حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے 146ویں اجلاس کے سلسلے میں یہ رپورٹس پیش کی ہیں، جن کا مقصد بحرین سے متعلق انسانی حقوق کے مسائل کی فہرست کی تیاری میں مدد فراہم کرنا ہے۔
پہلی رپورٹ میں 2 جنوری 2025 سے 22 اگست 2026 کے دوران بحرین میں شہری اور سیاسی حقوق کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس عرصے میں 825 مبینہ جںری حراستی واقعات اور 374 مرتبہ علماء کو طلب کئے گئے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی۔ اس کے علاوہ آزادیٔ اظہار رائے، اجتماع، مذہبی آزادی، سیاسی شرکت، جبری گمشدگی، تشدد اور شہریت سے محرومی جیسے معاملات بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔
دوسری رپورٹ بحرین ہیومن رائٹس سوسائٹی نے انٹرنیشنل سینٹر فار سپورٹ آف رائٹس اینڈ فریڈمز کے تعاون سے تیار کی ہے، جس میں 2026 کے دوران شیعہ علما کی گرفتاری، حراست اور مقدمات کے ساتھ ساتھ جعفری مذہبی اداروں اور مذہبی رسومات پر عائد پابندیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 7 مارچ سے 22 جون کے درمیان 59 شیعہ علماء کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 44 افراد کو 4 مئی کو ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک ہی دن گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ میں گرفتاریوں کے دوران مبینہ بدسلوکی، دھمکیوں، توہین آمیز رویے اور منصفانہ عدالتی کارروائی، وکیل تک رسائی اور مقدمے کی معلومات حاصل کرنے کے حق سے متعلق خدشات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں شیعہ مذہبی رسومات و زندگی اور جعفری اداروں پر عائد پابندیوں، بالخصوص جعفری اوقاف، حسینیہ، موکب اور مذہبی شعائر سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، محرم کے دوران عائد پابندیوں کے نتیجے میں 53 حسینیہ اور امام بارگاہ نے مجالسِ عزا منعقد نہ کرنے کا اعلان کیا۔
دونوں رپورٹس میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بحرینی حکام کے ساتھ ان معاملات کو اٹھائے اور مذہبی آزادی، آزادیٔ اظہار و اجتماع، منصفانہ عدالتی کارروائی اور تشدد و بدسلوکی سے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔









آپ کا تبصرہ