جمعرات 13 اگست 2026 - 21:09
منبرِ عزاء: تقدیس، ضابطہ اور ذمہ داری کا سوال

حوزہ/ملتِ تشیع اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے اندر عزاداری ایک عظیم دینی، روحانی، فکری اور تہذیبی سرمایہ ہے۔ یہ صرف غم کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ واقعۂ کربلا کے ذریعے دین، امامت، عدل، حریت، قربانی اور ولایتِ اہلِ بیتؑ کے پیغام کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔

تحریر:سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| ملتِ تشیع اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے اندر عزاداری ایک عظیم دینی، روحانی، فکری اور تہذیبی سرمایہ ہے۔ یہ صرف غم کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ واقعۂ کربلا کے ذریعے دین، امامت، عدل، حریت، قربانی اور ولایتِ اہلِ بیتؑ کے پیغام کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے عزاداری کے ساتھ وابستہ ہر چیز، خصوصاً منبرِ عزا اور مسندِ عزاء کے بارے میں سنجیدہ اور اصولی گفتگو ناگزیر ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ عزاداری شریعتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے تابع ہونی چاہیے تو پھر اس اصول کے عملی تقاضے کیا ہیں؟

کیا عزاداری کو محض ایک سماجی، معاشرتی یا ثقافتی سرگرمی قرار دے کر اس کے دینی اور شرعی دائرے کو ثانوی حیثیت دی جاسکتی ہے؟

یا پھر عزاداری کی تمام رسومات، اس کے منبر، اس کے مقرر، ذاکر، نوحہ خواں اور اس کے عمومی ماحول کو ایک واضح شرعی اور اخلاقی ضابطے کے تابع ہونا چاہیے؟

یہ سوال کسی فرد، فن یا طبقے کی تحقیر کا نہیں بلکہ مقدس منبر کی حدود کے تعین کا ہے۔

عزاداری: ثقافت بھی، مگر صرف ثقافت نہیں

یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ مختلف معاشروں میں عزاداری نے مقامی ثقافتوں سے بعض ظاہری صورتیں اور اظہار کے انداز ضرور اختیار کیے ہیں۔ زبانیں بدلیں، نوحے کے آہنگ بدلے، جلوسوں کی تنظیمی صورتیں مختلف ہوئیں اور مختلف خطوں نے اپنے تہذیبی رنگ میں اہلِ بیتؑ کے غم کا اظہار کیا۔ مگر اس حقیقت سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ عزاداری کی ہر صورت کو محض سماجی یا ثقافتی سرگرمی سمجھ لیا جائے۔

عزاداری کی روح مکتبِ اہلِ بیتؑ سے وابستہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مصائبِ اہلِ بیتؑ کا ذکر، ان کی سیرت و تعلیمات کا احیا اور ان کے راستے سے وفاداری ہے۔ لہٰذا ثقافت، عزاداری کی صورت کو متاثر کرسکتی ہے، مگر شریعت اور مکتب اس کی حدود اور مقصد متعین کریں گے۔
یہی بنیادی فرق ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

منبر، صرف ایک اسٹیج نہیں

منبرِ عزا کو عام اسٹیج یا تفریحی پلیٹ فارم کے معیار پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ جب ہم اسے منبرِ دین، منبرِ مکتب اور ایک اعتبار سے منبرِ غدیر کی علمی و فکری روایت سے جوڑتے ہیں تو پھر اس کی حرمت اور ذمہ داری بھی عام مجلس یا ثقافتی تقریب سے مختلف ہوجاتی ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا منبر کے لیے کبھی اجتماعی طور پر واضح Do's and Don'ts طے کیے گئے؟
کیا یہ اصول متعین ہیں کہ:
منبر پر کون بیٹھنے کا اہل ہے؟
اس کی علمی، اعتقادی اور اخلاقی اہلیت کا معیار کیا ہوگا؟
کیا ہر مشہور شخصیت کو صرف شہرت یا عوامی مقبولیت کی بنیاد پر منبر دیا جاسکتا ہے؟
کیا مسلکی انحراف، غلو، تقصیر یا دیگر فکری اختلافات کے حامل افراد کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود ہے؟
کیا منبر استعمال کرنے والے شخص کے طرزِ عمل، گفتار اور عوامی کردار کا کوئی اعتبار ہوگا؟
اور سب سے بڑھ کر، منبر پر پابندی یا اجازت کا اختیار کس کے پاس ہوگا؟

یہ سوالات نئے نہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر ان پر گفتگو واقعہ گزر جانے کے بعد شروع ہوتی ہے۔

پنجابی محاورے میں کہا جاتا ہے: (ترجمہ: نماز کی ادائیگی بروقت وگرنہ صرف ٹکریں مارنے کے برابر ہے) “ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں”
یعنی اصل اہمیت بروقت اقدام کی ہے؛ وقت گزرنے کے بعد صرف احتجاج یا شور مچانےسے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

بروقت موعظہ کیوں نہیں؟

اکثر خطباء اور علماء منبر کی تقدیس، احترام اور حرمت پر نہایت عمدہ گفتگو کرتے ہیں، اور یقیناً یہ گفتگو ضروری بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ موعظہ بروقت اور برمحل کیوں نہیں ہوتا؟
جب برسوں تک مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کو بلا کسی واضح معیار کے منبر فراہم کیا جاتا رہے، جب فن اور مذہب کے درمیان حدِ فاصل دھندلی ہوتی رہے، جب شہرت اور مجمع منبر کی اہلیت کا معیار بنتے جائیں، تو پھر کسی ایک واقعے کے بعد منبر کی تقدیس پر جذباتی تقریریں کرنا مسئلے کے بنیادی حل کے لیے کافی نہیں۔
ماضی میں فن، فلم اور ثقافت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے بھی مجالس اور ذاکری کے میدان میں جگہ بنائی۔ مثال کے طور پر معروف اداکار، گلوکار اور فلم ساز مرحوم عنایت حسین بھٹی نے اپنی زندگی کے ایک دور میں مجالسِ عزا میں ذاکرانہ انداز سے پڑھنا شروع کیا۔ سوال کسی مرحوم شخصیت کے احترام یا عدم احترام کا نہیں، بلکہ اصول کا ہے:
کیا اس وقت منبر کی اہلیت، شرعی حدود اور دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی واضح اجتماعی معیار نافذ تھا؟
اگر نہیں تھا تو آج بھی ہمیں شخصیات کے بجائے اصولوں پر گفتگو کرنا ہوگی۔
یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ فنکار ہونا بذاتِ خود کسی کو منبر سے محروم کرنے کی دلیل نہیں اور نہ ہی کسی شخص کا ماضی خودکار طور پر اس کی حالیہ دینداری یا توبہ کے بارے میں فیصلہ کردیتا ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ محض شہرت، فن یا مقبولیت منبرِ اہلِ بیتؑ کی اہلیت کی سند نہیں ہوسکتی۔
منبر کے لیے معیار ہونا چاہیے، اور وہ معیار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

اختلافِ عقیدہ اور منبر کا مسئلہ

مکتبِ اہلِ بیتؑ کے اندر اور اس سے نسبت رکھنے والے مختلف گروہوں کے درمیان اعتقادی اختلافات موجود ہیں۔ بوہری، غالی، مقصر، شیخی، نصیری یا دیگر نسبتوں کے حامل افراد کے بارے میں فقہی و اعتقادی موقف اور حدود کا تعین جذبات یا ہجوم کے بجائے اہلِ علم کے ذریعے ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ نہ تو گالی کا ہے، نہ تکفیر بازی کا، اور نہ فرقہ وارانہ اشتعال پیدا کرنے کا۔
سوال صرف اتنا ہے:
اگر منبرِ عزا مکتبِ اہلِ بیتؑ کی ترجمانی کا مقام ہے تو کیا اس پر بیٹھنے والے کی فکری و اعتقادی نسبت غیر متعلق ہوسکتی ہے؟
ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔
جس شخص کو منبرِ مکتب دیا جائے، اس کے لیے کم از کم یہ ضروری ہے کہ اس کی گفتگو مکتب کے مسلمہ اعتقادی و اخلاقی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔ تاہم کسی فرد یا گروہ کے بارے میں حتمی شرعی حکم صادر کرنا عوام یا مجلس کے منتظمین کا نہیں بلکہ مستند اہلِ فقہ اور اہلِ علم کا کام ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ علمی اختلاف اور منبر کی اہلیت کے مسئلے کو ایک منظم، فقہی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت حل کیا جائے۔

مسندِ عزا اور منبرِ دین کا دائرۂ کار

ہمیں اب سنجیدگی سے مسندِ عزا اور منبرِ دین و مکتب کا دائرۂ کار اور حدود متعین کرنی ہوں گی۔
ہر شخص جو اہلِ بیتؑ سے محبت رکھتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ منبرِ تبلیغ کا اہل بھی ہو۔
ہر اچھا نوحہ خواں اچھا ذاکر نہیں ہوتا۔
ہر اچھا مقرر دین کا نمائندہ نہیں ہوتا۔
ہر مشہور شخصیت منبر کی امانت نہیں سنبھال سکتی۔
اور ہر وہ شخص جس کے پاس اچھی آواز یا عوام کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہے، ضروری نہیں کہ اس کے پاس عقیدے، تاریخ، فقہ اور مکتب کی صحیح نمائندگی کی علمی صلاحیت بھی موجود ہو۔
منبر کو محض پرفارمنس میں تبدیل کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ پیغام پیچھے اور شخصیت آگے آجاتی ہے؛ مکتب پیچھے اور مارکیٹنگ آگے آجاتی ہے؛ تربیت پیچھے اور تفریح آگے آجاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ:
دین و عزاداری، معاش و روزگار کا ذریعہ ہے یا ترویجِ مکتب و مذہب کا وسیلہ؟
یہ سوال کسی ذاکر، خطیب یا نوحہ خواں کے جائز معاشی حقوق کی نفی نہیں کرتا۔ جو شخص اپنا وقت، علم اور صلاحیت دین کی خدمت میں صرف کرتا ہے، اس کی معقول ضروریات اور معاوضے کا انتظام اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہے۔ مگر جب معاش، مقصد پر غالب آجائے، جب مجلس کی کامیابی کو صرف مجمع، داد، وائرل کلپس یا آمدنی سے ناپا جانے لگے، تو پھر دین کے نام پر سرگرمی اور دین کی خدمت میں فرق کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
اصل مقصد ترویجِ مکتب، اصلاحِ معاشرہ اور نسلوں کی تربیت ہونا چاہیے؛ معاشی ضرورت اس کے تابع ہوسکتی ہے، مقصد کا بدل نہیں۔

ضابطہ کس کے ذریعے نافذ ہوگا؟

منبر اور عزاداری کے نظم و ضبط کے لیے بنیادی طور پر دو راستے سامنے آتے ہیں:

1۔ شرعی و علمی ضابطہ
یہ سب سے مضبوط اور اصولی بنیاد ہے۔ مستند علماء اور فقہی مراجع کی رہنمائی میں منبر و عزاداری کے لیے بنیادی اصول مرتب کیے جائیں۔ ان میں عقیدے، اخلاق، زبان، لباس، موضوعات، تاریخی روایات کی صحت اور منبر کے عمومی احترام سے متعلق رہنما اصول شامل ہوں۔

2۔ سماجی و ادارہ جاتی دباؤ
بانیانِ مجالس، متولیان، انجمنیں، عزاداری کمیٹیاں اور خود عزادار بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کریں۔ وہ یہ طے کرسکتے ہیں کہ ان کے ہاں منبر کو کس معیار کے تحت استعمال کیا جائے گا اور کسی واضح خلاف ورزی کی صورت میں کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔
لیکن ان دونوں میں سے دوسرا راستہ پہلے کا متبادل نہیں ہونا چاہیے۔
سوشل پریشر شریعت کا بدل نہیں، بلکہ شرعی و اخلاقی اصولوں کے نفاذ کا معاون ذریعہ ہوسکتا ہے۔
بانیِ مجلس، متولی اور انتظامیہ کسی فاسقِ معلن یا علانیہ گناہِ کبیرہ میں معروف شخص کو منبر نہ دینے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، بلکہ مقدس منبر کے احترام کے پیشِ نظر ایسا کرنا ان کی ذمہ داری بھی ہوسکتی ہے۔ مگر ساتھ ہی اس اختیار کو ذاتی دشمنی، سیاسی اختلاف، گروہی عصبیت یا بے بنیاد الزامات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اب کیا کرنا چاہیے؟
وقت آگیا ہے کہ ملتِ تشیع میں اس موضوع پر ایک سنجیدہ اور اصولی مکالمہ ہو۔ کم از کم درج ذیل امور پر اجتماعی غور ہونا چاہیے:

اول: عزاداری کی شرعی بنیاد اور اس کی ثقافتی صورتوں میں واضح فرق کیا جائے۔

دوم: منبرِ عزا، مسندِ ذکر اور مذہبی اسٹیج کے درمیان ذمہ داریوں کے اعتبار سے فرق واضح کیا جائے۔

سوم: ذاکر، خطیب، عالم، نوحہ خواں اور دیگر مقررین کے لیے بنیادی علمی، اعتقادی اور اخلاقی معیارات مرتب کیے جائیں۔

چہارم: کسی فرد یا گروہ کے اعتقادی اختلاف کو ہجوم کے فیصلے کے بجائے مستند اہلِ علم کی رہنمائی سے دیکھا جائے۔

پنجم: علانیہ فسق، فحاشی یا ایسے عوامی کردار کے حامل شخص کے بارے میں واضح اصول بنایا جائے جو منبر کی حرمت سے متصادم ہو۔

ششم: بانیانِ مجالس اور متولیان کو صرف مالی منتظم نہیں بلکہ منبر کے امین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔

ہفتم: شکایت، اعتراض اور پابندی کے لیے ایک منصفانہ ادارہ جاتی طریقۂ کار ہو تاکہ فیصلے جذبات، سوشل میڈیا یا شخصی پسند و ناپسند پر نہ ہوں۔

اہم بات: شخصیات نہیں، اصول طے کیے جائیں
آج سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ ہم ہر واقعے کے بعد کسی ایک فرد کو موضوع بنا کر شور مچائیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اصول طے کریں۔
اگر عزاداری شریعتِ اہلِ بیتؑ کے تابع ہے تو یہ اصول ہر مجلس، ہر منبر، ہر خطیب، ہر ذاکر اور ہر منتظم کے لیے ہونا چاہیے۔
اگر منبر مقدس ہے تو اس کی تقدیس صرف تقریروں میں نہیں بلکہ ضابطوں اور عملی فیصلوں میں بھی نظر آنی چاہیے۔
اگر منبرِ غدیر اور منبرِ اہلِ بیتؑ سے نسبت ہمارے لیے باعثِ احترام ہے تو ہمیں اس کی حفاظت بھی اسی سنجیدگی سے کرنی ہوگی۔
اور اگر دین و عزاداری کا مقصد واقعی ترویجِ مکتب و مذہب ہے تو پھر ہماری ترجیح شخصیت، شہرت، مجمع اور معاش نہیں بلکہ حق، صداقت، تربیت اور مکتب کی صحیح نمائندگی ہونی چاہیے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ کسے منبر سے اتارا جائے؟
اصل سوال یہ ہے کہ:

منبر پر بیٹھنے کا اصول کیا ہو؟

جب یہ اصول طے ہوجائے گا تو فیصلے شخصیات کے نام پر نہیں، شریعت، اخلاق، علم اور مکتب کے متفقہ ضابطوں کے تحت ہوں گے۔
اور شاید یہی منبرِ عزا کے احترام کا سب سے بروقت، برمحل اور مؤثر دفاع ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha