حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے مسجد حسینی و کربلائی امام بارگاہ ڈیرہ مراد جمالی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلِ محمدؑ سے محبت ایمان کی علامت اور تعلیماتِ اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کے فضائل و مناقب کا انکار کرنے والے ناصبی عناصر اپنی یزیدی فکر کو معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، جن کی فکری اور علمی سطح پر حوصلہ شکنی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا اللہ وسایا کی جانب سے احتسابِ ناصبیت کے عنوان سے بارہ جلدوں پر مشتمل علمی ذخیرے کی تدوین اہلِ بیت اطہار علیہم السلام سے محبت، مودت اور ان کے فضائل کے دفاع کی ایک اہم علمی کاوش ہے۔ اہلِ سنت کے علمائے کرام، مشائخ عظام اور عوام کو ایسے عناصر پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو بغضِ اہلِ بیتؑ میں مبتلا ہوکر دشمنانِ اہلِ بیت کو ہیرو بنا کر اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ آج سے گیارہ سال قبل سن 2015 میں چھلگری اور جیکب آباد میں دھشت گردی کے دو المناک سانحہ ہوئے۔ جن کا مقصد عزاداران امام حسین علیہ السلام کو خوفزدہ کرنا تھا۔ سانحۂ شبِ عاشور کے تکفیری اور ناصبی دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو گئے۔ آج بھی ذکرِ اہلِ بیتؑ زندہ و تابندہ ہے۔ بم دھماکوں، دھمکیوں، منفی پروپیگنڈے اور دشمن کی تمام تر سازشوں کے باوجود عاشقانِ اہلِ بیتؑ نے عشقِ آلِ محمدؑ میں جس ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔ شہدائے چھلگری و جیکب آباد کی قربانیاں ہمارے عزم، اتحاد اور اہلِ بیت اطہار علیہم السلام سے وابستگی کی روشن علامت ہیں۔

انہوں نے ڈیرہ مراد جمالی کے علمائے کرام، مشائخ عظام، ماتمی انجمنوں، مذہبی و سماجی شخصیات اور عوام کو دعوت دی کہ وہ 23 اکتوبر 2026ء کو جیکب آباد میں منعقد ہونے والی عظمتِ شہداء کانفرنس اور سانحۂ شبِ عاشور کے شہداء کی گیارہویں برسی میں بھرپور شرکت کریں اور شہداء کے مشن سے اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔
ملکی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، استحکام، جمہوری بالادستی اور قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے کہ 1973ء کے متفقہ آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں منتخب عوامی حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج نافذ کرنا ایک سنگین سیاسی اور جمہوری غلطی ہے، جس کے ملک کے سیاسی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے معاملات کو حکمرانوں نے غلط پالیسیوں، سیاسی نااہلی اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کے باعث پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب خیبر پختونخوا میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات سے حالات کو مزید خراب کرنے کا خدشہ ہے۔ ملک میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، آئینی حدود کی پاسداری کی جائے اور سیاسی مسائل کو طاقت کے بجائے جمہوری مکالمے اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔
تقریب سے علامہ سیف علی ڈومکی نے بھی خطاب کیا، جبکہ مدرسہ امام صادق علیہ السلام کے پرنسپل علامہ محمد رضا مفکر امام بارگاہ کے بانی حاجی ہدایت اللہ گورشانی نے خصوصی طور پر مجلسِ عزا میں شرکت کی۔
اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین ضلع نصیرآباد کے رہنما سید سعید علی شاہ نے بارگاہِ اہلِ بیت علیہم السلام میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے امام بارگاہ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔










آپ کا تبصرہ