اتوار 13 ستمبر 2026 - 14:48
یمن سے آبنائے ہرمز تک؛ مسلم دنیا کس کے مفاد کی جنگ لڑ رہی ہے؟

حوزہ/مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک چنگاری پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ یمن میں انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی قوت، باب المندب کی اہمیت، آبنائے ہرمز کی حساس صورتِ حال اور سعودی عرب کی دوبارہ یمن میں مداخلت نے ایک بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا کر دیا ہے: کیا مسلم ممالک اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں یا کسی اور کے مفادات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کیے جا رہے ہیں؟

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک چنگاری پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ یمن میں انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی قوت، باب المندب کی اہمیت، آبنائے ہرمز کی حساس صورتِ حال اور سعودی عرب کی دوبارہ یمن میں مداخلت نے ایک بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا کر دیا ہے:

کیا مسلم ممالک اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں یا کسی اور کے مفادات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کیے جا رہے ہیں؟

یہ سوال صرف یمن کا نہیں، صرف ایران کا نہیں، صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے مستقبل کا سوال ہے۔

کیا ایک اور جنگ سعودی عرب کو یمن کی دلدل میں لے جائے گی؟

سعودی عرب ماضی میں بھی یمن میں اپنی فوجی طاقت آزما چکا ہے۔ فضائی برتری، جدید اسلحہ، عالمی حمایت اور اتحادیوں کی موجودگی کے باوجود وہ انصار اللہ کو ختم نہیں کر سکا۔
کیوں؟

کیونکہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتی۔ جب ایک نسبتاً کمزور قوت غیر روایتی جنگ کی حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے تو وہ اپنے سے بڑے دشمن کے لیے جنگ کی قیمت اتنی بڑھا سکتی ہے کہ طاقتور فریق کے لیے جنگ جاری رکھنا مشکل ہو جائے۔
یمن میں یہی ہوا۔
انصار اللہ نے کسی بڑی طاقت کو روایتی میدان میں شکست دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی بقا کو اپنی جنگ کا مرکز بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے جنگ مسلسل مہنگی، پیچیدہ اور غیر یقینی بنتی گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر سابقہ تجربہ فیصلہ کن کامیابی نہیں دے سکا تو دوبارہ اسی راستے پر چلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اصل کھیل یمن نہیں، بحیرۂ احمر اور باب المندب ہے

یمن کی موجودہ صورتِ حال کو صرف داخلی جنگ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔
باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ ایشیا، یورپ، بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز کے درمیان تجارت کا ایک اہم راستہ اسی خطے سے گزرتا ہے۔
اس لیے جو قوت باب المندب کے قریب طاقتور پوزیشن حاصل کرتی ہے، اسے صرف یمن میں نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کے معاملات میں بھی اہم اثر حاصل ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یمن کی جنگ اب محض یمنی فریقوں کی جنگ نہیں رہی۔ اس کے اثرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، ایران، ترکیہ، مصر اور بالآخر عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب؛ دو راستے، ایک عالمی بحران

ایک طرف آبنائے ہرمز ہے اور دوسری طرف باب المندب۔
یہ دونوں راستے عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں طویل عرصے تک کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو تیل کی ترسیل، عالمی منڈی، بحری تجارت اور مختلف ممالک کی معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس کتنے میزائل ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک ایسی صورتِ حال کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چند اہم بحری راستوں کی کشیدگی پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنا سکتی ہے؟

اور اس سے بھی بڑا سوال:

اگر یہ بحران بڑھتا ہے تو اس کا خمیازہ کون بھگتے گا؟
مسلم دنیا یا وہ طاقتیں جو ہزاروں میل دور بیٹھ کر اس بحران کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں؟

امریکہ کی حکمتِ عملی کو سمجھنا ہوگا

خطے میں ایک خطرناک امکان یہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجود کشمکش کو بتدریج مسلم ممالک کے باہمی تصادم میں تبدیل کر دیا جائے۔
ایران ایک طرف، سعودی عرب دوسری طرف۔
پھر ایران اور ترکیہ۔
پھر ایران اور مصر۔
پھر خلیجی ممالک۔
اور اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو کیا بچے گا؟
مسلم دنیا آپس میں لڑے گی اور فائدہ امریکہ اور اسرائیل اٹھائیں گے۔
یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جسے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اگر آج کسی مسلم ملک کو کمزور کرنے کے لیے دوسرے مسلم ملک کو استعمال کیا جا سکتا ہے تو کل یہی حکمتِ عملی کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوگی۔

ترکیہ اور مصر کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی

ترکیہ اور مصر جیسے طاقتور مسلم ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ صرف ایران کا نہیں ہے۔
جس خطے میں ایک طاقتور ملک مسلسل کمزور کیا جائے، وہاں طاقت کا خلا بالآخر دوسرے ممالک کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اگر آج اسرائیل کی نظر ایران، شام یا لبنان پر ہے تو یہ تصور کرنا خطرناک ہوگا کہ باقی طاقتور مسلم ممالک ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔
جس ملک کے پاس مضبوط فوج ہو، میزائل قوت ہو، اقتصادی طاقت ہو اور خطے میں مؤثر سیاسی کردار ہو، وہ لازماً بڑی طاقتوں کی منصوبہ بندی میں اہم عامل بنے گا۔
لہٰذا ترکیہ، مصر، سعودی عرب، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے لیے وقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے ممکنہ مشترکہ خطرات کو سمجھیں۔
کیا بیرونی طاقتیں ہماری حفاظت کر سکتی ہیں؟
یہ سوال بھی اب کھل کر پوچھنا ہوگا۔
اگر کسی ملک کی سلامتی کے لیے بیرونی فوجی موجودگی ضروری ہے تو پھر وہ ملک اپنی سلامتی کا مکمل مالک کہاں رہا؟
مسلم ممالک نے کئی دہائیوں تک بیرونی طاقتوں کی سلامتی کی ضمانتوں پر اعتماد کیا۔
لیکن اگر ان ضمانتوں کے باوجود جنگیں نہ رک سکیں، حملے جاری رہے اور خطے میں عدمِ استحکام بڑھتا گیا تو پھر اس پالیسی پر نظرِ ثانی کیوں نہ کی جائے؟
کیا ہماری سلامتی کا فیصلہ واشنگٹن میں ہوگا یا ریاض، تہران، انقرہ، قاہرہ اور دیگر مسلم دارالحکومتوں میں؟
یہ فیصلہ اب کرنا ہوگا۔

مکہ معاہدہ کافی نہیں، حقیقی علاقائی نظام چاہیے

اگر مسلم ممالک اپنی سلامتی کے لیے باہمی معاہدے کرتے ہیں لیکن خطے کے بنیادی تنازعات حل نہیں کرتے تو صرف معاہدوں سے امن قائم نہیں ہوگا۔
ضرورت ایک ایسے حقیقی علاقائی نظام کی ہے جس میں مسلم ممالک:
ایک دوسرے کے خلاف جارحیت نہ کرنے پر متفق ہوں۔
ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کریں۔
باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
بیرونی فوجی انحصار کم کریں۔
بحری راستوں کی مشترکہ حفاظت کریں۔
توانائی کی ترسیل کے تحفظ کے لیے مشترکہ انتظامات کریں۔
اور کسی بیرونی طاقت کو مسلم ممالک کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیں۔
اصل جنگ کس کے خلاف ہے؟
آج مسلم دنیا کو جذبات سے زیادہ سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔
اگر ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے خلاف لڑتے ہیں تو فائدہ کس کا ہوگا؟
اگر ایران اور ترکیہ آمنے سامنے آتے ہیں تو فائدہ کس کا ہوگا؟
اگر خلیجی ممالک باہمی اختلافات میں الجھتے ہیں تو فائدہ کس کا ہوگا؟
اگر یمن، شام، لبنان اور دیگر ممالک مسلسل جنگ کا میدان بنے رہتے ہیں تو فائدہ کس کا ہوگا؟
ان سوالات کا جواب مشکل نہیں۔
جس خطے کے ممالک آپس میں لڑتے ہیں، اس خطے کے وسائل، منڈیاں، راستے اور سیاسی فیصلے بالآخر دوسروں کے مفادات سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔

فیصلہ اب مسلم دنیا کو کرنا ہوگا

آج امتِ مسلمہ ایک تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے۔
ایک راستہ وہ ہے جس پر چلتے ہوئے مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہیں، بیرونی طاقتوں سے اپنی سلامتی کی ضمانتیں مانگتے رہیں اور ہر نئی جنگ کو اپنی قومی جنگ سمجھ کر ایک دوسرے کے مقابل آتے رہیں۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی مشترکہ مفادات پر متحد ہوں۔
اختلاف رہے، لیکن جنگ نہ ہو۔
مسلک مختلف ہو، لیکن دشمنی نہ ہو۔
سیاسی نظریات مختلف ہوں، لیکن ایک دوسرے کی تباہی کا منصوبہ نہ بنایا جائے۔
باب المندب ہو یا آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر ہو یا خلیج، ان خطوں کی سلامتی کا فیصلہ ان علاقوں کے عوام اور متعلقہ ممالک کو خود کرنا چاہیے۔
کیونکہ اگر مسلم دنیا نے اپنی سلامتی کا فیصلہ خود کرنا نہ سیکھا تو پھر دوسروں کے بنائے ہوئے نقشے پر چلنے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
آج اصل سوال یہ نہیں کہ ایران جیتے گا یا سعودی عرب۔
اصل سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا کب سمجھے گی کہ اس باہمی جنگ میں جیت کسی مسلمان کی نہیں ہوگی؟
اور شاید وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنانے کے بجائے اپنے مشترکہ مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک میز پر بیٹھیں۔
ورنہ تاریخ کا فیصلہ بہت سخت ہوگا:
جنگیں دوسروں نے منصوبہ بند کیں،
مسلمان آپس میں لڑے،
اور فائدہ ہمیشہ دوسروں نے اٹھایا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha