حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ضلع جیکب آباد کے گاؤں لیموں خان لاشاری، تحصیل ٹھل میں آئی ایس او کے سابق ڈویژنل صدر برادر فضل عباس لاشاری سے ملاقات کی اور انہیں 23 اکتوبر کو منعقد ہونے والی عظمتِ شہداء کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ سانحہ شبِ عاشور جیکب آباد کے شہداء کی قربانیاں ملتِ جعفریہ کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ شہداء کی یاد منانا، ان کے مشن کو زندہ رکھنا اور ان کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری دینی، ملی اور قومی ذمہ داری ہے۔
دریں اثناء تھہیم قبیلے کے رہنما سردار عبدالغفار خان تھہیم نے ایک وفد کے ہمراہ علامہ مقصود علی ڈومکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے انہیں سیرتِ امام حسین علیہ السلام، نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موضوع پر کتاب کا تحفہ پیش کیا۔ ملاقات میں اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت و باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین عزاداری ونگ کے صوبائی رہنما برادر دیدار حسین تھہیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ایک وفد نے نومنتخب ریجنل صدر برادر اظہار الحسن اور سیکرٹری ریجنل نظارت کی قیادت میں علامہ مقصود علی ڈومکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ آئی ایس او نظامِ ولایت پر ایمان رکھنے والے انقلابی، باشعور اور بہادر نوجوانوں کی جماعت ہے، جس نے ہر دور میں حق و صداقت، اسلامی اقدار اور ملک و ملت کی سربلندی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی فکری، اخلاقی اور دینی تربیت ایک مضبوط اور بیدار معاشرے کی بنیاد ہے۔
اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے برادر اظہار الحسن کو آئی ایس او پاکستان اپر سندھ ریجن کا صدر منتخب ہونے پر پھولوں کے ہار پہنا کر مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی ایس او کے ذمہ داران کو 23 اکتوبر کو منعقد ہونے والی عظمتِ شہداء کانفرنس میں خصوصی شرکت کی دعوت بھی دی۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے جیکب آباد میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جیکب آباد کو یونیورسٹی کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے ہر ضلع میں یونیورسٹی قائم ہونی چاہیے، تاکہ نوجوان نسل کو اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں۔ یونیورسٹی نہ ہونے کے باعث جیکب آباد اور گردونواح کے متعدد طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بہت سے نوجوان تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی اور روایتی معاشرتی ماحول میں طالبات کے لیے دور دراز شہروں کا سفر کرنا بالخصوص مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح سفری اخراجات، رہائش اور دیگر تعلیمی اخراجات بھی غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر جیکب آباد میں یونیورسٹی قائم کی جائے تو طلبہ و طالبات کو گھر کے قریب معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا، والدین کے اخراجات میں کمی آئے گی اور بالخصوص طالبات کی تعلیم کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے مطالبہ کیا کہ حکومت جیکب آباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے اور صوبے کے دیگر پسماندہ اضلاع میں بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں، کیونکہ تعلیم ہر نوجوان کا بنیادی حق اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔










آپ کا تبصرہ