اتوار 11 اکتوبر 2026 - 11:53
یمن پر سعودی جارحیت کی حمایت کے بجائے مظلوم یمنی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے

حوزہ/ چیئرمین جموں و کشمیر جعفریہ سپریم کونسل مظفرآباد، ایڈووکیٹ سید زوار حسین نقوی نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ پاکستان کا یمن جنگ میں فریق بننا قرآنی تعلیمات اور اتحادِ امت کے منافی ہوگا۔ انہوں نے پاکستان، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ جنگ میں شریک ہونے کے بجائے جنگ بندی، منصفانہ مصالحت اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کریں اور یمن کی خودمختاری و سالمیت کا احترام یقینی بنائیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مظفرآباد/ چیئرمین جموں و کشمیر جعفریہ سپریم کونسل سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے یمن کے خلاف سعودی جارحیت سے پیدا ہونے والی عالمی و علاقائی صورتحال پر اپنے بیان میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے مسلم ممالک، بالخصوص مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان اور ترکیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ خالقِ کائنات اور تمام جہانوں کے حقیقی مالک کی جانب سے نازل کردہ کتاب قرآن مجید کی سورۂ حجرات میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی، منصفانہ مصالحت اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، نہ کہ اس جنگ کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کا حل قرآنی تعلیمات کے مطابق عدل و انصاف کی بنیاد پر تلاش کیا جائے، یمن کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور صنعاء حکومت کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا جائے۔

سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے واضح کیا کہ یمن میں حکومت سازی کا حق صرف اور صرف یمنی عوام کو حاصل ہے۔ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے تحت سعودی عرب سمیت کسی بھی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور وہاں کے عوام کی خواہشات و مرضی کے برخلاف اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے اپنی پسند کی حکومت مسلط کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مزاحمت کے نتیجے میں یمن میں بیرونی مداخلت اور حمایت سے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک قائم رہنے والی آمریت کے خاتمے کے بعد دوبارہ کسی آمرانہ نظام کو بیرونی مداخلت کے ذریعے یمنی عوام پر مسلط کرنا ناقابلِ قبول ہوگا، جس کے نتائج مغربی ایشیا سمیت پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور حوثی تحریک (انصار اللہ یمن) اپنی تاریخ، نظریے، اسلامی شناخت اور عوامی حمایت کی حامل ایک نمایاں سیاسی و مذہبی تحریک ہے۔ صنعاء حکومت اور حوثی تحریک کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اتنے ہی مقدس و محترم ہیں جتنے دیگر مسلمانوں کے لیے۔ لہٰذا حوثی تحریک پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا الزام بے بنیاد ہے، جو بظاہر سیاسی اور دفاعی مقاصد کے حصول کے لیے عائد کیا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ اس الزام کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے مؤثر اقدامات کریں، تاکہ اس کے پسِ پردہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقدس مقامات کی حرمت کا تقاضا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر کسی بھی فریق کو موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔

سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے طاہر اشرفی کی جانب سے یمن کی مسلم عوام میں مقبول اور اسلام پسند حوثی تحریک کو کافر قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے تکفیری بیان پر یمنی اور پاکستانی عوام سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ تکفیر پر مبنی بیانات بین المسالک ہم آہنگی اور اتحاد بین المسلمین کے لیے نقصان دہ ہیں۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے بجائے حقائق، شواہد اور عدل و انصاف کی بنیاد پر ان کا جائزہ لیا جائے؛ جہاں زیادتی ہو، اس کی مذمت کی جائے اور جہاں مصالحت ممکن ہو، وہاں منصفانہ حل کے لیے کوششیں کی جائیں۔ امتِ مسلمہ کا اتحاد مذہبی نفرت اور الزام تراشی سے نہیں، بلکہ قرآنی تعلیمات، باہمی احترام اور مظلوم کے حقوق کے تحفظ سے مضبوط ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha