حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی حقیقی طاقت کا اندازہ صرف معاشی وسائل اور فوجی سازوسامان سے نہیں، بلکہ ایمان، خدا پر بھروسہ، حق کی حمایت، شہدا کے راستے پر ثابت قدمی اور عوامی اتحاد سے بھی لگایا جانا چاہیے۔ یہ بات قم میں منعقدہ علمی نشست ’’ایران؛ الٰہی محاسبات کے مطابق دنیا کی پہلی طاقت‘‘ میں کہی گئی۔
حوزہ نیوز ایجنسی کی جانب سے منعقدہ اس چوتھی نشست میں حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حاج ابوالقاسم دولابی، استاد حوزہ علمیہ قم اور حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ کے خصوصی معاون، اور حجۃ الاسلام والمسلمین محمد مہدی گرجیان، استاد حوزہ علمیہ قم اور دانشگاه باقرالعلومؑ کے استاد نے گفتگو کی۔ مقررین نے قرآن و فلسفے کی روشنی میں حقیقی طاقت اور ایمان و توکل کے کردار پر روشنی ڈالی۔

ایمان اور خدا پر بھروسہ حقیقی طاقت کی بنیاد
حجۃ الاسلام والمسلمین حاج ابوالقاسم دولابی نے کہا کہ ایران کی طاقت کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم اور الٰہی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ سورۂ آل عمران کی آیت 139 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’سستی نہ کرو اور غمگین نہ ہو، تم ہی سربلند رہو گے، اگر تم مؤمن ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ قرآن نے سربلندی کو ایمان کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ ایمان صرف ذاتی عقیدہ نہیں، بلکہ مشکلات کا مقابلہ کرنے، ثابت قدم رہنے اور مستقبل سے امید رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے مؤمن معاشرے کی طاقت کے پانچ عوامل بیان کیے: خدا کی مدد، مؤمنوں کے معاملات کی اصلاح، حق کے پیروکاروں کی حمایت، شہدا کے راستے کا جاری رہنا اور الٰہی رہنما کے گرد جمع ہونے والی قوموں کی کامیابی۔

دشمن کے بے پناہ فوجی وسائل کامیابی کی ضمانت نہیں
حاج ابوالقاسم نے کہا کہ بھاری فوجی وسائل اور مالی اخراجات کے باوجود کوئی ملک اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم کے مطابق، جو لوگ لوگوں کو خدا کے راستے سے روکنے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں، ان کی کوششیں بالآخر ناکامی اور حسرت کا سبب بن سکتی ہیں۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں بھاری اخراجات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں اس وقت کے امریکی صدر نے خطے میں تقریباً سات ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا ذکر کیا تھا۔ ان کے مطابق، اتنے بڑے اخراجات کے باوجود امریکہ اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر سکا اور اسے خطے میں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بغداد میں امریکی صدر کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سفر کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور صدر مختصر وقت کے لیے امریکی فوجی اڈے پر موجود رہنے کے بعد واپس چلے گئے۔ انہوں نے اس واقعے کو خطے میں امریکی موجودگی کو درپیش سلامتی کے مسائل کی مثال قرار دیا۔
حاج ابوالقاسم نے مزید کہا کہ ایران کا دفاعی بجٹ دشمنوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ملک کی طاقت کا اندازہ صرف فوجی اخراجات سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کے مطابق، ایمان، امید اور استقامت معاشرے کو معاشی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی قوت فراہم کرتے ہیں۔
حق کی حمایت اور انسانی کرامت کا احترام
حاج ابوالقاسم نے کہا کہ حق کی حمایت حقیقی طاقت کا اہم عامل ہے۔ حق انسانی فطرت، اخلاق، عقل اور انبیائے الٰہی کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے، جبکہ انسانی کرامت اور دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے جوہری توانائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام قوموں کو پُرامن جوہری توانائی سے استفادے کا حق حاصل ہونا چاہیے، جبکہ جوہری ہتھیار کسی کے پاس نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق، علم و ٹیکنالوجی سے سب کو فائدہ اٹھانے کا موقع دینا ایک عقلی اور اخلاقی اصول ہے۔
انہوں نے غزہ میں شہریوں کی شہادت اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی جیسے واقعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو عملی طور پر بھی انسانی کرامت کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، حق کی حمایت اور انسانی اقدار کی پاسداری مؤمن معاشرے کی طاقت کے بنیادی عوامل ہیں۔
شہادت کسی تحریک کا اختتام نہیں
حاج ابوالقاسم نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں بے اثر نہیں ہوتیں، بلکہ ان کے راستے اور مقاصد آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے واقعۂ کربلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ کی شہادت کے باوجود آپؑ کا پیغام ختم نہیں ہوا، بلکہ مکتب عاشورا تاریخ میں پھیلتا گیا اور عالمی سطح پر اثرانداز ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کسی تحریک کی کامیابی کا فیصلہ صرف میدان جنگ کے فوری نتائج سے نہیں کیا جا سکتا۔ انقلاب اسلامی ایران کے شہدا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دینی نقطۂ نظر سے شہادت کسی مقصد کے خاتمے کا نام نہیں، بلکہ اس مقصد کے تسلسل کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
عوامی اتحاد اور قیادت سے وابستگی
حاج ابوالقاسم نے عوام کی دینی قیادت سے وابستگی اور اس کے ساتھ کھڑے رہنے کو قومی طاقت کا اہم عامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم خدا، رسولؐ اور اہل ایمان کی ولایت قبول کرنے والوں کے لیے کامیابی کی بشارت دیتا ہے۔
ان کے مطابق، ایرانی قوم نے گزشتہ 47 برس سے زیادہ عرصے میں اسلامی جمہوریہ کے نظام اور قیادت کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اتحاد، ثابت قدمی اور قیادت کی حمایت کو قومی طاقت کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

حقیقی طاقت صرف مادی وسائل تک محدود نہیں
نشست کے دوسرے مقرر حجۃ الاسلام والمسلمین محمد مہدی گرجیان نے کہا کہ کسی ملک کی طاقت کا اندازہ صرف اس کی معیشت، فوجی سازوسامان اور وسائل سے لگانا درست نہیں۔ عام عالمی جائزوں میں اقتصادی وسائل اور دفاعی صلاحیت کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ الٰہی محاسبات میں ایمان، استقامت اور حق کے راستے پر چلنے کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف فوجی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو تباہ کرنے اور اس کی دفاعی صلاحیت ختم کرنے کے دعوے کیے گئے، لیکن مخالفین اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔
گرجیان نے قرآن کریم کی آیت ’’فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی عزت اللہ کے لیے ہے اور مؤمن خدا سے وابستگی کے ذریعے عزت حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں بہت سی طاقتور سلطنتیں ختم ہوگئیں، لیکن حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور رسول اکرمؐ کی دعوت آج بھی باقی ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت ’’إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خدا کے دین کی مدد کرتے ہیں، اللہ ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے قدم مضبوط بناتا ہے۔
نشست کے مقررین نے زور دیا کہ ایمان، حق کی حمایت، عوامی اتحاد، خدا پر توکل اور شہدا کے راستے پر ثابت قدمی کو قومی طاقت کے جائزے میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، ان عوامل کو سمجھنا خوف پھیلانے اور ذمہ داران کے اندازۂ طاقت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ