اتوار 27 ستمبر 2026 - 02:03
امروہہ کی علمی و ادبی شخصیت مولانا سید محمد سیادت نقوی کی یاد میں تعزیتی نشست

حوزہ/ امروہہ کی ممتاز علمی، ادبی اور مذہبی شخصیت حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید محمد سیادت نقوی کی رحلت پر امروہہ سمیت دہلی اور دیگر مقامات پر مختلف سماجی، ادبی، ثقافتی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے تعزیتی جلسوں اور نشستوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مقررین نے مرحوم کی علمی، دینی، ادبی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی رحلت کو ایک بڑا علمی و ملی نقصان قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہر امروہا کی عظیم علمی،ادبی اور مذہبی ہستی حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت کی موت کا صدمہ کم نہیں ہورہا ہے۔ امروہا اور بیرون امروہا انکی تعزیت کے حوالے سے مختلف سماجی، ثقافتی، ادبی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے جلسوں نشستوں اور مجالس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ مولانا ڈاکٹر سیادت کے چہلم کی مجلس چار اکتوبر کو محلہ شفاعت پوتہ کے حسینی ہال میں برپا ہوگی جس سے مولانا کلب جواب خطاب کریں گے۔جن ادبی، مذہبی اور ثقافتی انجمنوں کی جانب سے مولانا مرحوم کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی جلسوں اور نشستوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان میں کاروان خلوص، انجمن رضاکاران حسینی، حسینی پیس مشن اور انجمن اکبری شامل ہیں۔

سید محمد سیادت  کی  موت کا صدمہ

کاروانِ خُلوص کی جانب سے ممتاز عالمِ دین مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت نقوی طاب ثراہ کی علمی و ملی خدمات کا اعتراف کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک باوقار ‘جلسہ اظہارِ تعزیت’ کا اہتمام کیا گیا۔

ادیب و دانشور پروفیسر ناشر نقوی نے اس تعزیتی جلسے کی نظامت کی۔ تعزیتی نشست میں مولانا مرحوم کے فرزند و جانشین مولانا ڈاکٹڑ احسن اختر سروش اور مرحوم کے بھائی پروفیسر حسنین اختر سمیت امروہہ کی ادبی اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔ نواب مراد علی خان، ، سید محبوب زیدی اور سید اویس رضوی نے مولانا مرحوم کی علمی، دینی اور ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی رحلت کو ایک عظیم نقصان قرار دیا۔

مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت نقوی کی یاد میں انجمن رضاکاران حسینی کی جانب سے بھی جلسہ تعزیت کا اہتمام کیا گیا۔جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی سماجی اور علمی شخصیتوں نے شرکت کی۔

سید محمد سیادت  کی  موت کا صدمہ

مرکزی دارالحکومت دہلی میں حسینی پیس مشن کی جانب سے مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت نقوی کی یاد میں د دعائیہ تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا۔اس تعزیتی جلسے میں دیگر علما کے ساتھ ساتھ مرحوم کے بھائی پروفیسر حسنین اختر بھی موجود تھے۔بزم شعرائے اہل بیت کی جانب سے اظہار تعزیت کے لئے محفل حمد و نعت و منقبت کا اہتمام کیا گیا۔جس میں مولانا کے فرزند اور مسجد اشرف المساجد کے موجودہ پیش امام ڈاکٹر احسن اختر سروش بھی موجود تھے۔

سید محمد سیادت  کی  موت کا صدمہ

گزشتہ 31 اگست کو مسجد اشرف المساجد کے امام جمعہ و جماعت ڈاکٹر مولانا محمد سیادت کا 86 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔وہ اپنے والد سید محمد عبادت کی موت کے بعد سے 1988 سے اشرف المساجد کے امام کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔جے ایس ڈگری کالج کے سابق سربراہ شعبہ اردو ڈاکٹر محمد سیادت بین المذاہب و مسلکی اتحاد کے علمبردار تھے۔وہ نثر و نظم پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ متعدد اردو اسکالرز نے انکی نگرانی میں تحقیقی مقالات تحریر کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔

سید محمد سیادت  کی  موت کا صدمہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha