جمعرات 15 اکتوبر 2026 - 22:33
"مجالس اھل الدین شرف الدنیا والآخرۃ" جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

حوزہ/جموں وکشمیر پاکستان میں دینی شعور کے فروغ، تعلیمات قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی ترویج اور معاشرے کے بالغ افراد کو بنیادی دینی معارف سے آراستہ کرنے کے لیے ایک اہم دینی و تربیتی منصوبے الغدیر سنڈے اسکول کے تحت ہفتہ وار دینی معارف کورس کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔ رواں ماہ اکتوبر کے پہلے اتوار سے پہلے سمسٹر کی کلاسز شروع کردی گئی ہیں، جبکہ اس منصوبے کا دائرہ کشمیر کے مختلف اضلاع تک وسیع کرنے کے لیے رابطہ سازی اور تنظیمی امور پر بھی کام کیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس سلسلے میں «مجالس اھل الدین شرف الدنیا والآخرۃ» کے عنوان سے علمائے کرام، مبلغین اور دینی شخصیات کی ایک اہم نشست مظفرآباد کے ایک نجی گیسٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی مولانا سید ذہین علی نجفی نے کی۔

نشست میں کشمیر بھر سے تعلق رکھنے والے بیس سے زائد علمائے کرام و مبلغین نے شرکت کی اور اہم دینی، تبلیغی، تعلیمی اور معاشرتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

علاؤہ از ایں کشمیر کے مختلف اضلاع کا دورہ کر کے باقاعدہ مذکورہ منصوبے سے متعلق آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا جو کے مزید جاری و ساری ہے ۔

اسی موقع پر نجف اشرف سے مختصر تبلیغی دورے پر آزاد کشمیر تشریف لانے والے اور اس منصوبے کا تصور پیش کرنے والے مولانا سید ذہین علی نجفی نے الغدیر سنڈے اسکول کے خدوخال بیان کیے۔

انہوں نے تعلیم بالغاں کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم صرف بچوں اور نوجوانوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ معاشرے کے ہر بالغ فرد کے لیے بنیادی دینی معارف کا حصول ضروری ہے۔ ایک فرد جب اپنے دین کو سمجھتا ہے تو وہ اپنے گھر، خاندان اور معاشرے میں زیادہ ذمہ داری، بصیرت اور مضبوطی کے ساتھ کردار ادا کرسکتا ہے۔ خواہ وہ باپ ہو، ماں ہو، شوہر ہو، بیوی ہو، بھائی ہو یا معاشرے کا کوئی اور ذمہ دار فرد، اس کی دینی معرفت پورے گھر کے ماحول اور معاشرتی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم بالغان کا مقصد محض چند معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ بالغ افراد کو اپنے عقائد، عبادات، اخلاق، خاندانی ذمہ داریوں اور معاشرتی فرائض سے شعوری طور پر وابستہ کرنا ہے۔ ایک با علم و باعمل باپ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کرسکتا ہے، ایک باشعور ماں گھر کو دینی و اخلاقی تربیت کا مرکز بناسکتی ہے، ایک ذمہ دار شوہر اور بیوی باہمی حقوق و فرائض کو سمجھ کر خاندان کو مضبوط بنیاد فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ ایک دینی شعور رکھنے والا بھائی، دوست اور شہری اپنے معاشرے میں خیر، تعاون، احترام اور ذمہ داری کے فروغ کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس دینی و تعلیمی منصوبے کے کوآرڈینیٹر سید مجاہد فاطمی ہیں، جبکہ مشاورین و معاونین میں آغا ممتاز حسینی، سید سجاد نقوی اور سید اعتزاز الحسن نقوی شامل ہیں۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

اس منصوبے میں کشمیر بھر سے علمائے کرام اور دینی شخصیات کی ایک بڑی تعداد شریک ہے، جو اپنے اپنے علاقوں میں دینی معارف کی ترویج اور بالغ افراد کی تعلیم و تربیت کے لیے تعاون کر رہی ہے۔

نشست میں شریک علمائے کرام میں سید شوکت نقوی، اقرار نقوی، سید صداقت کاظمی، سید احمد علی کاظمی اور دیگر علماء و مبلغین شامل تھے۔

اجلاس میں دینی تعلیم کی عمومی صورت حال، معاشرے میں بنیادی دینی آگاہی کی ضرورت، تبلیغی سرگرمیوں میں باہمی تعاون اور الغدیر سنڈے اسکول کے تعلیمی و تربیتی اہداف پر مشاورت کی گئی۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

تعلیم بالغاں؛ ایک بنیادی دینی و معاشرتی ضرورت

معاشرے میں دینی تعلیم کے حوالے سے عموماً بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو مختلف مصروفیات، معاشی و گھریلو ذمہ داریوں یا مناسب مواقع کی عدم دستیابی کے باعث بنیادی دینی تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے۔ بہت سے افراد زندگی کے کئی سال گزارنے کے باوجود اپنے بنیادی عقائد، ضروری شرعی احکام، طہارت و نجاست، نماز، روزہ، ازدواجی زندگی، تربیت اولاد اور معاشرتی ذمہ داریوں کے ضروری مسائل سے پوری طرح واقف نہیں ہو پاتے۔
یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ دینی تعلیم کو صرف مدارس، حوزات علمیہ اور رسمی تعلیمی اداروں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ معاشرے کے ہر فرد تک اس کی ضروری حد تک رسائی ممکن بنائی جائے۔ انسان کی عمر، مصروفیات اور سماجی حیثیت کچھ بھی ہو، دین کی بنیادی معرفت اس کی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے:«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
یہ تعلیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ علم حاصل کرنے کی جستجو زندگی کے کسی ایک مرحلے تک محدود نہیں، بلکہ انسان کو اپنی دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل سیکھنے اور اپنی معرفت میں اضافہ کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔
اسی لیے تعلیم بالغاں کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ ان افراد کو دین کے ساتھ شعوری طور پر وابستہ کرنا ہے جو کسی وجہ سے بنیادی دینی تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔

الغدیر سنڈے اسکول؛ اصلاح فرد سے تعمیر معاشرہ تک

الغدیر سنڈے اسکول کا بنیادی مقصد معاشرے کے بالغ افراد کو آسان، منظم اور قابل فہم انداز میں بنیادی دینی معارف فراہم کرنا ہے، تاکہ ہر فرد اپنے عقائد، عبادات، اخلاق اور عملی زندگی کے بارے میں ضروری آگاہی حاصل کرسکے۔
اس کورس میں بنیادی عقائد، ضروری شرعی احکام، اخلاق و سیرت، ازدواجی زندگی، تربیت اولاد، خاندانی نظام اور سماجی و معاشرتی مسائل جیسے اہم موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔
عقائد کے حوالے سے شرکاء کو بنیادی دینی عقائد اور ان کے ضروری دلائل سے آگاہ کرنا، احکام کے شعبے میں طہارت و نجاست سمیت روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے شرعی مسائل کی تعلیم دینا، جبکہ اخلاق و سیرت کے ذریعے ان کی عملی زندگی کو تعلیمات اہل بیت علیہم السلام سے آراستہ کرنا اس پروگرام کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

اس منصوبے کی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد اپنے دین کو سمجھتا ہے تو اس کے اثرات اس کے گھر، خاندان اور معاشرتی تعلقات تک پہنچتے ہیں۔ دینی شعور رکھنے والا فرد اپنے حقوق و فرائض کو بہتر طور پر سمجھتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور اپنی زندگی کو دینی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

مثالی خاندان؛ صالح معاشرے کی بنیاد

ازدواجی زندگی کے اسلامی اصولوں سے آگاہی، میاں بیوی کے حقوق و فرائض کی معرفت اور اولاد کی صحیح تربیت ایک پاکیزہ خاندانی نظام کی تشکیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
آج معاشرے کو جن اخلاقی، تربیتی اور خاندانی مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کے لیے ضروری ہے کہ والدین، نوجوان اور بالغ افراد دین کی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ اولاد کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں ہوتی، بلکہ والدین کے کردار، گھر کے ماحول اور عملی نمونے سے بھی ہوتی ہے۔
الغدیر سنڈے اسکول اسی فکر کو فروغ دینا چاہتا ہے کہ ہر گھر دینی تربیت کا مرکز بنے، خاندان محبت، احترام اور ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہو اور معاشرے کو باکردار، بااخلاق اور ذمہ دار افراد میسر آئیں۔

قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستگی

اس پروگرام کا ایک اہم ہدف قرآن مجید کی تفہیم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے عوام کا تعلق مضبوط کرنا بھی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ اس کے پیغام کو سمجھنا، اس کی ہدایات پر غور کرنا اور انہیں عملی زندگی میں نافذ کرنا دینی شعور کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز


حدیث ثقلین کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن مجید اور اہل بیت علیہم السلام سے وابستگی کو مضبوط بنانا اس کورس کی فکری بنیادوں میں شامل ہے۔ اس کے ذریعے کوشش کی جائے گی کہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و تعلیمات کو صرف مذہبی اجتماعات تک محدود رکھنے کے بجائے روزمرہ زندگی، اخلاق، معاملات اور خاندانی تربیت میں بھی رہنمائی کا ذریعہ بنایا جائے، معرفت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ اور معاشرے کی اصلاح الغدیر سنڈے اسکول کے فکری اہداف میں معرفت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ اور مہدوی معاشرے کی تشکیل کے شعور کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ سے حقیقی وابستگی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے خاندان اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرے۔ ایک صالح، باعلم، باعمل اور بااخلاق معاشرہ تشکیل دینا انتظارِ امام کے عملی تقاضوں میں شامل ہے۔
اس اعتبار سے یہ منصوبہ دینی تعلیم کو محض نظری معلومات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اسے کردار سازی، اصلاح نفس، خاندانی تربیت اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

مجالس اہل الدین؛ علم، مشاورت اور دینی خدمت کا مشترکہ پلیٹ فارم

«مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ» کے عنوان سے منعقد ہونے والی نشست اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ علماء کرام اور مبلغین کا باہمی تعاون معاشرے کی دینی رہنمائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ دینی مسائل پر مشاورت، تجربات کا تبادلہ، عوامی ضروریات کی نشاندہی اور مشترکہ منصوبوں کی تشکیل ایسے اقدامات ہیں جن سے تبلیغی سرگرمیوں میں بہتری اور دینی تعلیم کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔
الغدیر سنڈے اسکول اسی اجتماعی فکر کا عملی اظہار ہے، جس میں علماء کرام اور دینی شخصیات اپنے اپنے علاقوں میں بالغ افراد کو تعلیم و تربیت سے وابستہ کرنے کے لیے کردار ادا کررہی ہیں۔
اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مساجد، امام بارگاہوں، دینی مراکز اور مقامی مبلغین کے درمیان رابطہ مضبوط ہو، کلاسز کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہے اور شرکاء کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ بلا جھجک سوالات کرسکیں اور بنیادی دینی مسائل سیکھ سکیں۔

علمائے کرام، مبلغین اور اہل ایمان سے اپیل

تمام علماء کرام، مبلغین، ائمہ مساجد، دینی کارکنان اور اہل ایمان سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ الغدیر سنڈے اسکول کے اس اہم دینی و تربیتی منصوبے کی سرپرستی کریں، اپنے علاقوں کے بالغ افراد کو اس کورس سے وابستہ کریں اور خود بھی اس علمی و تربیتی سفر میں اپنا کردار ادا کریں۔
بالخصوص ان افراد کو اس پروگرام کی طرف متوجہ کیا جائے جو دینی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن عمر، مصروفیات یا معاشرتی جھجک کے باعث قدم نہیں اٹھا پاتے۔ علم حاصل کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں؛ بلکہ اپنے دین کو سمجھے بغیر زندگی گزار دینا ایک ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ سیکھنے اور عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیم کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچایا جائے اور ایسا ماحول بنایا جائے جہاں بالغ افراد بھی اعتماد کے ساتھ دین سیکھ سکیں، اپنے عقائد کی اصلاح کرسکیں، ضروری احکام سے آگاہ ہوں اور اپنے کردار و عمل کو تعلیمات اہل بیت علیہم السلام کے مطابق بہتر بناسکیں۔

مجالس اہل الدین شرف الدنیا والآخرۃ جموں وکشمیر میں الغدیر سنڈے اسکول کے تحت بالغین کے لیے ہفتہ وار دینی معارف کورس کا آغاز

الغدیر سنڈے اسکول کا پیغام واضح ہے: دین کی معرفت ہر فرد کی ضرورت، ہر خاندان کی بنیاد اور ایک صالح معاشرے کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔
امید ہے کہ علماء کرام، مبلغین اور اہل ایمان کے باہمی تعاون سے یہ سلسلہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں وسعت اختیار کرے گا اور معاشرے میں دینی شعور، اخلاقی تربیت، قرآن فہمی اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستگی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنے گا۔

آغا ذہین علی نجفی کا کہنا تھا مستقبل قریب میں مبلغین کے لیے مختلف موضوعات سے متعلق خصوصی ورکشاپ سمیت مبلغین کی بہتری کے لیے مختلف امور زیر غور ہیں، اسی دورہ کے دوران جامعہ نقویہ کے پرنسپل سید قمر عباس نقوی ،سید منتظر نقوی، آغا نواز الحسینی، سید شہنواز کاظمی، جامعہ شھید عارف حسین الحسینی کے پرنسپل آغا صادق نقوی سمیت دیگر بزرگ علماء کیساتھ ملاقات و مشاورت جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha