تحریر و ترتیب: سید انجم رضا
حوزہ نیوز ایجنسی| امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی کنونشن کے تناظر میں ’’آئیڈیل امامیہ نوجوان‘‘ کا سوال محض ایک تنظیمی سوال نہیں بلکہ ایک فکری، تربیتی اور اجتماعی سوال ہے۔ یہ سوال اس بات سے متعلق ہے کہ آج کا امامیہ نوجوان کون ہے؟
اس کی شناخت کیا ہے؟ اس کا آئیڈیل کون ہے؟ وہ عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کس طرح کرے اور اپنی تعلیم، صلاحیت اور تربیت کو معاشرے کی تعمیر کے لیے کیسے استعمال کرے؟
اگر ہماری شناخت صرف ایک تنظیم کے حوالے سے ہو تو دائرۂ کار محدود اور متعین ہوجاتا ہے، لیکن جب ہم خود کو شیعہ مسلمان، پاکستانی شہری اور مکتبِ اہل بیتؑ کے پیروکار کے طور پر دیکھتے ہیں تو ہماری ذمہ داریاں کہیں زیادہ وسیع ہوجاتی ہیں۔ تاہم ان تمام دائروں کا بنیادی مرکز ایک ہی ہے: تعلیماتِ محمد و آلِ محمدؑ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا۔
امامیہ نوجوان کی اصل شناخت
امامیہ نوجوان کی شناخت محض اس کے نام، لباس یا کسی تنظیمی وابستگی سے نہیں ہونی چاہیے۔ اسے دیکھ کر اس کے کردار، اخلاق، علم، تقویٰ، معاشرتی ذمہ داری اور طرزِ زندگی سے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ یہ کسی بلند مقصد، روحانی فکر اور آسمانی تعلیمات سے وابستہ نوجوان ہے۔
’’امامیہ‘‘ کا لفظ اپنی ذات میں ایک ذمہ داری ہے۔ جب کوئی نوجوان خود کو امامیہ کہتا ہے تو اس کے سامنے وہ عظیم ہستیاں بھی موجود ہوتی ہیں جن سے وہ اپنی نسبت قائم کرتا ہے۔ چنانچہ اس کا آئیڈیل بھی وہی ہونا چاہیے جنہیں مکتبِ اہل بیتؑ نے ہمارے لیے نمونۂ عمل قرار دیا ہے۔
اسی لیے امامیہ نوجوان کے لیے علم، تقویٰ، حلم، اخلاق، ذمہ داری، اسلامی فرائض کی ادائیگی، خدمت اور انسان دوستی محض اضافی خوبیاں نہیں بلکہ اس کی شناخت کا حصہ ہیں۔
آئیڈیل کون؟
انسان کا کردار بڑی حد تک اس کے آئیڈیل سے تشکیل پاتا ہے۔ مکتبِ اہل بیتؑ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے زندگی کے مختلف مراحل اور مختلف عمروں کے انسانوں کے لیے عملی نمونے پیش کیے ہیں۔ واقعۂ کربلا میں ہمیں بچپن سے لے کر جوانی اور بزرگ عمر تک ایسے کردار نظر آتے ہیں جو انسانی عظمت، وفا، شجاعت، عبادت اور ایثار کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
خصوصاً نوجوانوں کے لیے حضرت قاسمؑ اور حضرت علی اکبرؑ جیسے کردار اس بات کی علامت ہیں کہ نوجوانی صرف توانائی، جذبات اور صلاحیت کا نام نہیں بلکہ مقصد، وفاداری، کردار اور قربانی کے شعور کا نام بھی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ہمارا آئیڈیل کسی عظیم دینی شخصیت کے بجائے محض کوئی کھلاڑی، فنکار یا مشہور شخصیت بن جائے تو ہماری ترجیحات کس سمت جائیں گی؟ نوجوان جسے اپنا نمونۂ عمل بناتا ہے، رفتہ رفتہ اسی کے انداز، ترجیحات اور اقدار کو اپنے اندر منتقل کرتا ہے۔
ایمان کو ہر دور میں ’’اپ ڈیٹ‘‘ کرنے کی ضرورت
عصرِ حاضر کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے صرف ماضی کا علم کافی نہیں۔ بنیادی اصول وہی رہتے ہیں، لیکن ان اصولوں کا اطلاق ہر دور کے نئے حالات پر کرنا پڑتا ہے۔
قرآن کی آیت ۔۔یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا
کے مفہوم پر گفتگو کرتے ہوئے ایک خوبصورت تصور سامنے آتا ہے کہ انسان کو اپنے ایمان، شعور اور فکری استعداد کو مسلسل تازہ اور مضبوط کرتے رہنا چاہیے۔ یعنی ایمان ایک جامد کیفیت نہیں بلکہ مسلسل تربیت اور ارتقا کا تقاضا کرتا ہے۔
آج کا نوجوان سوشل میڈیا، فاسٹ میڈیا، مصنوعی ذہانت، عالمی نیریٹو، فکری انتشار، فحاشی، صارفیت اور بے شمار نئے چیلنجز کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔
لیکن بنیادی انسانی سوالات آج بھی وہی ہیں!!!!!!!!!!
میرا خدا سے کیا تعلق ہے؟
میری اپنی ذات سے کیا نسبت ہے؟
اور معاشرے کے ساتھ میری ذمہ داری کیا ہے؟
مکتبِ اہل بیتؑ اور قرآن انسان کو ان تینوں تعلقات کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان ان اصولوں کو عصرِ حاضر کے حالات پر منطبق کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
سوشل میڈیا کا دور اور امامیہ نوجوان
آج ’’وار آف نیریٹو‘‘ حقیقت بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے سے اس قدر قریب کردیا ہے کہ نوجوان کسی بھی واقعے، فکر یا نظریے سے چند لمحوں میں واقف ہوسکتا ہے۔
لہٰذا امامیہ نوجوان صرف معلومات کا صارف نہیں بلکہ علم، تحقیق، فکر اور مثبت ابلاغ کا فعال کردار بنے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ، تعلیم، معیشت، میڈیا، سماجی علوم اور زندگی کے دوسرے تمام شعبوں میں مہارت حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
آج کا دور سپیشلائزیشن کادور ہے۔ نوجوان کو اپنی صلاحیت اور رجحان کے مطابق کسی شعبے میں مہارت پیدا کرنی ہوگی۔
اگر وہ عصرِ حاضر کی رفتار سے ہم آہنگ نہ ہوا تو وہ معاشرے کے مرکزی دھارے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع کھو سکتا ہے۔
یہاں مکتبِ تشیع کا تصورِ اجتہاد بھی نوجوان کے لیے ایک فکری گنجائش پیدا کرتا ہے کہ بنیادی اصولوں کو محفوظ رکھتے ہوئے نئے حالات اور نئے مسائل کو سمجھا اور ان کا حل تلاش کیا جائے۔
مین اسٹریم معاشرے سے تعلق
ایک اہم تشویش یہ بھی سامنے آتی ہے کہ بعض امامیہ نوجوان اپنی وسیع تر شیعہ معاشرت، بالخصوص عزاداری، جلوس اور اجتماعی مذہبی سرگرمیوں سے فاصلہ محسوس کرتے ہیں۔
یہ فاصلے مختلف وجوہات سے پیدا ہوسکتے ہیں: تعلیمی ماحول، سماجی رویے، طبقاتی احساس، تنظیمی تجربات یا نوجوان اور معاشرے کے درمیان بڑھتی ہوئی فکری خلیج۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ امامیہ نوجوان اپنے آپ کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کے بجائے اصلاح، تربیت اور خدمت کے ذریعے معاشرے کا مؤثر حصہ بنے۔ علمی برتری کا احساس اگر تکبر میں تبدیل ہوجائے تو وہ تربیت کے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ علم انسان کو دوسروں سے کاٹنے کے بجائے دوسروں کے لیے زیادہ مفید بناتا ہے۔
’’امامِ زمانہؑ کے سپاہی‘‘ — نعرے سے کردار تک
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی فکری شناخت میں پیرویِ خطِ امام، انقلابِ اسلامی سے وابستگی اور امامِ زمانہؑ کے سپاہی ہونے کا تصور اہم حیثیت رکھتا ہے۔
لیکن ’’سپاہی‘‘ ہونا محض ایک نعرہ نہیں۔ اس تصور کی عملی تکمیل کے لیے علم، تقویٰ، اخلاق، نظم، وقت کی پابندی، خود احتسابی، خدمتِ خلق اور ذمہ داری جیسے اوصاف ضروری ہیں۔
نعرہ ایک آغاز ہوسکتا ہے، مگر اصل منزل کردار ہے۔ زبان سے ادا ہونے والا دعویٰ جب دل کی کیفیت، فکر کی سمت اور عمل کی صورت اختیار کرتا ہے تو وہی شناخت مضبوط ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مہدویت کا تصور صرف مستقبل کے کسی واقعے کا انتظار نہیں بلکہ موجودہ زندگی کی اصلاح، عدل و انصاف کے قیام اور انسان کو ایک عادلانہ عالمی نظام کے لیے ذہنی و اخلاقی طور پر تیار کرنے کا تصور بھی ہے۔ امامیہ نوجوان کو اس فکری و تربیتی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
’’Enter to Learn, Leave to Serve‘‘
آئی ایس او کی تربیتی فکر کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو اس کا خوبصورت خلاصہ ہے۔
’’Enter to Learn, Leave to Serve‘‘
یعنی آئی ایس او میں داخلہ بنیادی طور پر سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے ہے، جبکہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھنا دراصل سیکھی ہوئی فکر، علم اور صلاحیت کو معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا مرحلہ ہے۔
اس تصور کے مطابق آئی ایس او سے وابستہ نوجوان کا سفر تنظیمی وابستگی کے خاتمے پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔
وہ ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، استاد بنے، وکیل بنے، صحافی بنے، کاروباری شخص بنے یا کسی اور شعبے میں جائے، اس کے اندر موجود آئی ایس او کی فکر، تربیت اور اجتماعی شعور معاشرے کے لیے مفید کردار میں تبدیل ہونا چاہیے۔
سابقینِ آئی ایس او: تنظیم سے باہر، فکر کے اندر!!!!
سابقین کے لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ وہ آج بھی تنظیم کے عہدے پر ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آئی ایس او نے انہیں جو کچھ دیا، وہ اسے معاشرے کو واپس کیا دے رہے ہیں؟
ایک ظاہری تنظیمی چھاپ ضرور ہوتی ہے، لیکن اصل چھاپ نظریاتی اور تربیتی ہوتی ہے۔ سابقِ آئی ایس او جہاں بھی موجود ہے، اگر وہ اپنے علم، تجربے، صلاحیت اور کردار سے نوجوانوں کی رہنمائی کررہا ہے، کسی طالب علم کی مالی یا علمی مدد کررہا ہے، کسی نوجوان کو کسی ماہر یا بڑے پروجیکٹ تک پہنچنے میں معاونت دے رہا ہے یا انسانی فلاح کے کسی منصوبے میں کردار ادا کررہا ہے تو وہ دراصل اسی تربیت کو آگے بڑھا رہا ہے۔
اسی لیے سابقین کے لیے ایک بنیادی سوال ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے:
’’میں نے اس شجرۂ طیبہ کو مزید ثمرآور، مزید سایہ دار اور مزید مؤثر بنانے کے لیے کیا کیا؟‘‘
اگر آئی ایس او نے زندگی میں علم، شعور، مقصد اور اجتماعی خدمت کا احساس پیدا کیا ہے تو اس احسان کا بہترین جواب یہی ہے کہ سابقین اپنی صلاحیتیں نئی نسل کی تعمیر کے لیے استعمال کریں۔
چراغ سے چراغ روشن کرنے کا سفر
تنظیم افراد سے بنتی ہے۔ کوئی تنظیم خود بخود معاشرے میں تبدیلی نہیں لاتی؛ اس کے افراد اپنی محنت، اخلاص اور کردار سے اسے مؤثر بناتے ہیں۔
اسی لیے ایک سابق اگر اپنے کسی طالب علم، کسی نوجوان یا کسی گروپ کو علمی، پیشہ ورانہ یا اخلاقی ترقی میں مدد دیتا ہے تو وہ دراصل تنظیم کے بنیادی مقصد کو آگے بڑھا رہا ہوتا ہے۔
یہی چراغ سے چراغ روشن کرنے کا سفر کی سوچ پہ عمل کا وقت ہے
ایک نسل تربیت حاصل کرتی ہے، آگے بڑھتی ہے، معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے اور پھر اگلی نسل کے لیے راستہ آسان کرتی ہے۔ یوں ایک تنظیم محض ایک ادارہ نہیں رہتی بلکہ ایک مسلسل تربیتی روایت بن جاتی ہے۔
زیادہ امامیہ نوجوان یا بہتر امامیہ نوجوان؟
مرکزی کنونشن کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ہمیں تعداد چاہیے یا معیار؟
اس گفتگو میں پیش کیا گیا نقطۂ نظر یہ ہے کہ کوانٹٹی اور کوالٹی کو باہم متضاد سمجھنے کے بجائے ان کے تعلق کو سمجھنا چاہیے۔ اگر زیادہ نوجوان تربیتی دائرے میں آئیں گے تو ان میں بہتر تربیت یافتہ نوجوان پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
اسی لیے توسیعِ تنظیم اہم ہے۔ موجودہ یونٹس کی مضبوطی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن نئے علاقوں، نئے تعلیمی اداروں اور نئے نوجوانوں تک رسائی بھی ضروری ہے۔
تاہم صرف نیا تنظیمی ڈھانچہ کافی نہیں۔ ریجنز اور ڈسٹرکٹس بنانا ایک انتظامی قدم ہوسکتا ہے، لیکن اس ڈھانچے میں زندگی محنت، تربیت، وقت، انسانی رابطے اور مسلسل فیلڈ ورک سے آتی ہے۔ دفاتر، ٹیلی فون اور واٹس ایپ رابطے ضروری ہوسکتے ہیں، مگر نوجوانوں کی حقیقی تربیت کے لیے براہِ راست انسانی تعلق اور مسلسل محنت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
مرکزی کنونشن: اجتماع سے تربیت تک
مرکزی کنونشن محض ایک سالانہ اجتماع نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک اجتماعی، تربیتی اور فکری تجربہ بن سکتا ہے۔
ایسے اجتماعات میں مختلف علاقوں، تعلیمی اداروں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ بعض نوجوان پہلی مرتبہ تنظیم کی وسیع تر تصویر دیکھتے ہیں اور ان کے اندر وابستگی، جذبہ اور خدمت کا نیا احساس پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے کنونشن کے اصل اثرات اس وقت سامنے آتے ہیں جب اجتماع کے بعد نوجوان اپنے ساتھ کوئی فکری سبق، عملی ہدف اور تربیتی عزم لے کر واپس جائے۔
آج کا سوال: شناخت یا صرف وابستگی؟
آخرکار ’’آئیڈیل امامیہ نوجوان‘‘ کا سوال ہمیں ایک بنیادی نکتے تک لے آتا ہے۔
کیا امامیہ نوجوان صرف ایک تنظیم کا رکن ہے؟
کیا وہ صرف ایک نعرے کا حامل ہے؟
کیا وہ صرف مذہبی اجتماعات میں شرکت کرنے والا نوجوان ہے؟
یا وہ ایسا انسان ہے جس کی علمی قابلیت، دینی بصیرت، اخلاقی کردار، اجتماعی شعور، پیشہ ورانہ مہارت، خدمتِ خلق اور عصرِ حاضر کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت ایک مربوط شخصیت کی تشکیل کرتی ہے؟
آئیڈیل امامیہ نوجوان وہ ہے جو اپنے مکتب سے جڑا ہوا ہو مگر دنیا سے کٹا ہوا نہ ہو؛ جو جدید علم حاصل کرے مگر اپنی فکری بنیاد سے محروم نہ ہو؛ جو ٹیکنالوجی استعمال کرے مگر ٹیکنالوجی کا غلام نہ بنے؛ جو معاشرے کی اصلاح چاہے مگر معاشرے سے نفرت نہ کرے؛ جو اپنے ایمان کو زندہ رکھے اور اسے اپنے کردار میں ظاہر کرے۔
خوب سے خوب تر کی تلاش
انسان کی عظمت اس مسلسل سفر میں ہے جس میں وہ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ امامیہ نوجوان کے لیے بھی یہی سفر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
نعرے سے عمل کی طرف،
علم سے کردار کی طرف،
تنظیم سے معاشرے کی طرف،
تربیت سے خدمت کی طرف،
اور انتظار سے تیاری کی طرف۔
یہی وہ سفر ہے جو ایک عام نوجوان کو ایک بااصول، باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار امامیہ نوجوان میں تبدیل کرسکتا ہے۔
آئی ایس او کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ کتنے نوجوان اس سے وابستہ ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس سے وابستہ ہوکر کتنے نوجوانوں نے اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں سے معاشرے کو کچھ واپس دیا۔
اسی لیے
’’Enter to Learn, Leave to Serve‘‘
محض ایک تنظیمی نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی فلسفہ ہے۔
اور سابقین کے لیے اس فلسفے کا اگلا مرحلہ یہی ہے کہ جس شجرۂ طیبہ نے انہیں سایہ اور ثمر دیا، وہ اس شجر کو مزید مضبوط، ثمرآور اور سایہ دار بنانے میں اپنا حصہ ادا کریں۔
خلاصہ یہ ہے کہ آئیڈیل امامیہ نوجوان وہ ہے جو تعلیماتِ محمد و آلِ محمدؑ کو اپنی شخصیت اور زندگی میں ڈھالے، علم و تخصص میں آگے بڑھے، عصرِ حاضر کے چیلنجز کو سمجھے، معاشرے سے جڑا رہے، خدمتِ خلق کرے اور اپنی عملی زندگی میں آئی ایس او کی فکری و تربیتی چھاپ کو نمایاں کرے؛ جبکہ سابقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شجرۂ طیبہ کو اپنے تجربے، کردار اور خدمت سے مزید مضبوط اور ثمرآور بنائیں۔









آپ کا تبصرہ