تحریر: عامر حسین کشمیری
حوزه نیوز ایجنسی | اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس عالمی سیاست، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات کا مرکزی پلیٹ فارم رہا ہے۔ تاہم، کچھ خطابات محض سیاسی بیانات یا سفارتی تکلفات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ تاریخ کے اوراق میں سچائی، شجاعت اور مظلوموں کی آواز بن کر درج ہو جاتے ہیں۔ ایرانی صدر کا اقوام متحدہ کے سٹیج سے کیا گیا خطاب بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے، جس نے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور بین الاقوامی پالیسیوں کے دہرے معیارات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔
اس خطاب کا سب سے نمایاں پہلو اس کا جذباتی اور حقیقت پر مبنی بیانیہ تھا، جس میں صدر نے شہید رہبر امام خامنہ ای رح کی قیادت و قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ میناب اسکول کے بے گناہ مارے گئے بچے کی مظلومیت کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ میناب اسکول کے معصوم بچوں کا ذکر ایک ایسا استعارہ بن کر ابھرا جس نے ہال میں موجود تمام مندوبین کو متوجہ کیا۔ یہ صرف ان بچوں کی داستان نہیں تھی، بلکہ ان تمام بے گناہ جانوں کی نمائندگی تھی جو سیاسی کشمکش، تنازعات اور ظالمانہ پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
میناب اسکول کے بچے کی مثال کے ذریعے ایرانی صدر نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ عالمی طاقتوں کی جنگ اور مفادات کے ٹکراؤ میں سب سے زیادہ نقصان معصوم انسانوں اور بچوں کا ہوتا ہے۔ ایک بچہ جس کا بنیادی حق تعلیم، تحفظ اور پرامن زندگی تھا، کس طرح ناانصافی کا شکار بنا۔اس حقیقت کو اقوام متحدہ کے سب سے بڑے سٹیج سے اٹھانا جرات اور انسانیت دوستی کی علامت ہے۔ اس نے اس بنیادی نقطے کی طرف اشارہ کیا کہ جب تک انسانی بنیادوں پر فیصلے نہیں کیے جائیں گے، دنیا میں حقیقی امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔
خطاب کا دوسرا اہم محور شہید رہبر کے نقشِ قدم اور ان کے پیش کردہ فلسفے کی عکاسی تھا۔ صدر نے واضح کیا کہ شہید رہبر کی قربانی اور مقاومت کا پیغام محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے ہر اس فرد اور قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ناانصافی اور تسلط کے خلاف جدوجہد کرتی ہے۔ شہید رہبر کے اصولی موقف اور استقامت نے ملت کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیا، اور یہ خطاب اس عزم کا اعادہ تھا کہ فکری اور نظریاتی راہوں کو جبر سے دبایا نہیں جا سکتا۔
اس تقریر نے اقوام متحدہ کو بھی اس کے بنیادی منشور کی یاد دہانی کرائی۔ اقوام متحدہ کا قیام مظلوموں کے تحفظ اور بین الاقوامی عدل و انصاف کے لیے عمل میں لایا گیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عالمی ادارے اکثر طاقتور ممالک کے اثر و رسوخ کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایرانی صدر کا یہ موقف کہ مظلوم کی حمایت اور ناانصافی کی مخالفت ہی بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہونی چاہیے، ایک یادگار پیغام کے طور پر دیکھا جائے گا۔
مجموعی طور پر، یہ خطاب صرف ایک روایتی تقریر نہیں تھی بلکہ یہ حق اور مقاومت کی ترجمانی تھی۔ اس نے جہاں میناب اسکول کے بچے کی مظلومیت اور شہید رہبر کے مقصد کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، وہیں دنیا کے سامنے ایک واضح اور غیر متزلزل موقف بھی پیش کیا۔ یہ خطاب تاریخ میں استقامت اور مظلومین کی آواز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔










آپ کا تبصرہ