منگل 11 اگست 2026 - 23:08
معاہدۂ مکہ سے معاہدۂ اسلام آباد تک: خطے میں نئے امن و دفاعی نظام کی تشکیل؟

حوزہ/مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں جنگ، سفارت کاری، علاقائی سلامتی اور نئی صف بندیوں کے درمیان توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور ایک پُرامن و خوش حال مستقبل کے لیے سفارتی کوششیں یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔

تحریر: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی|

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں جنگ، سفارت کاری، علاقائی سلامتی اور نئی صف بندیوں کے درمیان توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور ایک پُرامن و خوش حال مستقبل کے لیے سفارتی کوششیں یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ خصوصاً مسئلۂ فلسطین اور غاصب صیہونی حکومت کے حوالے سے پاکستان کا اصولی موقف تاریخی طور پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مؤقف سے جڑا ہوا ہے اور پاکستانی ریاستی پالیسی میں یہ مؤقف مسلسل نمایاں رہا ہے۔

حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں کسی ایسے فریم ورک تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں جس کے ذریعے فریقین کے درمیان جنگ بندی، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہوئی، تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔’’معاہدۂ اسلام آباد‘‘ کے چودہ نکات بھی اسی تناظر میں ایک باوقار، متوازن اور منصفانہ انتظام کی کوشش کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس پورے عمل میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وزیراعظم میاں شہباز شریف ، وزیر داخلہ محسن نقوی کی سفارتی و قائدانہ کاوشیں بھی خصوصی توجہ کی حامل ہیں۔

بالخصوص اگر متحارب یا متخاصم فریق پاکستان کی قیادت کو ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر دیکھتے ہیں تو یہ پاکستان کی سفارتی اہمیت میں اضافے کی علامت ہے۔ ایران، امریکہ، چین اور دیگر اہم طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد ایک ایسے پل کا کردار ادا کر سکتا ہے جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور تصادم کے بجائے سفارت کاری کو تقویت دے۔

معاہدۂ مکہ: ایک نئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کا آغاز؟

اسی وسیع تر علاقائی تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے انتظامات میں یہ اصول شامل ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو مشترکہ سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے گا، تو یہ محض روایتی دفاعی تعاون نہیں بلکہ خطے میں ایک نئے سکیورٹی تصور کی بنیاد بن سکتا ہے۔
تاہم ترکی کی جانب سے اس تعاون کو محض باہمی انڈر اسٹینڈنگ قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تینوں ممالک فی الوقت اس تعاون کو کسی باقاعدہ فوجی بلاک یا کسی مخصوص ریاست کے خلاف جارحانہ اتحاد کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اس کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاع، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس تعاون اور علاقائی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانا قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر مستقبل میں مصر یا خطے کے دیگر ممالک بھی اس نوعیت کے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کا حصہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات محض تین ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی و تزویراتی سیاست تبدیل ہو سکتی ہے۔
ترکی کی جانب سے اس تعاون کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ حقِ دفاع کے تناظر میں بیان کرنا بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس نئے سکیورٹی تصور کو کسی بیرونی طاقت کے خلاف جنگی اتحاد کے بجائے ریاستوں کے حقِ دفاع اور علاقائی سلامتی کے ایک فریم ورک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یمن کا بحران اور سعودی عرب کی نئی ترجیحات
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کی اہمیت کو یمن کے تناظر میں بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سعودی عرب اور انصار اللہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشمکش نے پورے خلیجی خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ باب المندب اور بحیرۂ احمر کی جغرافیائی اہمیت نے اس تنازعے کو محض سعودی۔یمنی مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔
تاہم سعودی۔حوثی تنازعے کا مستقل حل بالآخر مذاکرات ہی کے ذریعے ممکن ہوگا۔ محض عسکری دباؤ کسی پیچیدہ سیاسی اور علاقائی تنازعے کو مستقل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ یہاں ایران کا ممکنہ مثبت کردار بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر تہران، ریاض اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے درمیان مکالمہ آگے بڑھتا ہے تو یمن میں کشیدگی کم کرنے اور ایک سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

کیا خطہ امریکی سکیورٹی چھتری سے نکل رہا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بحرانوں نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا ہے: کیا عرب ممالک اور دیگر علاقائی ریاستیں مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر امریکہ پر انحصار جاری رکھیں گی؟

ایران۔امریکہ کشیدگی اور خطے میں بدلتی ہوئی طاقت کے توازن نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اگر علاقائی ریاستیں اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ اپنی سلامتی کے لیے انہیں ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا، مشترکہ دفاعی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنا ہوگا تو ’’معاہدۂ مکہ‘‘ جیسے انتظامات ایک وسیع تر علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
یہی وہ تصور ہے جس کی طرف اسلامی جمہوریہ ایران طویل عرصے سے ’’مسلم دفاعی تعاون‘‘ اور علاقائی ممالک کی اپنی سلامتی کی ذمہ داری کے حوالے سے اشارہ کرتا رہا ہے۔ ایران کے شہیدرہبر آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی لائن کی تشکیل کی تجویز بھی اسی وسیع تر تصور کا حصہ سمجھی جا سکتی ہے۔
لیکن کسی بھی علاقائی دفاعی نظام کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی بنیاد باہمی اعتماد، خودمختاری، عدمِ جارحیت اور سیاسی مکالمے پر قائم نہ ہو۔ اگر یہ تعاون کسی ایک ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے پورے خطے کے اجتماعی دفاع، خودمختاری اور امن کے لیے ہو تو اس کے نتائج زیادہ پائیدار ہوسکتے ہیں۔

ایران: جنگ سے مزاحمت تک

حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کے معاملے میں انتہائی حساس ہے۔ ایرانی ریاست نے بحران کے دوران قومی اتحاد، عسکری تیاری اور اپنی دفاعی حکمت عملی پر بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ اس صورتِ حال نے خطے کے متعدد ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ مستقبل کی سلامتی صرف بیرونی طاقتوں کی عسکری ضمانتوں سے نہیں بلکہ مقامی دفاعی صلاحیت، سیاسی اتحاد اور علاقائی تعاون سے بھی وابستہ ہے۔

ایران کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس پورے بحران نے اس کے دیرینہ مؤقف کو تقویت دی ہے کہ مسلمان ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے اور بیرونی عسکری انحصار کم کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران علاقائی سکیورٹی کے ایسے کسی بھی نظام کو اہم سمجھ سکتا ہے جو بیرونی بالادستی کے بجائے علاقائی ملکیت پر مبنی ہو۔

پاکستان کا سفارتی کردار اور تیسری عالمی جنگ کا خطرہ

اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عسکری قوت سے زیادہ اس کی سفارتی پوزیشن بن سکتی ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات رکھتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ گہرے دفاعی و معاشی روابط کا حامل ہے، ترکی کے ساتھ اسٹریٹجک قربت رکھتا ہے اور امریکہ و چین دونوں کے ساتھ اہم تعلقات رکھتا ہے۔
یہ منفرد پوزیشن اسلام آباد کو ایک ممکنہ ’’سفارتی پل‘‘ بناتی ہے۔
اگر پاکستان مختلف متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے اور علاقائی تنازعات کو عالمی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کا اثر محض پاکستان تک محدود نہیں ہوگا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ہوگا۔
یہ تاثر بھی زیرِ بحث ہے کہ امریکہ اپنے بعض عسکری وسائل اور اسلحہ جاتی ذخائر کو خطے میں اپنے اتحادیوں، بالخصوص اسرائیل، کے لیے منتقل یا ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مزید حساس ہوسکتا ہے اور کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتائج غیر معمولی طور پر وسیع ہوسکتے ہیں۔

امریکہ کا مستقبل اور بدلتا ہوا مشرقِ وسطیٰ

امریکی پالیسی کے حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا واشنگٹن مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ میں اسی سطح پر عسکری موجودگی برقرار رکھ سکے گا جس طرح ماضی میں رکھتا آیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی، جنگوں کی معاشی قیمت، توانائی کے بحران اور علاقائی ریاستوں کی اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کی کوششیں امریکی اثر و رسوخ کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے ویت نام کی طرح نکل جائے گا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ خطے میں ’’صرف امریکی سکیورٹی چھتری‘‘ پر انحصار کا تصور پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔

اگر علاقائی ممالک اپنے دفاع، معیشت، سفارت کاری اور سیاسی تعاون کے لیے متبادل نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے تو مستقبل کا مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے خطے کی شکل اختیار کرسکتا ہے جہاں بیرونی طاقتوں کے بجائے علاقائی ممالک سکیورٹی کے بنیادی ضامن ہوں۔

معاہدۂ مکہ: عسکری اتحاد یا امن کا نیا دروازہ؟

اصل امتحان ’’معاہدۂ مکہ‘‘ کا نام یا اس میں شامل ممالک نہیں بلکہ اس کی عملی سمت ہوگی۔ اگر یہ معاہدہ صرف عسکری صف بندی تک محدود رہتا ہے تو یہ خطے میں ایک نئے بلاک کی تشکیل کا سبب بن سکتا ہے، لیکن اگر اسے دفاعی تعاون، سفارتی مکالمے، تنازعات کے پُرامن حل، اقتصادی روابط اور اجتماعی سلامتی کے وسیع تر تصور سے جوڑا جائے تو یہی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے ایک نئے باب کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر خطے کے ممالک بتدریج یہ سمجھنے لگیں کہ ان کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے تو مستقبل میں ’’معاہدۂ مکہ‘‘ ایک وسیع تر مسلم علاقائی سکیورٹی فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم اسے کسی ’’گریٹ اسلامک عسکری اتحاد‘‘ کی حتمی شکل قرار دینا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت جنگ نہیں، مذاکرات ہیں؛ عسکری مقابلہ نہیں، اجتماعی سلامتی ہے؛ اور بیرونی سرپرستی نہیں، علاقائی خودمختاری ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران اگر اپنے اپنے اختلافات کے باوجود مکالمے کے راستے پر آگے بڑھتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نیا امکان پیدا ہوسکتا ہے: ایسا خطہ جہاں طاقت کا معیار جنگ چھیڑنے کی صلاحیت نہیں بلکہ جنگ روکنے، اختلاف حل کرنے اور امن قائم رکھنے کی صلاحیت ہو۔
اسی تناظر میں معاہدۂ اسلام آباد اور معاہدۂ مکہ کو محض دو الگ الگ سفارتی یا دفاعی واقعات کے بجائے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی نظام کی دو اہم علامتوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو ممکن ہے آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا مرکزی سوال یہ نہ رہے کہ ’’امریکہ کس کا دفاع کرے گا؟‘‘ بلکہ یہ ہو کہ ’’خطے کے ممالک اپنی اجتماعی سلامتی کی ذمہ داری خود کس طرح سنبھالیں گے؟‘‘
اور شاید یہی سوال آنے والے مشرقِ وسطیٰ کی نئی سیاسی تاریخ کا نقطۂ آغاز بن جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha