ہفتہ 26 ستمبر 2026 - 00:32
رہبرِ شہید کی تصویر بلند کرکے صدر پزشکیان نے اقوام متحدہ میں مظلوموں کی آواز بن کر ظالموں کا چہرہ بے نقاب کیا: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ تاراگڑھ میں نمازِ جمعہ کے خطبے میں امامِ جمعہ تاراگڑھ مولانا نقی مہدی زیدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدرِ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تقریر کو قابلِ توجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایرانی عوام کے حقوق کا دوٹوک انداز میں دفاع کیا اور رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تصویر بلند کرکے ایران کے مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اجمیر/ راجستھان کے تاراگڑھ میں نمازِ جمعہ کے خطبے میں امامِ جمعہ تاراگڑھ، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید نقی مہدی زیدی نے تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے اس موقع پر بالخصوص بڑے اور بزرگ افراد کے حقوق اور ان کے احترام کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: «وَأَمّا حَقّ الْكَبِيرِ فَإِنّ حَقّهُ تَوْقِيرُ سِنّهِ وَ إِجْلَالُ إِسْلَامِهِ إِذَا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْفَضْلِ فِي الْإِسْلَامِ بِتَقْدِيمِهِ فِيهِ وَ تَرْكُ مُقَابَلَتِهِ عِنْدَ الْخِصَامِ وَلَا تَسْبِقْهُ إِلَى طَرِيقٍ وَلَا تَؤُمّهُ فِي طَرِيقٍ وَلَا تَسْتَجْهِلْهُ وَإِنْ جَهِلَ عَلَيْكَ تَحَمّلْتَ وَأَكْرَمْتَهُ بِحَقّ إِسْلَامِهِ مَعَ سِنّهِ فَإِنّمَا حَقّ السّنّ بِقَدْرِ الْإِسْلَامِ وَلَا قُوّةَ إِلّا بِاللّهِ»۔

انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تم سے بڑے اور بزرگ کا حق یہ ہے کہ اس کے سن و سال کی وجہ سے اس کا احترام کرو۔ اگر وہ اسلام میں اہلِ فضیلت ہو تو اس کے اسلام کو اہمیت دیتے ہوئے اسے اپنے سے مقدم سمجھو اور اس کے ساتھ اختلاف و دشمنی سے بچو۔ اس سے آگے نہ چلو اور راستے میں اس پر سبقت نہ کرو۔ اس سے جہالت و نادانی سے پیش نہ آؤ اور اگر وہ تمہارے ساتھ ایسا کرے تو تم برداشت کرو۔ اس کے اسلام اور بزرگی کی وجہ سے اس کا احترام و اکرام کرو، کیونکہ عمر میں بڑائی کا حق بھی اسلام کے احترام سے مربوط ہے۔

خطیبِ جمعہ تاراگڑھ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نقی مہدی زیدی نے اصولِ کافی کی کتاب «العِشرۃ» میں موجود باب «وجوب إجلال ذي الشيبة المسلم» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس باب کی روایات سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ اسلام نے بزرگوں کے حقوق کی رعایت کس طرح کی ہے اور ان کے احترام کے سلسلے میں ہمیں کس طرح ہماری ذمہ داریوں سے آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے عبداللہ بن سنان کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: «مَن إجلالِ اللّٰهِ عزّ وجلّ إجلالُ المؤمنِ ذي الشيبة، ومن أكرم مؤمناً فبكرامةِ اللّٰهِ بدأ، ومن استخفّ بمؤمنٍ ذي شيبة أرسل اللّٰه إليه من يستخفّ به قبل موته»۔»

مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ کسی بزرگ کا احترام کرنا گویا خدا کا احترام کرنا ہے، اور جو کسی مؤمن کا اکرام و احترام کرتا ہے، گویا اس نے خدا کے احترام و اکرام سے ابتدا کی۔ اس کے برخلاف جو شخص سفید بال والے مؤمن کو حقیر سمجھتا ہے، خداوند عالم اس کے پاس ایسے شخص کو بھیجتا ہے جو اس کی موت سے پہلے اس کے ساتھ گستاخی کرے۔ یہ دراصل عمل اور ردِّعمل کا قانون ہے۔

انہوں نے ایک دوسری روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام صادق علیہ السلام نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: «مَن عَرَفَ فَضلَ كبيرٍ لِسِنّهِ فَوَقَّرَهُ آمَنَهُ اللّٰهُ مِن فَزَعِ يَومِ القِيامَةِ»۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص کسی بزرگ کی تعظیم کرتا ہے اور اس کی منزلت کو پہچانتا ہے، خداوند عالم اسے قیامت کے خوف سے محفوظ رکھے گا۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے ایک حدیثِ قدسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خداوند عالم فرماتا ہے: «الشَّيبُ نُوري وأنا أستحي أن أُعذّبَ نوري بناري»۔

انہوں نے کہا کہ سفید بال میرا نور ہیں، اور مجھے حیا آتی ہے کہ اپنے نور کو اپنی آگ کے ذریعے عذاب دوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبیلہ حُذَیل کا ایک شخص رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری عمر زیادہ ہوگئی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میری طاقت بھی کم ہوگئی ہے، اب میں نماز اور روزے کو کماحقہ انجام نہیں دے پاتا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی بات دہراؤ؛ تمہارے اطراف کی ہر چیز تمہاری حالت پر رحم کھا کر گریہ کررہی ہے، تو پھر خدا تم پر کیسے رحم نہیں کرے گا۔

امامِ جمعہ تاراگڑھ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت نقل کرتے ہوئے کہا: «إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَنظُرُ فِي وَجْهِ الشَّيْخِ صَبَاحاً وَمَسَاءً فَيَقُولُ: عَبْدِي! كَبُرَ سِنُّكَ، وَدَقَّ عَظْمُكَ، وَرَقَّ جِلْدُكَ، وَرَقَبَ أَجَلُكَ، وَحَانَ قُدُومُكَ عَلَيَّ، فَاسْتَحْيِ مِنِّي فَإِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ شَيْبَتِكَ أَنْ أُعَذِّبَكَ فِي النَّارِ»۔

انہوں نے کہا کہ خداوند عالم صبح و شام بزرگ کے چہرے کو دیکھتا ہے اور فرماتا ہے: میرے بندے! تیرا سن زیادہ ہوگیا ہے، تیری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں، تیری جلد باریک اور نازک ہوگئی ہے، تیری اجل قریب آگئی ہے اور اب میری طرف تیرے آنے کا وقت قریب ہے؛ لہٰذا مجھ سے حیا کرو، کیونکہ مجھے تمہارے سفید بالوں کی وجہ سے اس بات سے حیا آتی ہے کہ تمہیں آگ میں عذاب دوں۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ اس موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گریہ طاری ہوگیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں گریہ فرما رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں اس شخص پر گریہ کرتا ہوں جس سے خدا کو عذاب دینے میں حیا آتی ہے، لیکن وہ خدا سے حیا نہیں کرتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خداوند عالم بوڑھوں کو آگ اور جہنم میں جلانے سے حیا کرتا ہے، لہٰذا بوڑھے اور بزرگ افراد کو بھی گناہ اور نافرمانی سے حیا کرنی چاہیے۔ بعض لوگوں کو گناہ کرنے کی عادت ہوجاتی ہے، انہیں چاہیے کہ جلد از جلد آبِ توبہ سے غسل کریں اور اپنی مغفرت کا سامان فراہم کریں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کے بیان اور ان روایات سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ممکن ہے کسی معاشرے میں سن رسیدہ اور بزرگ افراد کی تعداد زیادہ ہوجائے اور جدیدیت پسند طبقہ انہیں اپنے خاندان سے جدا کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل تلاش نہ کرسکے اور انہیں اولڈ ایج ہوم میں داخل کردے، لیکن اسلام سفید بال اور سفید ریش کو عظمت و برکت کی علامت سمجھتا ہے اور ہمیں حکم دیتا ہے کہ سفید ریش افراد کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بزرگوں کے مقابل کھڑا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان سے ناراض ہوکر انہیں رنجیدہ کرنا چاہیے، بلکہ یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ضعیف العمری کے سبب ان میں ضبط کی وہ طاقت باقی نہیں رہتی جو جوانی میں ہوتی ہے۔ اب ان میں بھوک، پیاس اور دیگر جسمانی کیفیات کو برداشت کرنے کی سابقہ طاقت نہیں رہتی، لہٰذا ان کے ساتھ صبر، احترام اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔

اقوام متحدہ میں ایران کی آواز بن کر ابھرے صدر پزشکیان

امامِ جمعہ تاراگڑھ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نقی مہدی زیدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدرِ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تقریر کو باوقار اور قابلِ توجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مضبوط اور دوٹوک انداز میں ایرانی عوام کے حقوق کا دفاع کیا اور امریکی و صہیونی حکام کے جرائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی یہ تقریر حقیقتاً اہم اور قابلِ قدر تھی اور عزت و وقار پر مبنی نکات سے بھرپور تھی۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ ایران نے اقوام متحدہ میں کہا کہ وہ جس ایران سے آئے ہیں، وہاں ان کے مقبول و محبوب رہبر کو شہید کیا گیا۔ اسی موقع پر انہوں نے رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تصویر بھی بلند کی۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ صدرِ ایران نے اپنی تقریر میں میناب اسکول کی معصوم بچیوں کو بمباری کا نشانہ بنائے جانے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ ان کے مطابق اصل دہشت گرد امریکہ اور اسرائیل ہیں۔

انہوں نے مزید ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفری واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدرِ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان اسی امریکہ کے شہر واشنگٹن میں انسانی ضمیروں کو جھنجھوڑ کر آئے ہیں، جبکہ ان کے مطابق یہی امریکہ ان پر حملہ کرکے انہیں ختم کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکی سے برطانیہ روانہ ہونا تھا اور انہیں ایران کی جانب سے قتل کا خوف لاحق تھا تو امریکی صدر کے سفر کا پورا منصوبہ خفیہ طور پر تبدیل کردیا گیا۔ ٹرمپ کو پہلے اپنے طیارے Air Force One میں سوار کیا گیا، پھر خفیہ طور پر اس طیارے سے نکالا گیا اور ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے منتقل کرکے ایک دوسرے، نسبتاً غیر نمایاں فوجی طیارے سے روانہ کیا گیا۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید کہا کہ یہ معاملہ اس قدر پوشیدہ رکھا گیا کہ ٹرمپ کے ساتھ سفر کرنے والے بہت سے معاونین اور صحافیوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ امریکی صدر ان کے طیارے میں موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بعد میں اس غیر معمولی تبدیلی کی تصدیق کی تھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha