقدہ مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر حجۃالاسلام مولانا سید نقی مھدی زیدی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل کو بیان کیا اور کہا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ہونے کی وجہ سے عظیم ہیں بلکہ ان کی شخصیت، کردار اور ایمان بے مثال ہے، یہ بی بی متحیر العقول ہے عقل انسانی اس بی بی کے مقام اور مرتبے کو درک کرنے سے قاصر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ: حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام فرماتے ہیں: "إنّ فاطمة هی لیلة القدر، من عرف فاطمة حقّ معرفتها فقد أدرک لیلة القدر" حضرت زہراء سلام اللہ علیہا شب قدر کا باطن ہیں اور جو بھی آپ کے مقام کو درک کرے اسے شب قدر درک ہوگی۔

امام جمعہ تاراگڑھ نے جناب سیدہؑ اور شبِ قدر میں مماثلتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ: جس طرح سال بھر کے مہینوں میں کوئی رات شبِ قدر کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ تمام راتوں کی سردار ہے؛ اسی طرح نسوانِ عالم میں کوئی خاتون جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتیں، کیونکہ آپ "سیدۃ نساء العالمين"، تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اسی طرح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تسبیح، ہر نماز کو ہزار مستحبی نمازوں کے برابر بنا دیتی ہے۔

جس طرح سال کے تمام دنوں اور راتوں میں "شب قدر" کا کوئی ثانی اور بدل نہیں ہے اور وہ اپنی نوعیت میں واحد اور بے نظیر ہے، اسی طرح پوری کائنات کی خواتین میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا کوئی ثانی اور کفو نہیں ہے۔

جس طرح ’’لیلۃ القدر‘‘ کا ادراک سب کے بس کی بات نہیں اسی طرح فاطمہ زہراؐ کی معرفت حاصل کرنے سے لوگ عاجز و قاصر ہیں۔

خطیب مجلس مولانا نقی مھدی زیدی نے مصائب جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بیان کرتے ہوئے کہا کہ: شیخ صدوقؒ نے آپ کو زیارت کے ضمن میں ’’صدیقہ"، شہیدہ‘‘ اور ’’مظلومہ‘‘ کے الفاظ سے بھی یاد کیا ہے: "السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ … السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الصِّدِّيقَةُ الشَّهِيدَةُ … السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ، السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُضْطَهَدَةُ الْمَقْهُورَةُ." یعنی ’’سلام ہو آپ پر، اے رسول اللہ کی بیٹی! … سلام ہو آپ پر، اے صدیقہ، شہیدہ! … سلام ہو آپ پر، اے مظلومہ، اے غصب شدہ حق والی! سلام ہو آپ پر، اے ستم رسیدہ اور مقہورہ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غم فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ اپنے غم کو ہم آہنگ کرنا چاہیے، یعنی ہمارے غم کا معیار بھی وہی ہونا چاہیے جو معیار حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے غم کا تھا، کیونکہ جب تک ہم غم فاطمہ سلام اللہ علیہا کو درک نہیں کریں گے تب تک فاطمی بن نہیں سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha