جمعرات 6 اگست 2026 - 18:18
بحرینی حکومت شیعہ شہریوں کے خلاف منظم مذہبی جبر و ایذا رسانی کا سلسلہ بند کرے

حوزہ / چھ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیانیہ میں بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف مذہبی ایذا رسانی اور منظم جبر کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بحرینی حکومت سے مذہبی شعائر کی آزادی یقینی بنانے اور شہریوں کے خلاف کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انسانی حقوق کی چھ بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا: بحرین میں رواں سال کے آغاز سے، خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور ۲۰۲۶ء کے ایام عاشورا کی آمد کے ساتھ شیعہ شہریوں کے خلاف مذہبی شعائر کی پُرامن ادائیگی، آزادیِ اظہار اور پُرامن اجتماعات کے حق کو محدود کرنے کے لیے سکیورٹی اور عدالتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرینی حکام نے فروری ۲۰۲۶ء سے اپنی سکیورٹی مہم مزید تیز کر دی ہے اور رپورٹس کے مطابق اس دوران ۶۰۰ سے زائد افراد کو گرفتار یا طلب کیا گیا ہے۔ ان افراد کو مذہبی شعائر کی پُرامن ادائیگی، اپنے خیالات کے اظہار یا پُرامن اجتماعات میں شرکت کے باعث نشانہ بنایا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مزید کہا: بحرینی حکام ان اقدامات کو قومی سلامتی سے متعلق وجوہات سے جائز قرار دیتے ہیں تاہم اس کے نتیجے میں من مانی گرفتاریاں، عدالتی کارروائیاں اور مذہبی شعائر کی ادائیگی پر پابندیاں بڑھ گئی ہیں۔ پُرامن اظہار کی مختلف صورتوں کو بھی دبایا گیا ہے جس کے باعث شہری آزادیوں کی گنجائش مزید محدود ہوئی اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت تسلیم شدہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

بیان کے مطابق مارچ سے جولائی ۲۰۲۶ء کے دوران ریکارڈ کی گئی خلاف ورزیوں سے بحرین کی شیعہ برادری کے خلاف مذہبی ایذا رسانی اور منظم جبر کے ایک منظم سلسلے کا انکشاف ہوتا ہے، جس میں عام شہریوں کے ساتھ علما اور سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔

بیسیوں افراد گرفتار یا طلب

تنظیموں نے اس اعلامیہ میں کہا: گزشتہ مارچ میں خطے میں کشیدگی کے آغاز کے بعد بحرینی حکام نے پُرامن طور پر آزادیِ اظہار اور آزادیِ مذہب کے حقوق استعمال کرنے والے افراد کے خلاف من مانی گرفتاریوں کا دائرہ وسیع کیا۔

بیان کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے علاقائی حالات کے بارے میں اظہار خیال کیا، پُرامن اجتماعات میں شرکت کی یا مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ان گرفتاریوں کا دائرہ خواتین اور بچوں تک بھی پھیل گیا ہے۔

شیعہ علما کے خلاف منظم کارروائیاں

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بحرینی حکام پر شیعہ علما کے خلاف منظم مہم شروع کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ۵۰ سے زائد علما، خطبا، ذاکرین اور مذہبی شخصیات کو گرفتار یا عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بیان میں کہا گیا: بحرینی حکام نے پُرامن مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے کے لیے دہشت گردی سے متعلق الزامات کا استعمال کیا جبکہ بعض مذہبی شخصیات کو ان کی مذہبی سرگرمیوں کے باعث ملک بدری یا اخراج جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان تنظیموں کے مطابق بعض علما جبری گمشدگی، خفیہ مقدمات اور وکلا سے رابطے یا عدالتی فائلوں تک رسائی سے محرومی کا شکار ہوئے ہیں۔ بعض کو تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کچھ افراد کو دباؤ اور جبر کے ذریعے اعترافات پر مجبور کیا گیا۔

عاشورا کے مراسم پر پابندیاں

مشترکہ بیان میں کہا گیا: بحرینی حکام نے عاشورا کے مذہبی مراسم کی ادائیگی پر وسیع پابندیاں عائد کیں، جن میں عزاداری کے جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کو محدود کرنا اور خطبا و ذاکرین کی سرگرمیوں کو سخت سکیورٹی نگرانی میں رکھنا شامل ہے۔

تنظیموں نے مزید کہا: بعض علاقوں میں سیاہ لباس پہننے پر پابندی عائد کی گئی اور عوامی مقامات سے عاشورا سے متعلق پرچم، بینرز اور دیگر مذہبی علامات ہٹا دی گئیں۔ بعض مجالس عزا کے انعقاد کو روکا گیا جبکہ مجالس کے منتظمین کو طلب اور دھمکیاں دی گئیں۔

بیان کے مطابق، ان مراسم میں شریک درجنوں افراد بشمول بچوں کو بھی طلب یا گرفتار کیا گیا۔ محرم کے دوران سکیورٹی اداروں نے نگرانی اور کنٹرول میں اضافہ کیا اور مجالس کے مقامات پر سادہ لباس اہلکار تعینات کیے گئے۔ ان پابندیوں کے خلاف ہونے والے پُرامن اجتماعات کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، صوتی بموں اور پلاسٹک کی گولیوں سمیت طاقت کا بھی استعمال کیا گیا۔

سیاسی قیدیوں کے مذہبی حقوق بھی محدود

مشترکہ بیان میں سیاسی قیدیوں کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا: بحرینی حکام نے سیاسی قیدیوں کو اجتماعی طور پر عاشورا کے مراسم منعقد کرنے سے روکا اور قرآن کریم، مذہبی کتب اور نماز کے ضروری سامان سمیت بنیادی مذہبی اشیا تک رسائی بھی محدود کی۔

تنظیموں کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں سینکڑوں سیاسی قیدیوں نے اپنے مذہبی حقوق سے محرومی کے خلاف اجتماعی بھوک ہڑتال کی اور اپنے مذہبی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا۔

پُرامن افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا: عاشورا کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بحرین میں پُرامن افراد کے خلاف جاری وسیع تر کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔ انقلابی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی قیدیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

بیان میں عبدالہادی الخواجہ اور ڈاکٹر عبدالجلیل السنکیس سمیت بعض معروف بحرینی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا: یہ افراد کئی برس سے قید ہیں اور انہیں مناسب طبی نگہداشت فراہم نہ کیے جانے کے ساتھ ساتھ بحرینی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کرنے پر بھی تشویش برقرار ہے۔

بیان میں انسانی حقوق کے کارکن اور قیدیوں کے حقوق کے علمبردار علی مہنا کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا گیا، جنہیں ایک مجلس عزا میں شرکت کے بعد گرفتار کیا گیا۔ تنظیموں کے مطابق وہ اب بھی زیر حراست ہیں اور دورانِ حراست تشدد، بدسلوکی اور طبی سہولیات سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔

بحرینی حکومت سے مذہبی آزادی یقینی بنانے کا مطالبہ

انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا: مذکورہ اقدامات بحرین کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جن میں شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے اور انسدادِ تشدد کے کنونشن کے تحت عائد ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

تنظیموں نے بحرینی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ برادری کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے، بلا امتیاز مذہبی شعائر اور مناسک کی آزادی یقینی بنائی جائے اور ایسے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے جنہیں مذہب، اظہارِ رائے یا پُرامن اجتماع کی آزادی کے حق کے استعمال پر من مانی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے شیعہ علما، خطبا، ذاکرین اور نوحہ خواں حضرات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکنے، ان کی مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور عاشورا سمیت تمام مذہبی مناسبتوں کے انعقاد پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس مشترکہ بیانیہ پر درج ذیل تنظیموں نے دستخط کیے ہیں:

۱۔ بحرین میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے، امریکی (ADHRB)

۲۔ سیویکوس: شہری شرکت کے لیے عالمی اتحاد (CIVICUS)

۳۔ خلیج فارس مرکز برائے انسانی حقوق (GCHR)

۴۔ آئی فیکس (IFEX)

۵۔ یورپی مرکز برائے جمہوریت و انسانی حقوق (ECDHR)

۶۔ امید مرکز برائے انسانی حقوق و انصاف (AHRJ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha