تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزه نیوز ایجنسی | اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسعود پزشکیان کی تقریر محض ایک سربراہِ مملکت کا خطاب نہیں تھی؛ یہ ایران کے خلاف جاری جنگ اور عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار کے خلاف ایک کھلا مقدمہ تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے سفارتی ایوان میں پزشکیان ایک طرف شہید رہبر آیت اللہ علی خامنہ ایؒ کی تصویر اور دوسری طرف میناب کے شہید بچوں کی تصاویر لیے کھڑے تھے۔ یہ منظر الفاظ سے زیادہ طاقتور تھا: ایک شہید رہبر اور معصوم بچوں کی تصویریں، دونوں ایک ایسے ملک کی گواہی دے رہی تھیں جو پزشکیان کے بقول دہشت گردی کا مرتکب نہیں بلکہ خود اس کا شکار ہے۔
پزشکیان نے دوٹوک کہا: ’’ہم دہشت گرد نہیں، دہشت گردی کے شکار ہیں۔‘‘ ان کے مطابق جن قوتوں نے ایران کے رہنماؤں، سائنس دانوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، وہی آج ایران کو دہشت گرد قرار دے رہی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ طاقتور کے حملے کو ’’کارروائی‘‘ اور کمزور کی مزاحمت کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینے کا یہ دوہرا معیار اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
میناب کے اسکول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی فوجی مورچہ نہیں تھا؛ بچے تھے، کتابیں تھیں اور مستقبل کے خواب تھے۔ امریکی بمباری نے ان خوابوں کو ملبے میں بدل دیا۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے بھی اس حملے کے بارے میں جنگی جرم کے لیے ’’معقول بنیاد‘‘ موجود ہونے کی بات کی ہے۔
لامِرد کے اسپورٹس ہال کا ذکر کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ وہاں امریکی کلسٹر بم استعمال کیے گئے اور ایران کے سائنس دانوں، عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا سوال تھا کہ اگر ایران دہشت گرد ہے تو پھر ان حملوں کی ذمہ داری کون قبول کرے گا جن میں بے گناہ شہری مارے گئے؟
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران کی فوجی طاقت کسی ملک پر تسلط یا جارحیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکی اور طاقت کے ذریعے اس کی خودمختاری چھیننے کی کوشش قبول نہیں کرے گا۔
غزہ کا ذکر کرتے ہوئے پزشکیان نے انسانی حقوق کے عالمی دعووں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے نزدیک انسانی جان کی حرمت سرحد، مذہب اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونی چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جوہری توانائی علاج، زراعت اور توانائی کی ضروریات کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
پزشکیان کی تقریر کے دوران امریکی وفد کا اجلاس سے باہر نکل جانا بھی قابلِ ذکر منظر تھا۔ مگر تصاویر اپنی جگہ موجود رہیں: شہید رہبر کی تصویر، شہید بچوں کے چہرے اور ایک قوم کی فریاد۔
پزشکیان کا پیغام صاف تھا: ایران دہشت گردی کا مرکز نہیں، دہشت گردی کا شکار ہے؛ جنگ کا خواہش مند نہیں، مگر جارحیت کے سامنے سر جھکانے کے لیے بھی تیار نہیں۔
ایک طرف شہید رہبر، دوسری طرف شہید بچے؛ اور درمیان میں ایک قوم کی پکار:
ہمیں دہشت گرد نہ کہو، پہلے ہمارے زخم دیکھو۔









آپ کا تبصرہ