پیر 12 اکتوبر 2026 - 09:35
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ اور عوام کے منتخب وزیر اعلیٰ کی برطرفی اور گرفتاری غیر جمہوری اقدام ہے، علامہ مقصود علی ڈومکی

حوزہ/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگانے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری طرزِ عمل قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگانے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری طرزِ عمل قرار دیا ہے۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ جمہوریت عوامی رائے، آئین کی بالادستی، پارلیمانی نظام اور صوبائی خودمختاری کے احترام کا نام ہے۔ کسی بھی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدامات اٹھانے سے پہلے آئینی تقاضوں، جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) خود کو جمہوریت کا علم بردار اور جمہوری اقدار کا محافظ قرار دیتی ہیں، لیکن ان کے دورِ حکومت میں اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جو جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے سوالات پیدا کریں تو یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ جمہوریت کے دعوے صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، آئین کی پاسداری اور عوامی حقوق کے تحفظ سے ثابت ہوتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ سیاسی اختلافات اور حکومتی مسائل کا حل طاقت کے استعمال یا غیر معمولی انتظامی اقدامات کے بجائے مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور جمہوری اداروں کے احترام کی ضرورت ہے۔ ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو سیاسی کشیدگی میں اضافے، وفاق اور صوبوں کے درمیان عدم اعتماد یا جمہوری نظام کے بارے میں خدشات کو جنم دیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی صدر نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے معاملے کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیا جائے، جمہوری روایات کا احترام کیا جائے اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اسی صورت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں، آئینی اصولوں اور جمہوری اقدار کی یکساں پاسداری کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha