حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرینی مصنف اور صحافی عبداللہ البحرانی نے کہا ہے کہ بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف اقدامات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب خطہ شدید سیاسی و سکیورٹی کشیدگی سے گزر رہا ہے۔
بحرینی ویب سائٹ "مرآۃ البحرین" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریت کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور مبینہ امتیازی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2011 کی عوامی تحریک کے بعد یہ کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی اور شیعہ شخصیات، علماء اور سیاسی کارکنوں کو سخت سکیورٹی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔
مضمون کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرینی وزارت داخلہ نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے 41 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ ان پر ایران کی جانب سے جوابی حملے کی حمایت یا ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ اسی دوران بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ایک خطاب میں شہریت کو "عہد و پیمان" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس عہد کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اپنی شہریت کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔
عبداللہ البحرانی کے مطابق ان بیانات کے بعد 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کیے گئے جبکہ بعض مقدمات میں عمر قید اور دیگر قیدی سزائیں بھی سنائی گئیں۔
مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات صرف سکیورٹی امور تک محدود نہیں بلکہ مذہبی آزادیوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شیعہ مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق بعض علاقوں میں مذہبی علامات ہٹانے، عزاداری اور دیگر مذہبی اجتماعات کے شرکاء کو طلب کرنے یا گرفتار کرنے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
مصنف نے مزید لکھا کہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک بحرین میں سرکاری بیانیہ اب صرف مخصوص افراد کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض مذہبی و فکری رجحانات کو بھی سکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں شیعہ برادری کے ایک وسیع حصے کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بحرین کی پالیسیوں کو بعض حلقے خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صف بندیوں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ایران مخالف سکیورٹی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
اپنے مضمون کے اختتام پر عبداللہ البحرانی نے بحرینی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کے اقدامات بند کرے، مذہبی آزادیوں کا احترام کرے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی پابندی کرے اور تمام سیاسی و سماجی طبقات کی شمولیت سے قومی مکالمے کا آغاز کرے تاکہ ملک میں پائی جانے والی کشیدگی کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ