حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں شیعہ آبادی کے خلاف سخت سکیورٹی اقدامات اور مذہبی پابندیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں سخت سکیورٹی محاصرے کے باوجود عوامی مظاہرے منعقد کیے گئے، جن میں مظاہرین نے شیعہ علما اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کی وزارتِ داخلہ سے وابستہ سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح دستوں نے دارالحکومت منامہ کے مغرب میں واقع الدراز شہر کا سخت محاصرہ جاری رکھا، جس کے باعث شیعہ مسلسل اٹھاسیویں ہفتے بھی مرکزی نمازِ جمعہ ادا نہ کر سکے۔
سکیورٹی فورسز نے مسجد امام صادق علیہ السلام کے اطراف اپنی موجودگی مزید بڑھا دی۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدامات ممکنہ عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے، جو شیعہ مذہبی شعائر پر عائد پابندیوں، سیاسی قیدیوں سے اظہارِ یکجہتی، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور بحرین میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف منعقد کیے جا رہے ہیں۔
بحرین کے مختلف علاقوں میں ہونے والے مظاہروں میں شرکا نے جیلوں کو سیاسی اور مذہبی قیدیوں سے خالی کرنے، شیعہ علما کی رہائی، نمازِ جمعہ پر پابندی کے خاتمے اور مذہبی آزادیوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے محرم الحرام کی آمد کے موقع پر مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں کی بھی مذمت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ شیعہ برادری کے خلاف فرقہ وارانہ امتیاز، مذہبی معاملات میں سرکاری مداخلت اور مذہبِ جعفری کی شخصیات اور اداروں کے خلاف اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں۔
واضح رہے کہ بحرینی حکام نے اکتوبر 2024 سے شیعہ مسلمانوں کے مرکزی نمازِ جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب ملک میں شہید سید حسن نصراللہ کی یاد میں تقریبات، محورِ مقاومت کی حمایت میں مظاہرے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں جاری تھیں۔









آپ کا تبصرہ