منگل 29 ستمبر 2026 - 23:40
ایران: طاقت کو پرکھنے کا الٰہی زاویہ

حوزه/دنیا میں کسی ملک کی طاقت کا اندازہ عموماً اس کی معیشت، فوج، جدید اسلحے، سائنسی ترقی، سیاسی اثر و رسوخ اور عالمی سطح پر اس کے کردار سے لگایا جاتا ہے۔ لیکن طاقت کو دیکھنے کا ایک اور زاویہ بھی ہے، جس میں قوموں کی قوت کو صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ ایمان، عزم، استقامت، خود اعتمادی اور اپنے اصولوں کے لیے کھڑے ہونے کی صلاحیت سے بھی پرکھا جاتا ہے۔

تحریر: مولانا سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزه نیوز ایجنسی!

دنیا میں کسی ملک کی طاقت کا اندازہ عموماً اس کی معیشت، فوج، جدید اسلحے، سائنسی ترقی، سیاسی اثر و رسوخ اور عالمی سطح پر اس کے کردار سے لگایا جاتا ہے۔ لیکن طاقت کو دیکھنے کا ایک اور زاویہ بھی ہے، جس میں قوموں کی قوت کو صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ ایمان، عزم، استقامت، خود اعتمادی اور اپنے اصولوں کے لیے کھڑے ہونے کی صلاحیت سے بھی پرکھا جاتا ہے۔

اسی مختلف زاویۂ نگاہ کو آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے حالیہ پیغام میں بیان کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں:

’’آج بعض لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی سپر پاور سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ یہ بات دنیاوی حساب کتاب کی بنیاد پر کہتے ہیں؛ لیکن الٰہی محاسبات کے مطابق، جو ملک خود کو عترتِ طاہرہ صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین سے وابستہ سمجھتا ہو، جس کے بیشتر لوگ ان بلند مرتبہ ہستیوں سے دلی وابستگی رکھتے ہوں اور حق کے قیام کے لیے کسی خوف میں مبتلا نہ ہوں، وہ دنیا کی پہلی طاقت ہے۔‘‘
اس اقتباس میں اصل توجہ ’’پہلی طاقت‘‘ کے دعوے سے زیادہ طاقت کے معیار پر ہے۔
دنیاوی حساب کتاب میں طاقت کو اعداد میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ کتنی بڑی معیشت ہے، دفاعی بجٹ کتنا ہے، فوجی سازوسامان کتنا ہے، جدید ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچی ہے اور عالمی سیاست میں کتنا اثر ہے۔ یہ سب طاقت کے اہم پیمانے ہیں اور انہی بنیادوں پر دنیا مختلف ممالک کی طاقت کا موازنہ کرتی ہے۔
لیکن الٰہی محاسبات کا تصور اس سے مختلف ہے۔ یہاں سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ قوم کے پاس مقصد کیا ہے، اس کے اندر اپنے اصولوں پر قائم رہنے کا کتنا حوصلہ ہے، مشکلات کے سامنے اس کا رویہ کیا ہے اور حق کے قیام کے لیے وہ کس حد تک ثابت قدم رہ سکتی ہے۔

قرآن مجید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ’’کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، اگر تم ایمان رکھتے ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔‘‘ (آل عمران: 139)
ایران کی موجودہ حیثیت کو سمجھنے کے لیے اس کے گزشتہ کئی عشروں کے حالات بھی سامنے رکھنا ضروری ہیں۔ ایران نے طویل عرصے تک اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور مختلف بیرونی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود اس نے متعدد شعبوں میں اپنی داخلی صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کی، خصوصاً دفاعی اور میزائل ٹیکنالوجی میں اس کی مقامی پیداوار اور خود انحصاری میں اضافہ ہوا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رہنا چاہیے: ایران کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی یا عسکری طاقت قرار دینا ایک الگ دعویٰ ہے، جبکہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغام میں ’’پہلی طاقت‘‘ کی تعبیر ایک الٰہی اور اعتقادی معیار کے حوالے سے استعمال ہوئی ہے۔ اس لیے دونوں تصورات کو ایک ہی ترازو میں رکھنا درست نہیں ہوگا۔
پیغام کا ایک اہم پہلو عترتِ طاہرہ علیہم السلام سے وابستگی اور اقامۂ حق کے لیے خوف سے آزاد ہونے کو طاقت کی بنیاد قرار دینا ہے۔ اس تصور میں طاقت محض ہتھیار نہیں؛ ایمان بھی طاقت ہے، اجتماعی عزم بھی طاقت ہے، قربانی کا جذبہ بھی طاقت ہے اور مشکل حالات میں اپنے اصولوں پر قائم رہنا بھی طاقت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کی حقیقی قوت کو سمجھنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ اس کے پاس کتنے وسائل ہیں؛ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ وسائل، ارادہ اور انسانی قوت کس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغام میں ماضی اور حال کا تقابل بھی اسی تناظر میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایران کے انقلاب سے پہلے کے دور، آٹھ سالہ جنگ، بعد کے دباؤ اور موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی خود انحصاری، استقلال اور اجتماعی وابستگی کو اس تبدیلی کے اہم پہلوؤں کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس پورے تصور کا خلاصہ شاید ایک جملے میں یوں کیا جاسکتا ہے:

دنیا طاقت کو وسائل سے ناپتی ہے، جبکہ الٰہی میزان میں طاقت کا تعلق ایمان، ارادے، استقامت اور حق کے لیے کھڑے ہونے سے بھی ہے۔
یہی وہ فکری نکتہ ہے جس کی طرف اس پیغام میں توجہ دلائی گئی ہے۔ ’’دنیا کی چوتھی سپر پاور‘‘ اور ’’الٰہی محاسبات میں پہلی طاقت‘‘ دراصل طاقت کے دو مختلف پیمانوں کی تعبیر ہیں۔ ایک مادی دنیا کا پیمانہ ہے اور دوسرا ایمان و اعتقاد کا۔

آخرکار قوموں کی تاریخ صرف ان کے پاس موجود ہتھیاروں سے نہیں لکھی جاتی؛ اسے ان کے عزم، قربانی، علم، کردار اور مشکل وقت میں کیے گئے فیصلے بھی تشکیل دیتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بنیاد پر ایران کی طاقت کو محض فوجی یا معاشی قوت کے بجائے ایک وسیع تر فکری اور نظریاتی تناظر میں دیکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔

حوالہ جات:

قرآن مجید، سورۂ آل عمران، آیت 139
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای، پیغام بہ مناسبت ایام دفاع مقدس، 6 مہر 1405 / 28 ستمبر 2026
ایران کی فوجی صلاحیت اور دفاعی پیداوار سے متعلق تجزیات

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha