حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے شیعہ عالم دین شیخ عادل الشعلة نے اپنے خطاب میں’’فاسد حکمرانی‘‘ کے مقابلے میں انتہائی درجے کی بیداری اور احتیاط کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: حکومت کی بدعنوانی انسان کو دین، عقیدے، اخلاق اور اپنے مفادات سے وابستگی کے دوران درپیش چیلنجز میں مزید نئے عوامل کا اضافہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا: جب اقتدار فاسد ہو جائے تو وہ اپنے مفادات کے سوا کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچتا۔ ایسے ماحول میں ’’شیطانی صفات کے حامل افراد‘‘ بھی بدعنوان نظام کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس سے عوام کے ایمان، اخلاق اور مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
شیخ الشعلة نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ محض نظریاتی خدشات نہیں بلکہ ایسے ٹھوس حقائق ہیں جنہیں عوام روزانہ سنتے، دیکھتے اور تجربہ کرتے ہیں، کہا: بدعنوانی کے مظاہر زندگی کے مختلف شعبوں تک پھیل جاتے ہیں جن میں تعلیم و تربیت، معیشت، روزگار، سکیورٹی اور عدلیہ سرفہرست ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کتابیں اور نصاب انسان کے ’’فقہ، عقیدے، فکر اور ثقافت‘‘ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے اسے ’’غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے نام پر تعلیمی مواد کی منتقلی‘‘ قرار دیا۔
بحرینی عالم دین نے ملکی وسائل کو امریکی فوجی اڈوں کی تعمیر کے لیے استعمال کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: انہیں امید ہے کہ ’’وطن عزیز کے وسائل سے امریکی اڈوں کی تعمیر نو‘‘ نہیں کی جائے گی چونکہ یہ اڈے ’’صہیونی حکومت کی حمایت اور عالمی استکبار کی پشت پناہی‘‘ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ