حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا شناسی کے سلسلے میں حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے ’’قرآن مجید کی نگاہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ قرآن مجید اہل بیت علیہم السلام کی شان کا مژدہ اور قصیدہ ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ قرآن مجید کا چوتھائی حصہ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس موضوع کو دو حصوں میں بیان کیا جائے گا: پہلا، اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہونے والی آیات کا مجموعہ، اور دوسرا، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں نازل ہونے والی آیات کا مجموعہ۔ اس سلسلے میں بعض اہم آیات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو واضح کیا جائے گا۔

آیتِ مودت اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت
مولانا نقی مہدی زیدی نے آیتِ مودت ’’قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَىٰ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس آیت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ فرمائیں: میں اس رسالت پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے اپنے قریبی رشتہ داروں کی محبت کے۔
انہوں نے بیان کیا کہ شیعہ اور اہل سنت، دونوں مکاتبِ فکر کے مصادر میں روایت موجود ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے وہ قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام۔ یہ روایت ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور دیگر راویوں سے احمد بن حنبل، طبری، طبرانی اور نسائی سمیت متعدد محدثین نے نقل کی ہے۔
آیتِ تطہیر؛ اہل بیت علیہم السلام کی طہارت کی گواہی
حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے آیتِ تطہیر اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے آیتِ مبارکہ ’’إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا‘‘ کا حوالہ دیا، جس کا مفہوم ہے کہ اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! آپ سے ہر طرح کی ناپاکی دور رکھے اور آپ کو اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہل سنت علماء نے اس آیت کو چالیس طرق سے، جبکہ شیعہ علماء نے کم از کم تیس طرق سے اپنی متعدد کتابوں میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت فرمائی کہ اس آیت میں اہل بیت سے مراد حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام ہیں۔
آیتِ مباہلہ اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی منفرد فضیلت
مولانا نقی مہدی زیدی نے آیتِ مباہلہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ علم آ جانے کے بعد بھی اگر کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ سے بحث کرے تو آپ کہہ دیجیے کہ آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر دعا کریں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
انہوں نے علامہ طبرسی کی تفسیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ آیت میں ’’أَبْنَاءَنَا‘‘ سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام، جبکہ ’’نِسَاءَنَا‘‘ سے مراد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں، کیونکہ مباہلے میں کسی دوسری خاتون نے شرکت نہیں کی۔ یہ امر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تمام خواتین پر فضیلت کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے سید عبدالحسین شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا کہ اہل قبلہ کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مباہلے کے لیے خواتین میں صرف اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ علیہا السلام کو دعوت دی۔ اسی طرح شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا وہ خاتون ہیں جن کی طرف آیتِ مباہلہ میں خطاب اور ذکر متوجہ ہے، اور یہ ایسی فضیلت ہے جس میں امت کا کوئی فرد ان کا شریک نہیں ہوا۔
مولانا نقی مہدی زیدی نے علامہ زمخشری کے بیان کردہ نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آیتِ مباہلہ میں ’’نِسَاءَنَا‘‘ اور ’’أَنْفُسَنَا‘‘ کے مصادیق میں بالترتیب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام پر اکتفا کیا گیا، جبکہ ’’أَبْنَاءَنَا‘‘ میں ایک کے بجائے دو ہستیوں، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام، کو شامل کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام کی کوئی نظیر نہیں تھی، جبکہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ایک دوسرے کے نظیر تھے۔
انہوں نے کہا کہ آیتِ مباہلہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت واضح ہے، کیونکہ عیسائیوں کی شکست مباہلے کے بغیر مشکل تھی اور حضرت سیدہ کونین سلام اللہ علیہا کی شرکت کے بغیر مباہلہ نامکمل تھا۔
آیتِ اطعام اور اہل بیت علیہم السلام کی ایثار و قربانی
انہوں نے سورۂ دہر کی آیات 8 اور 9 ’’وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ آیات اس مشہور واقعے کے بعد نازل ہوئیں جب امام حسن اور امام حسین علیہما السلام بیمار ہوئے تو گھر کے تمام افراد نے ان کی صحت یابی کے لیے تین دن روزے رکھنے کی نذر مانی۔
انہوں نے کہا کہ بعض اہل سنت مفسرین کے نزدیک آیتِ اطعام اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی۔ علامہ امینی نے اپنی کتاب ’’الغدیر‘‘ میں اہل سنت کے 34 علماء کے نام درج کیے ہیں، جنہوں نے اس بات کی تائید کی ہے کہ یہ آیات اہل بیت علیہم السلام کی شان اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے فضائل بیان کرتی ہیں۔ شیعہ علماء کے نزدیک سورۂ انسان مکمل طور پر اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں نازل ہونے والی آیات
حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں نازل ہونے والی آیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پورا قرآن اہل بیت رسول علیہم السلام کی عظمت بیان کرتا دکھائی دیتا ہے، تاہم بعض آیات ایسی ہیں جو خصوصی طور پر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں نازل ہوئیں اور ان میں کوئی اور شریک نہیں۔
سورۂ کوثر اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت
مولانا نقی مہدی زیدی نے سورۂ کوثر کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ مفسرین اور بعض اہل سنت مفسرین کے نزدیک یہ سورہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں نازل ہوئی۔ یہ سورۂ مبارکہ بالاتفاق مکی ہے اور اس میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک عظیم خوش خبری دی گئی ہے، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی تکمیل اور اس کے قیامت تک باقی رہنے کی ضمانت کا اعلان بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تفسیر کبیر، فخر رازی، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح المعانی سمیت متعدد تفاسیر میں ایسی روایات نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق یہ سورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابتر، یعنی بے اولاد، کہنے والوں کے جواب میں نازل ہوئی۔ جب کوثر کے معنی خیرِ کثیر کے ہیں تو اس خیرِ کثیر کے مصداق کی وضاحت آیت ’’إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ‘‘ سے ہوتی ہے، جس کا مفہوم ہے کہ آپ کا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوثر عطا کیا، یعنی کثیر اولاد عطا کی۔ اگر کوثر سے مراد کثیر اولاد نہ ہو تو ’’إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ‘‘ کا مفہوم واضح نہیں رہتا، جیسا کہ تفسیر المیزان کے مصنف نے بھی بیان کیا ہے۔
مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ ’’إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ‘‘ میں کثرت سے مراد ذریت ہے، جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد ہے۔ آج دنیا اس حقیقت کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ ابتدائی مکی دور میں نازل ہونے والی اس سورۂ مبارکہ میں کوثر اور ابتر کے بارے میں بیان کردہ پیش گوئی پوری ہوئی؛ دنیا اولادِ کوثر سے آباد ہے، جبکہ دشمنِ رسول کا کوئی نام و نشان باقی نہیں۔
آیتِ قربیٰ اور فدک کا ہدیہ
انہوں نے سورۂ اسراء کی آیت 26 ’’وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آیت میں قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ شیعہ اور اہل سنت احادیث کے مطابق، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو فدک بطور ہدیہ عطا کیا۔
سورۂ والضحیٰ اور صبرِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
مولانا نقی مہدی زیدی نے سورۂ والضحیٰ اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت بیان کرتے ہوئے جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت نقل کی کہ ایک مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو دیکھا کہ انہوں نے اونٹ کی اون سے بنی ہوئی ایک سخت اور بدن کو تکلیف پہنچانے والی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گریہ کرنے لگے اور فرمایا: ’’اے میری بیٹی! دنیا کی تلخی پر صبر کرو تاکہ کل آخرت کی نعمتیں حاصل کر سکو۔
اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس آیت سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے، کیونکہ اس میں صبرِ جمیل کے عوض عظیم اجر کی بشارت دی گئی ہے۔
قرآن مجید کی آیات سے مقامِ اہل بیت کو سمجھنے کی دعوت
حجۃ الاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے کلاس کے اختتام پر کہا کہ ان آیات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے، کیونکہ ان سے اہل بیت علیہم السلام، بالخصوص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مقام و منزلت کا ادراک ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے کس انداز سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت بیان کی ہے؟ کیا سورۂ کوثر، سورۂ قدر اور سورۂ دہر کی آیات کو تشنۂ تفسیر چھوڑا جا سکتا ہے؟
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایامِ عزائے فاطمیہ میں سب کو ان انوارِ الٰہی سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔










آپ کا تبصرہ