بدھ 21 اکتوبر 2026 - 08:45
ایران؛ الٰہی محاسبات و معیارات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت / امریکہ ایرانی اقتدار کو شکست دینے سے کیوں عاجز ہے؟

حوزہ/ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نظریات اور بیانات کی تشریح کے سلسلہ میں منعقدہ تیسری نشست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام طیارہ بردار بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے باوجود امریکہ ایران کے مقابلے میں جس بے بسی کا سامنا کر رہا ہے، اس کی وجہ محض میزائل طاقت نہیں بلکہ ایسے عوامل ہیں جو دنیا کی کسی بھی فوجی اکیڈمی میں نہیں پڑھائے جاتے۔ ان عوامل میں خدا پر ایمان، دین، الٰہی قیادت، عوام کی حمایت، صبر اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل شامل ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، "ایران؛ الٰہی محاسبات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت" کے عنوان سے تیسری تشریحی نشست قم المقدسہ میں منعقد ہوئی۔ اس نشست میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی جنرل کونسل کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین مہدی سلیمانی اردہالی، حوزہ علمیہ کے مدیر کے مشیر حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن زمانی اور امام خمینی (رہ) تعلیمی و تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے امورِ تحقیق کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین مہدی ابوطالبی نے شرکت کی۔ نشست کا اہتمام حوزہ نیوز ایجنسی نے کیا تھا۔

مقررین نے قرآن کریم کی آیات اور ایرانی قوم کی چار دہائیوں پر محیط استقامت کے تجربات کی روشنی میں طاقت کے مادی اور الٰہی محاسبات کے بنیادی فرق کو واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کا مقصد دوسرے ممالک پر قبضہ کرنا یا سلطنت قائم کرنا نہیں تھا بلکہ تسلط، آمریت اور ظلم کا خاتمہ کرکے ایرانی قوم کی آزادی اور خودمختاری کو یقینی بنانا تھا۔

حقیقی طاقت کے بنیادی عوامل

جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی جنرل کونسل کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین مہدی سلیمانی اردہالی نے رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے الٰہی محاسبات میں ایرانی طاقت کے مقام سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے حقیقی طاقت کے عناصر، طاقت کے مادی اور الٰہی تصور کے فرق، انقلاب اسلامی کے فلسفۂ وجود اور جمہوریہ اسلامی ایران کے اقتدار میں خداوند متعال، دین، الٰہی قیادت اور عوام کی حمایت کے کردار پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے آیت کریمہ «اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ» (اللہ ایمان والوں کا سرپرست ہے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایران کے الٰہی محاسبات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت ہونے کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے پہلے طاقت کے بنیادی عناصر اور حقیقی اقتدار کی تشکیل میں ان کے کردار کو جاننا ضروری ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین اردہالی کا کہنا تھا کہ جب ایران کو دنیا کی پہلی طاقت قرار دیا جاتا ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس کا موازنہ کن طاقتوں سے کیا جا رہا ہے اور عالمی نظام میں طاقت کی تعریف کیا ہے۔

ایران؛ الٰہی محاسبات و معیارات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت / امریکہ ایرانی حاکمیت کو شکست دینے سے کیوں عاجز ہے؟

انہوں نے مزید کہا: اسلام کے دشمنوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں صف آرا ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دباؤ، محاصرے، مشکلات، جلاوطنی، مکہ سے مدینہ ہجرت اور بدر، احد اور احزاب جیسی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور آپ نے زمینوں پر قبضے یا توسیع پسندی کے لیے جنگوں کا آغاز نہیں کیا تھا۔

حجت الاسلام والمسلمین سلیمانی اردہالی نے کہا: انقلاب اسلامی کی حقیقت بھی یہی ہے۔ انقلاب کے بعد تقریباً 48 برسوں میں ایران نے ایسا نظام قائم کیا جس کا مقصد سلطنت بنانا یا دوسرے ممالک پر غلبہ حاصل کرنا نہیں تھا۔ یہ دعویٰ کہ جمہوریہ اسلامی ایران اسلامی ممالک پر تسلط قائم کرنے کے لیے سلطنت تشکیل دینا چاہتا ہے، انقلاب اسلامی کے مقاصد اور ماہیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ انقلاب اسلامی پہلوی حکومت کے تسلط، جہالت اور ظلم کے خاتمے کے لیے برپا ہوا تھا۔ ایرانی قوم نے آزادی، خودمختاری، امن و سلامتی اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے حق کے حصول کے لیے انقلاب برپا کیا۔

جامعہ مدرسین حوزہ کی جنرل کونسل کے سربراہ نے قرآن کریم کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» (اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اتحاد اور تفرقہ سے اجتناب کی قرآنی دعوت، عالمی تسلط اور استکبار کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی اجتماعی جدوجہد کی بنیاد ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا: جمہوریہ اسلامی ایران کے پاس ایسے عناصر موجود ہیں جو فوجی اور اقتصادی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر الٰہی نقطۂ نظر سے حقیقی طاقت تشکیل دیتے ہیں۔ ان میں خدا پر ایمان، دین، الٰہی قیادت، اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی پیروی، عوام کی حمایت اور مستقبل سے امید شامل ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین اردہالی کے مطابق، اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ الٰہی محاسبات کی بنیاد پر ایران دنیا کی پہلی طاقت نہیں تو اسے اپنے دلائل پیش کرنے چاہئیں کیونکہ طاقت کے تعین میں صرف مادی پیمانے کافی نہیں بلکہ معنوی اور اعتقادی عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

عوام کی استقامت اور حکام کی محاسباتی غلطیوں سے اجتناب

امام خمینی (رہ) تعلیمی و تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے امورِ تحقیق کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین ابوطالبی نے الٰہی محاسبات کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: موجودہ جنگی صورت حال میں رہبر شہید (رہ) نے دو اہم امور پر زور دیا تھا: اول، عوام کی استقامت اور مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت؛ دوم، حکام کا محاسباتی غلطیوں سے بچنا۔لہٰذا جنگی حالات میں عوام اور حکام دونوں کو دیگر پہلوؤں کے ساتھ معنوی اور الٰہی محاسبات کو بھی اہمیت دینی چاہیے تاکہ ایک طرف عوامی استقامت میں اضافہ ہو اور دوسری طرف دشمن پر کامیابی کی راہ ہموار ہوسکے۔

ایران؛ الٰہی محاسبات و معیارات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت / امریکہ ایرانی حاکمیت کو شکست دینے سے کیوں عاجز ہے؟

اس حوزوی استاد نے کہا: اگر ہم الٰہی محاسبات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چند شرائط کو سنجیدگی سے اختیار کرنا ہوگا جن پر قرآن کریم میں زور دیا گیا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین ابوطالبی نے مزید کہا: پہلی شرط ایمان اور توحیدی عقیدہ ہے، یعنی انسان اور معاشرے کو اس حقیقت پر یقین ہونا چاہیے کہ خداوند متعال سب سے بڑی طاقت ہے اور کائنات کے محاسبات صرف مادی عوامل تک محدود نہیں ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین ابوطالبی نے صبر کو دوسری شرط قرار دیتے ہوئے کہا: حق کے راستے پر ثابت قدم رہنا، مشکلات برداشت کرنے اور دباؤ کے مقابلے میں استقامت اختیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ ایرانی قوم نے انقلاب اسلامی کے بعد کے برسوں میں متعدد دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے راستے پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس جدوجہد کو جاری رکھنے کے لیے صبر و استقامت ضروری ہے۔

انہوں نے توسل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: اہل بیت علیہم السلام سے توسل اور اولیائے الٰہی سے روحانی تعلق کے فیوض سے استفادہ بھی ان عوامل میں شامل ہے جن پر اس نقطۂ نظر میں ایمان اور عملی جدوجہد کے ساتھ زور دیا جاتا ہے۔

اس حوزوی استاد نے تزکیۂ نفس اور باطن کی پاکیزگی کو بھی اہم شرائط میں شمار کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ علمی مثالوں میں بیان کیا گیا، انسان کو تخصصی اور علمی جدوجہد کے ساتھ اپنی روحانی حالت کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور قلب کی پاکیزگی اور خداوند متعال سے تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

امام خمینی (رہ) تعلیمی و تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے امورِ تحقیق کے مسئول نے کہا: گزشتہ برسوں میں جمہوریہ اسلامی ایران میں توحیدی عقیدے اور علمی و تخصصی جدوجہد کے باہمی تعلق کی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں۔ جوہری سائنس دانوں کے حوالے سے بیان کیے گئے تجربات سے لے کر میزائل صنعت کے ماہرین کی کوششوں تک، یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ توحیدی نقطۂ نظر علم و ٹیکنالوجی سے لے کر دفاع اور سلامتی تک مختلف شعبوں میں تحریک و رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

’’ہم یقیناً کامیاب ہوں گے‘‘؛ توحیدی نقطۂ نظر برقرار رکھنے پر زور

حجت الاسلام والمسلمین ابوطالبی نے اہل بیت علیہم السلام سے ایرانی عوام کی گہری عقیدت اور حق کے قیام کے لیے ان کی استقامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جو قوم اہل بیت علیہم السلام سے توسل کرتی ہے، حق کے قیام کے لیے جدوجہد کرتی ہے اور اس راستے میں خوفزدہ نہیں ہوتی، اسے اپنی طاقت اور مستقبل کا جائزہ لیتے وقت الٰہی محاسبات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر ہمارے محاسبات صرف مادی بنیادوں پر ہوں تو ممکن ہے کہ بڑی طاقتوں کے مقابلے میں ہم اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ہم ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن جب ہم اپنے محاسبات میں الٰہی قدرت کو بھی شامل کرتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں، جدوجہد کے راستے اور کامیابی کے امکانات کا جائزہ مختلف انداز میں لیتے ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین ابوطالبی نے شہید سید حسن نصر اللہ کے اس جملے کا حوالہ دیا جو انہوں نے اپنے ہاتھ سے تحریر کیا تھا اور کہا: ’’قطعاً سننتصر‘‘ یعنی ’’ہم یقیناً کامیاب ہوں گے‘‘ کا مفہوم حق کے محاذ کی کامیابی پر اسی یقین کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ عقیدہ ہے جسے ایمان، صبر، توسل، تزکیۂ نفس اور عملی جدوجہد کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے۔

قرآنی نقطۂ نظر سے طاقت کے پیمانے

حوزہ علمیہ کے مدیر کے مشیر اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے علمی بورڈ کے رکن حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن زمانی نے بھی اس سلسلے کی تیسری علمی و تشریحی نشست سے خطاب کیا۔

ایران؛ الٰہی محاسبات و معیارات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت / امریکہ ایرانی حاکمیت کو شکست دینے سے کیوں عاجز ہے؟

انہوں نے مادی اور الٰہی مکاتبِ فکر میں طاقت کے معیار کی وضاحت کرتے ہوئے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں کامیابی کے اصولوں اور جمہوریہ اسلامی ایران کے اقتدار کے اسباب پر گفتگو کی۔

انہوں نے بحث کے لیے چار موضوعات پیش کیے: طاقت کا معیار کیا ہے؟ ایران کے اقتدار کے اسباب کیا ہیں؟ رمضان جنگ کا مستقبل کیا ہوگا؟ امریکہ کی دھمکیوں، بالخصوص ایٹم بم استعمال کرنے کی دھمکی، کا تجزیہ کیسے کیا جانا چاہیے؟

انہوں نے پہلے دو موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی جبکہ جنگ کے مستقبل اور امریکہ کی جوہری دھمکیوں کا جائزہ کسی آئندہ نشست کے لیے مؤخر کردیا گیا۔

حجت الاسلام والمسلمین زمانی نے کہا: ایران کے الٰہی محاسبات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت ہونے کے دعوے کا جائزہ لینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طاقت کا معیار کیا ہے اور کسی ملک کی طاقت جانچنے کے لیے کن پیمانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے طاقت کے مادی اور الٰہی تصورات میں فرق بیان کرتے ہوئے کہا: دنیا کے مختلف ممالک میں قائم فوجی اور جنگی اکیڈمیوں سمیت مادی مکاتبِ فکر میں طاقت کو عموماً دو بنیادی معیاروں سے جانچا جاتا ہے: اول، بڑی اور طاقتور فوج کا ہونا؛ دوم، جدید اور کثیر تعداد میں اسلحے کی دستیابی۔

حجت الاسلام والمسلمین زمانی نے قرآن کریم کی تعبیر «بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ» کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ جو دشمن صرف فوجی تعداد اور مادی وسائل پر بھروسا کرتے ہیں، وہ کامیابی میں کردار ادا کرنے والے دیگر عوامل سے غافل رہتے ہیں۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے علمی بورڈ کے رکن نے کہا: قرآنی نقطۂ نظر سے مضبوط ایمان، صبر اور استقامت طاقت کے بنیادی ارکان ہیں۔ ایمان گہرا اور ہمہ گیر ہونا چاہیے، جبکہ مؤمن معاشرے کو بھی صبر، ثابت قدمی اور منزل تک پہنچنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا جذبہ مضبوط بنانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: ولایت فقیہ پر اعتقاد نہ رکھنے والے افراد بھی بعض معاملات میں ولی فقیہ کی رائے کو اپنی ذاتی تشخیص کے مطابق درست سمجھ کر قبول کرسکتے ہیں۔ اس لیے ولایت فقیہ پر اعتقاد کا معیار صرف ان فیصلوں کو قبول کرنا نہیں ہوسکتا جو کسی شخص کی ذاتی رائے میں منطقی دکھائی دیتے ہوں۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے علمی بورڈ کے رکن نے مزید کہا: جو معاشرہ خدا کے لیے جدوجہد کرے، اپنا اتحاد برقرار رکھے، اہل بیت علیہم السلام سے توسل کرے اور قیادت کی پیروی کرے، وہ صبر و استقامت اور دفاعی وسائل کی فراہمی کے ساتھ قرآنی نقطۂ نظر سے اقتدار کے بنیادی عناصر کا حامل ہوگا۔

ایرانی قوم کی ثابت قدمی؛ قرآنی محاسبات کا ایک مظہر

حجت الاسلام والمسلمین زمانی نے کہا: جمہوریہ اسلامی ایران ان دونوں بنیادی ارکان کا حامل ہے۔ ایرانی مسلح افواج، قیادت اور عوام دشمن کی دھمکیوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کا جذبہ رکھتے ہیں، جس کا اظہار رات کے وقت منعقد ہونے والے عوامی اجتماعات میں بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے چھ ماہ سے زائد عرصے تک رات کے وقت عوامی اجتماعات کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جنگ اور دشمن کے حملوں کے دوران بھی عوام کا اپنی جگہ موجود رہنا اور میزائل گرنے کے مقامات کی صورت حال معلوم کرنے کے لیے وہاں پہنچنا، جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بجائے، ایرانی معاشرے کی بے خوفی اور استقامت کا مظہر ہے۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے علمی بورڈ کے رکن نے زور دیا کہ مضبوط ایمان اور آخری منزل تک صبر و استقامت قرآنی نقطۂ نظر سے طاقت کے دو بنیادی معیار ہیں۔ جس معاشرے میں یہ دونوں عناصر موجود ہوں، اس میں دشمن پر غلبہ پانے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» (اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو ثابت رکھے گا) کا دوبارہ حوالہ دیتے ہوئے کہا: جو معاشرہ اپنے ایمان کو مضبوط کرے، اتحاد و یکجہتی برقرار رکھے، اہل بیت علیہم السلام سے توسل کرے، قیادت کی پیروی کرے اور صبر، استقامت و دفاعی آمادگی کو فروغ دے، وہ قرآنی محاسبات کے مطابق اقتدار کے بنیادی عناصر سے بہرہ مند ہوگا۔

حجت الاسلام والمسلمین زمانی نے رمضان جنگ کے مستقبل، اس میں شکست یا کامیابی کے امکانات اور امریکہ کی جانب سے ایٹم بم استعمال کرنے سمیت دیگر دھمکیوں کو ایسے موضوعات قرار دیا جن پر کسی آئندہ نشست میں گفتگو کی جائے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے جمہوریہ اسلامی ایران کی کامیابی، امریکہ کی شکست اور صہیونی حکومت کی نابودی کی امید ظاہر کی اور حاضرین سے اپیل کی کہ وہ عالمی کفر کے مقابلے میں جمہوریہ اسلامی ایران کی کامیابی کے لیے دعا کریں۔

ایران؛ الٰہی محاسبات و معیارات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت / امریکہ ایرانی حاکمیت کو شکست دینے سے کیوں عاجز ہے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha