حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ سید حسن ظفر نقوی نے حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے حالیہ دورۂ عراق و ایران کے مشاہدات بیان کیے۔
انہوں نے کہا: پاکستان سے روانہ ہوئے ہمیں تقریباً 20 سے 22 دن ہو چکے ہیں۔ اس دوران کربلا، نجف اشرف اور مشہد مقدس جانے کا شرف ملا۔ ان مقامات پر عوام کو مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اس سفر میں ایک نمایاں تبدیلی یہ محسوس ہوئی کہ مشکلات کے باوجود لوگوں کے اندر استقامت، امید اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہنے کا جذبہ موجود ہے۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا: عمومی طور پر جب لوگوں کی مشکلات بڑھتی ہیں تو حکومتوں کے خلاف غصے اور احتجاج میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہمارے حالیہ مشاہدات میں یہ رجحان مختلف نظر آیا۔ خصوصاً ایران میں عوامی سطح پر جس طرح نظام کے ساتھ وابستگی اور حمایت کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ ان کے بقول، اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے اسلامی انقلاب، مزاحمت و مقاومت اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین، مؤمنین کی امید کا سرچشمہ ہے
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: سیاست دانوں اور رہنماؤں کے وعدے اپنی جگہ، لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے اہلِ ایمان کے لیے حقیقی امید اور اعتماد کا سرچشمہ ہیں۔
سورۂ نور کی آیت 55 میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں زمین میں اقتدار و خلافت عطا کرے گا، ان کے لیے پسندیدہ دین کو استحکام بخشے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ خلافت اور وراثت کا تصور صرف اقتدار حاصل کرنے تک محدود نہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نمائندے تھے لیکن تمام انبیاء کو ظاہری حکومتی اقتدار حاصل نہیں تھا۔ مذکورہ آیت میں اہلِ ایمان کے لیے زمین میں اقتدار، دین کے استحکام اور خوف کے خاتمے کا وعدہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا: جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے، وہ مشکلات کے بڑھنے سے مایوس نہیں ہوتے، بلکہ ان کا ایمان اور اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔ میں نے کربلا اور نجف اشرف میں دعاؤں، مناجات اور دینی جذبے کی جو کیفیت دیکھی، وہ میرے لیے غیر معمولی تھی۔ لوگوں کی دعاؤں اور ان کے اندازِ اظہار سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ حالات کے باوجود اپنے عقیدے اور امید سے وابستہ ہیں۔

ایران کی استقامت نے عالمی طاقتوں کے بارے میں تصورات بدل دیے
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے ایران کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: نجف اشرف میں بعض انقلابی علمائے کرام کے خطابات سننے کا موقع ملا، جن میں لوگوں کے اندر غیر معمولی جوش، ولولہ اور استقامت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس کے بعد جب مشہد مقدس پہنچے تو وہاں عوام کی موجودگی، ان کے جذبات اور نظام سے وابستگی کا مشاہدہ کیا۔ طویل کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجود لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا اور اپنی حمایت کا اظہار کرنا ایک اہم پہلو ہے۔
انہوں نے کہا: اس صورتِ حال نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ ایران نے اپنی مزاحمت کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ بڑی طاقتوں کا مقابلہ ممکن ہے اور انہیں اپنے عزائم پر نظرثانی کرنے پر بھی مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا: ایران کو شدید حملوں، تباہی اور اہم شخصیات کی شہادتوں جیسے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان حالات کے باوجود وہاں عوامی استقامت اور قومی وابستگی کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ ان کے مطابق، رہبر کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال اور عوامی ردعمل نے اس مزاحمتی جذبے کو مزید نمایاں کیا ہے۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا: دنیا کے مختلف ممالک میں جنگی حالات کے دوران حکومتوں کو عوامی حمایت کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں، لیکن ایران میں صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بقول، جو لوگ پہلے نظام کے مخالف تھے، ان میں سے بعض کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ہے اور وہ موجودہ حالات میں نظام کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
رہبر کی شہادت کے بعد قیادت کا تسلسل اہم ہے
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے رہبری و قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اسلام میں اصل معیار عمر نہیں، بلکہ صلاحیت، علم، شجاعت اور بصیرت ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ علیہ السلام کی شخصیت میں علم، شجاعت اور قیادت کی بے مثال صفات جمع تھیں۔ اس لیے کسی رہبر کی عمر کو بنیاد بنا کر ان کی صلاحیتوں کے بارے میں فیصلہ کرنا درست نہیں۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ علی خامنہ ای کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: رہبر کی شہادت کے بعد قیادت کا تسلسل اور نئی قیادت کے بارے میں قوم کا اعتماد اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، نئی قیادت کو قبول کیے جانے سے نظام کے تسلسل اور قومی یکجہتی کا اظہار ہوا ہے۔

یمن کی استقامت نے خطے کی مزاحمتی تحریکوں کو حوصلہ دیا
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے یمن کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: یمنی عوام نے بھی اپنی استقامت اور مزاحمت کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ دباؤ اور حملوں کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، یمن کے خلاف کارروائیوں اور بمباری کے باوجود وہاں مزاحمت کا جذبہ برقرار رہا ہے۔
انہوں نے عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جب امریکہ یا اسرائیل کارروائی کرتے ہیں تو ان کے اقدامات کو مختلف جواز فراہم کیے جاتے ہیں، لیکن جب کوئی قوم ان اقدامات کے خلاف جواب دیتی ہے تو اسے دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار ہے، جس پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: یمن کی استقامت صرف اسی ملک تک محدود اثرات نہیں رکھتی، بلکہ خطے کی دیگر مزاحمتی تحریکوں کو بھی حوصلہ فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق، ایران کی مزاحمت اور قیادت کی قربانیوں نے بھی مختلف ممالک میں عوامی سطح پر مزاحمت کے حامیوں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔
عالمِ اسلام میں حمایت کے اظہار میں اضافہ ہوا ہے
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے برصغیر کے مذہبی حلقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حالیہ حالات میں ایسے افراد اور حلقے بھی سامنے آئے ہیں جو پہلے بعض غلط فہمیوں یا اختلافات کا شکار تھے، لیکن اب وہ اپنی آرا کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: پاکستان میں بعض علمائے کرام کے بیانات میں بھی اس حوالے سے نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ان کے مشاہدے کے مطابق، رہبر کی شہادت اور ایران کی استقامت نے عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں میں اسلامی تشخص، خودداری اور مزاحمت کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے بقول، اس صورتِ حال نے یہ سوال بھی نمایاں کیا ہے کہ عالمی سطح پر اسلام کی نمائندگی، عزت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کون سے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
پاکستان کو فریق بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: پاکستان کی حکومت اور عوام کے جذبات میں فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر پائے جانے والے جذبات اور حکومت کی پالیسی کے درمیان فاصلے کی وجوہات میں حکومتی مجبوریاں اور گزشتہ کئی دہائیوں کے سیاسی و خارجہ پالیسی کے فیصلے شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: پاکستان ماضی میں عالمی طاقتوں کے سامنے نسبتاً زیادہ خودمختار مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مختلف فیصلوں اور وابستگیوں نے اس کی پالیسیوں کو محدود کیا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتِ حال میں بھی پاکستان کے پاس سفارت کاری کے ذریعے مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستان اس ذریعہ سے اپنی عزت اور وقار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے جنرل سیکرٹری نے کہا: اگر پاکستان فریق بننے کے بجائے مذاکرات اور ثالثی کے لیے آگے آئے تو اس سے اسے علاقائی سطح پر ایک مثبت مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بھی پاکستان سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی کم کرنا سب کے مفاد میں ہے۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو پہلے ہی بلوچستان، خیبر پختونخوا اور افغانستان سے متعلق متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں کسی نئی علاقائی کشیدگی میں براہِ راست الجھنا مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کو اپنی داخلی صورتِ حال اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
علاقائی اتحادوں اور امن کے منصوبوں کی افادیت پر سوالات
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے مختلف علاقائی اتحادوں اور امن کے نام پر قائم کیے جانے والے فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ان کے عملی نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے ترکی کی جانب سے علاقائی معاملات میں محتاط رویے اور مختلف اتحادوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے اقدامات سے حقیقی امن کس حد تک حاصل ہوا ہے۔
انہوں نے غزہ کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امن کے نام پر قائم کیے جانے والے فورمز اور منصوبوں کے باوجود وہاں بمباری اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر نتائج سامنے آنا ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، محض اتحاد قائم کرنے یا امن کے منصوبوں کا اعلان کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لیے عملی اقدامات اور مستقل سفارتی کوششیں درکار ہوتی ہیں۔
مؤمنین کی استقامت اور مستقبل کے بارے میں امید
گفتگو کے اختتام پر علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا: موجودہ عالمی صورتِ حال میں مشکلات کے باوجود اہلِ ایمان کے اندر اعتماد اور امید موجود ہے۔ ان کے مطابق، ایران کی استقامت، رہبر کی شہادت کے بعد عوامی ردعمل اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ حالات کے دباؤ کے باوجود نظریاتی وابستگی اور ثابت قدمی برقرار رہ سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حالات میں پاکستان بھی اپنی خارجہ پالیسی، علاقائی ذمہ داریوں اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا کردار ادا کرے گا جو امن، خودمختاری اور سفارتی وقار کے فروغ کا ذریعہ بنے۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا: انہیں یقین ہے کہ موجودہ صدی اہلِ ایمان کی کامیابی اور فتح کی صدی ثابت ہوگی، ان شاء اللہ۔










آپ کا تبصرہ