حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے شہر جیکب آباد میں 30 اکتوبر 2026ء کو جامع مسجد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام جیکب آباد میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ جیکب آباد علامہ مقصود علی ڈومکی نے خطاب کے دوران کہا: ایامِ فاطمیہ منانے کا بنیادی مقصد سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی سیرتِ طیبہ، کردار، فضائل اور تعلیمات کو عام کرنا اور دنیا کو آپ سلام اللہ علیہا کی عظیم شخصیت سے روشناس کرانا ہے۔ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذاتِ مبارکہ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے عظمت، پاکیزگی، ایثار، عبادت، صبر، حق گوئی اور استقامت کا کامل نمونہ ہے۔
انہوں نے کہا: سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا نے اپنی مختصر زندگی میں حق و صداقت، دفاعِ ولایت، مظلوموں کی حمایت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے ایسا روشن باب رقم کیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ آپ علیہ السلام کی عبادت، علم، تقویٰ، سخاوت، بصیرت اور حق کے لیے بے مثال استقامت تاریخِ اسلام کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا: خطبۂ فدکیہ علم و حکمت، فصاحت و بلاغت، توحید، معرفتِ الٰہی اور سیاسی و دینی بصیرت کا عظیم سرچشمہ ہے۔ عالمِ انسانیت، بالخصوص خواتین کو چاہیے کہ وہ سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کی سیرتِ طیبہ کو اپنے لیے نمونۂ عمل قرار دے کر اپنی دنیا و آخرت سنواریں۔
انہوں نے مزید کہا: ناصبی فکر اور دشمنانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے تاریخی کردار کو بے نقاب کرنے کے لیے مولانا اللہ وسایا کی کتاب احتسابِ ناصبیت دورِ حاضر کی ایک اہم علمی و تحقیقی ضرورت ہے۔ آج منظم انداز میں تاریخی حقائق کو مسخ کرکے دشمنانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو امتِ مسلمہ کے ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عالمِ اسلام، بالخصوص برادرانِ اہلِ سنت کو ایسی کوششوں کا علمی، فکری اور تحقیقی بنیادوں پر مقابلہ کرنا چاہیے۔ آلِ رسولؐ سے محبت ایمان کا تقاضا ہے، جبکہ ان سے بغض و عداوت نفاق کی علامت ہے۔

امام جمعہ جیکب آباد نے سانحۂ نمازِ جمعہ، کربلا معلیٰ امام بارگاہ شکارپور کے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس سانحے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف شہداء کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ مظہر حسین منگریو، ایڈووکیٹ سید قاسم شاہ، ایڈووکیٹ منظور حسین لاڑک اور دیگر وکلاء نے جرأت، بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ قانونی جنگ لڑی۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کی جانب سے ملزمان کی اپیلیں مسترد ہونے اور سزائے موت برقرار رہنے سے شہداء کے خاندانوں کو انصاف کی امید ملی ہے۔ ہم شہداء کے مقدمے کی پیروی کرنے والے تمام بہادر اور جرأت مند وکلاء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: شہداء کا مقدس لہو اور ان کے عظیم اہداف قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ دہشت گردی کے خاتمے، قانون کی بالادستی اور مظلوم خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ شہداء کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے اور انصاف کے حصول کے لیے قانونی جدوجہد کرنے والے وکلاء کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے مجاہدین کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو قاعدین پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ نائب امام، ولیِ خدا آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں حق کا پرچم بلند کرکے شیاطینِ عالم کے مقابل صف آرا افراد دینِ خدا کی سربلندی اور امتِ مسلمہ کے وقار کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے اور انسانیت کو ان پر ناز ہے۔










آپ کا تبصرہ