حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،علی پور-کرناٹک/ ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے شہر علی پور میں مسجد جعفریہ میں منعقدہ نمازِ جمعہ کے خطبوں میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید محمد ذکی الباقری نے سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، خطبۂ فدکیہ، ولایت کی اہمیت، علماء کے مقام و کردار اور موجودہ عالمی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف ہتھیاروں اور فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں، بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی شخصیات، قوموں اور ممالک کے بارے میں تصورات بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ دینی بصیرت، تحقیق اور تقویٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور عالمی واقعات کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حقائق کی جانچ کریں۔

کینیڈا میں مقیم اور بنیادی طور پر علی پور، کرناٹک سے تعلق رکھنے والے مولانا سید محمد ذکی الباقری ان دنوں ایامِ فاطمیہ کی مجالس میں شرکت کے لیے ہندوستان میں موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے خطبوں میں دینی تعلیمات اور معاشرتی اصلاح کے ساتھ ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق عالمی صورتِ حال پر بھی گفتگو کی۔
خطبۂ فدکیہ اور پیغامِ ولایت
مولانا سید محمد ذکی الباقری نے اپنے خطاب میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے عظیم خطبۂ فدکیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایامِ عزائے فاطمی میں مجالس میں شرکت اور اشکِ ماتم بہانے کے ساتھ ضروری ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی تعلیمات کو عملی زندگی میں بھی اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر روزانہ خطبۂ فدکیہ کے چند جملے بھی توجہ اور تدبر کے ساتھ پڑھے جائیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ انسان کی فکری اور عملی زندگی میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے خطبۂ فدکیہ کو علم، معرفت، حکمت اور معارفِ الٰہی کا عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے میں مسئلۂ ولایت کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کے مطابق، ولایت کی حقیقی معرفت اور اس کی تعلیمات پر عمل معاشرے کی ہدایت، استحکام اور کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سافٹ وار اور تاریخی شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا
مولانا ذکی الباقری نے سافٹ وار یا نرم جنگ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ روایتی جنگ میں گولیوں اور دھماکوں کی آواز سنائی دیتی ہے، لیکن سافٹ وار خاموشی سے لوگوں کی فکر، ترجیحات اور فیصلوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، فلموں، ڈراموں اور پروپیگنڈے کو استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ کسی شخصیت کے کردار کو مشکوک بنایا جا سکے اور عوام کے ذہنوں میں اس کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو۔
انہوں نے حضرت مختار ثقفی، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسن علیہ السلام کی زندگیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں بھی مختلف شخصیات کے کردار اور اقدامات کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق، پروپیگنڈے کا مقصد ہمیشہ حقیقت کو مکمل طور پر مٹانا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے لوگوں کے نقطۂ نظر کو تبدیل کرنا بھی ہوتا ہے۔
ایران اور عالمی سیاست؛ حقائق کی تحقیق پر زور
موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید محمد ذکی الباقری نے رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت اور فیصلوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں پیش کیے جانے والے بعض بیانات اور مختصر ویڈیو کلپس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی طویل خطاب سے چند جملے الگ کرکے پیش کرنے سے پوری گفتگو کا مفہوم بدل سکتا ہے اور اس کے ذریعے کسی شخصیت کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں اور عالمی سطح پر ان کے بارے میں ہونے والی بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک یا شخصیت کے خلاف مسلسل منفی مہم چلانے سے ضروری نہیں کہ حقیقت بھی تبدیل ہو جائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کے موقع پر متعدد ممالک کے نمائندوں کے واک آؤٹ اور ایران کے صدر کی جانب سے ایران کا دفاع کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں مظلوموں کو ظالم اور ظالموں کو مظلوم ثابت کرنے کی کوششوں کا جائزہ حقائق کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
مولانا نے قرآن مجید، بالخصوص سورۂ حجرات کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی خبر کو قبول کرنے یا آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کسی فرد، قوم یا ملک کے بارے میں رائے قائم کرنا نقصان اور بعد میں پشیمانی کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے دینی بصیرت، شعور اور تحقیق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
علماء کا مقام اور معاشرتی اصلاح
دوسرے خطبے میں مولانا ذکی الباقری نے علماء کے مقام، دینی قیادت کی ذمہ داریوں اور معاشرتی اصلاح پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ خطیبِ جمعہ کی ذمہ داری صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اسے معاشرے کے اہم مسائل، مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں اور حالاتِ حاضرہ پر بھی رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔

انہوں نے علی پور کے دینی و انتظامی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علماء کو محض ملازم کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے دینی رہنمائی اور اجتماعی امور میں ان کے کردار کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ علماء کو مناسب ذمہ داریاں اور اختیارات دے کر دینی و سماجی امور میں ان کی رہنمائی سے استفادہ کریں۔
معاشرتی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات، منگنی کی دعوتوں اور مالی مطالبات پر تنقید کی۔ انہوں نے نوجوانوں کی ذمہ دارانہ تربیت، کم عمر بچوں کو گاڑیاں دینے سے گریز اور قبل از ازدواجی کورس میں شرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اسی موقع پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مستحق طلبہ کے لیے جاری ’’عطرِ آلِ محمد اسکالرشپ اسکیم‘‘ کا ذکر کیا گیا، جس سے مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند طلبہ اپنی ضرورت کے مطابق استفادہ کر سکتے ہیں۔

مولانا ذکی الباقری نے محاسبۂ نفس اور اخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ عبادت، سماجی خدمت اور دینی اداروں میں ذمہ داریاں ادا کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہونا چاہیے، نہ کہ شہرت یا ذاتی تشہیر۔ انہوں نے کہا کہ کسی عہدے کا حصول انسان کے گناہوں کی معافی کی ضمانت نہیں؛ اس کے لیے توبہ، استغفار اور اپنی اصلاح ضروری ہے۔
خطاب کے اختتام پر مولانا سید محمد ذکی الباقری نے مظلوموں کی نصرت، امتِ مسلمہ میں بیداری و اتحاد، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام پر عمل اور امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا فرمائی۔










آپ کا تبصرہ