تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزه نیوز ایجنسی | اگر ہم اپنے واقعی منتظر ہونے کو جانچنا اور پرکھنا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں حقیقت انتظار کو سمجھنا ہوگا ، اور حقیقی انتظار کو سمجھنے کے لئے اس کے اِس تصور کہ" انتظارکچھ کئے دھرے بغیر فقط خوشگوار مستقبل اور شاندار فیوچر کی راہ تکنے کا نام ہے" کو ذہن سے کھرچ کر پھینکنا ہوگا۔ ہر منتظِر کو ہر وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ انتظار فقط ظہور کی امید میں شب و روز گزارنے سےحاصل نہیں ہوتا بلکہ خود ، اپنی فیملی اور اپنے سماج کو اس کے لئے ہر اعتبار سے آمادہ کرنے کی جدو جہد سے وجود میں آتا ہے۔
یعنی ظہور کا انتظار صرف ایک سادہ احساس اور ذہنی امید و آرزو سے عبارت نہیں ہے بلکہ عمیق احساس و ایمان اور گہری قلبی و ذہنی آرزو و تمنا کے ہمراہ پیہم نیک و صالح عمل کرتے رہنے اور ہر قسم کی بدعملی سے بچتے رہنے کا نام ہے۔
کیوں ؟
اس لئے کہ حدیث میں انتظار فرج و ظہور کو فقط نیک عمل نہیں بلکہ سرکار رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کے تمام اعمال میں سب سے افضل و برتر عمل قرار دیا ہے ، چنانچہ آپ کا ارشاد مبارک ہے :
افضل اعمال امتی انتظار الفرج (1)
اس حدیث مبارک پر ذرا سا غور کرنے سے وہی دو اہم باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں جو ہم نے اوپر چند سطروں میں بیان کی ہیں یعنی :
1۔ انتظار فقط ایک اعتقاد اور امید و آرزو کا نام نہیں ہے بلکہ ایک عمل ہے وہ بھی ایسا باعظمت عمل جو تمام اعمال سے افضل و برتر ہے۔
لہذا فقط ظہور کی امید و آرزو لئے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا یا صرف مادی عیش و نوش کی کوشش میں غرق رہنا اور انتظار کو صرف ایک دینی و قومی نعرہ ، تصور اور احساس تک محدود رکھنا، یہی نہیں کہ انتظار نہیں ہے بلکہ ایک ایسی خطرناک غلط فہمی ہے کہ جسے ظہور کا انتظار کرنے والی قوم کے ذہن سے بہت جلد دور ہونا چاہیئے۔
2۔ جب انتظار فرج ، امت کے تمام اعمال سے افضل و برتر عمل ہے تو ظاھر ہے اس افضل و برتر عمل (انتظار) کا اہتمام بھی نہایت اعلی پیمانہ پر ہونا چاہیئے ، لیکن خدا نخواستہ ہم منتظِر ہونے کا دعویٰ تو کریں مگر ایسا انتظار نہ کریں تو پھر یہ مَثَلْ صادق آئے گی:
اونچی دکان اور پھیکا پکوان۔
مناسب ہے کہ حقیقی انتظار کے سلسلہ میں حقیقی منتظر ظہور شہید امت آیت اللہ خامنہ ای طاب ثراہ کی یہ تعریف بھی ذکر کردی جائے کہ :
انتظار: موجودہ حالت کو قبول نہ کرنے اور مطلوب و پسندیدہ حالت تک پہنچنے کے لئے تلاش و جستجو کرنے کا نام ہے۔(2)
چونکہ ہمارا سماج اور معاشرہ بلکہ یہ زمانہ ظلم ، تکبر، بے حیائی ، خیایت ، بغض ، حسد ، عداوت ، نا انصافی ، فساد ، بربریت اور درندگی و خونریزی سے لبریز ہے اورظاہر ہے امام زمانہ کے ظہور کا حقیقی انتظار کرنے والوں کو اس کی یہ حالت ہرگز برداشت نہیں کرنی چاہیئے اور ھمیشہ اپنے قول و عمل سے اس جان لیوا حالت کو مطلوب حالت یعنی امن ، امان ، عدل ، انصاف ، محبت ، دوستی اور عزت و شرافت جیسی قدروں میں بدلنے کی انتھک سعی و کوشش کرنی چاہیئے۔
مسلم ہے کہ ہم منتظر ہیں اور انتظار ہمارا شیوہ ہے تو ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھیں ، انھیں پوری طرح محسوس کریں اور پھر ضرور انھیں جامہ عمل پہنائیں۔
ہماری اہم ذمہ داریاں :
1۔ خود کی اصلاح :
قال امامنا الصادق علیہ السلام :
"مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ وَلْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَمَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ" (3)
منتظر کو اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیئے کہ انتظار اس میدان جہاد کی طرح ہے جس میں پہلا قدم اپنے نفس اور خواھشات کے اوپر رکھنا پڑتا ہے۔
لہذا ہم اہل انتظار کو پورے عزم و ہمت کے ساتھ بلاتاخیر اس نفس کے اندر پائے جانے والے پلید و غلیظ جراثیم یعنی تکبر ، بغض، حسد ، جھوٹ ، ظلم ، فساد ، بد خلقی اور ہر قسم کے گناہ کو کچل دینا چاہیئے کہ اسی کا نام " جہاد اکبر" ہے۔ لیکن یہ عظیم جہاد کرنے میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جو زہد و ورع کےزیور سے آراستہ ہوتے ہیں۔
2۔ حق سے وابستگی:
قال امیرالمومنین علیہ السلام :
"إِلْزَمِ الْحَقَّ ، يُنْزِلْكَ الْحَقُّ مَنَازِلَ أَهْلِ الْحَقِّ يَوْمَ لَا يُقْضَى إِلَّا بِالْحَقِّ" (4)
منتظر کو ہر پکارنے والے کی آواز پر لبیک نہیں کہنی چاہیئے اور ہر زرق برق خیمہ یا کشادہ پالے میں داخل نہیں ہونا چاہیئے ، چاہے وہ کتنا ہی دل فریب اور خوش منظر کیوں نہ ہو ، بلکہ اسے ہمیشہ حق کی راہ ، حق کے خیمہ اور حق کے پالے کی مکمل شناخت و معرفت ہونی چاہیئے اور بہر قیمت اسی سے وابستہ رہنا چاہیئے۔
3۔ عدل خواہی:
قال اللہ المتعال : "اعدلوا ھو اقرب للتقوی"(5)۔
منتظر کو چاہیئے کہ اپنے اور سب کے سلسلہ میں عدل سے کام لے اور کبھی بھی کسی کے سلسلہ میں بھی حد حق و عدل سے تجاوز نہ کرے چونکہ انتظار ظہور کا مطلب ہی عدل و انصاف کے زمانہ کا انتظار کرنا ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں جس زمانہ کا شب و روز انتظار ہے ، ہم اسی سے ہماہنگ ہونے کے لائق نہ ہوں۔
پس اگر ہمیں زمانہ عدل یا عالمی حکومت عدل کا انتظار ہے تو خود کو عدل و انصاف کا خوگر بنانا اور ہر قسم کے ظلم و ستم سے پاک کرنا ضروری ہے۔
4۔ سماج کی خدمت:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
«الْخَلْقُ عِیَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ نَفَعَ عِیَالَ اللَّهِ، أَوْ أَدْخَلَ عَلَى أَهْلِ بَیْتٍ سُرُوراً» (6)
حقیقی منتظر وہ کبھی نہیں ہوتا جو اپنی زندگی میں مست و مگن رہے اور اپنے اعزا و اقارب اور سماج کے لوگوں کے دکھ درد میں شریک نہ ہو۔
چونکہ اللہ کے بندوں کی مدد ، ان کی دلجوئی ، حاجت روائی اور عزت و خدمت ہی وہ نیکیاں ہیں ، جو زمانہ ظہور سے قریب ہونے کا وسیلہ قرار پاتی ہیں۔
5۔ امید و آرزو کا تحفظ:
قال اللہ المتعال:
"وَلَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ» (7)
حالات کتنے ہی خراب ، تاریک اور مایوس کن کیوں نہ ہوں ، منتظر کو امید وار رہنا چاہیئے کہ عدل اور امن و امان کا سورج ایک دن ضرور نمودار ہوگا۔
چونکہ امام کا پوشیدہ ہونا اسی طرح ہے جیسے سورج ، بادل کے پیچھے پوشیدہ ہوجاتا ہے ، پس جب بادل ہٹ جاتا ہے تو سورج ساری کائنات کو اپنے نور سے بھر دیتا ہے۔
لہذا ہم منتظرین کی ذمہ داری ہے کہ خورشید امامت اور ہمارے درمیان جو بے دینی ، بے ایمانی ، بے اعتقادی اور بدعملی و گناھگاری کے دبیز پردے حائل ہیں ، ہم شب و روز انھیں ہٹانے کی کوشش کریں تاکہ خورشید امامت و ولایت نمودار ہو کر اس وسیع و عریض خزاں رسیدہ گلشن ھستی کو عدل و داد کے پھولوں کی بہار اور جانفرا خوشبو سے معطر و معمور کر سکے۔
6۔ امتحان و محاسبہ :
قال امامنا الکاظم علیہ السلام :
"لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُحَاسِبْ نَفْسَهُ فِی كُلِّ یَوْمٍ» (8)
ہمیں کسی سے بھی یہ نہیں پوچھنا چاہیئے کہ ظہور کب ہوگا ؟؟ بلکہ فقط اپنے نفس سے یہ پوچھنا چاہیئے کہ :
اگر ابھی ظہور ہوجائے تو تم اس کے لئے کتنے آمادہ ہو؟؟
یاد رہے کہ ہمیں ظہور ہونے پر اپنا محاسبہ (حساب و کتاب) نہیں کرنا ہے بلکہ ظہور سے پہلے یعنی آج ، کل بلکہ ابھی اپنا امتحان اور حساب و کتاب کرنا چاہیئے۔
کسطرح ؟
اس طرح :
1۔ ایک جگہ سچ بولناضروری ہو لیکن بہت مشکل!!! اور اسی جگہ جھوٹ بولنا گناہ ہو لیکن بہت آسان اور ظاھرا خوشگوار!!
امتحان کریں کہ ہم اس جگہ سچ بولتے ہیں یاجھوٹ؟
2۔ ایک جگہ عدالت سے کام لینا ضروری ہو لیکن ہمارا نقصان ہو اور اسی جگہ خیانت سے کام لینا گناہ ہو مگر ہمارا بہت فائدہ ہو!!۔
امتحان کریں ہم اس جگہ عدالت کا گلا گھونٹتے ہیں یا خیانت؟
3۔ ایک جگہ حق کا ساتھ دینا بہت ضروری ہو لیکن جان مال جانے کا پورا خطرہ ہو اور اسی جگہ باطل کا ساتھ دینا بہت بڑا گناہ ہو لیکن مال ، دولت ، عزت شہرت اور سرکاری جوپ اور نوکری ملنے کا پختہ یقین!!
امتحان کریں ہم ایسے مقام پر کس کا ساتھ دیتے ہیں حق کا یا باطل کا ؟؟۔
امید ہےکہ ان شاء اللہ ہم اہل انتظار اس قسم کی طرز امتحان و محاسبہ کو سچائی اور پابندی کے ساتھ اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ بنائیں گے تاکہ حجت خداوند منان ، وارث عترت و قرآن ، امام انس و جان ، قطب عالم امکان ، حضرت صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور پرنور کا حقیقی انتظار وجود میں آسکے۔
آخر کلام میں رب کریم سے دعا ہے کہ ہم سب کو حقیقی منتظِر بننے کی توفیق عطا کرتے ہوئے حضرت امام منتظَر علیہ السلام و ارواحنا لتراب مقدمہ الفداء کے ظہور مبارک میں تعجیل فرمائے آمین۔
منابع و مدارک :
1۔کمال الدین و تمام النعمة ، ج 2 ، ص 644۔
2۔سخنرانئ رھبر شہید انقلاب 27 مرداد ، 1387۔
3۔کتاب الغیبة نعمانی، صفحه ۲۰۰، باب ۱۱، حدیث ۱۶.
4۔ عیون الحکم والمواعظ لیثی ، صفحہ 84۔
5۔ قرآن ، سورہ مائدہ ، آیہ 8۔
6۔ الجعفریات ، ص 193۔
7۔ قرآن ، سورہ یوسف ، آیہ 87۔
8۔ الکافی ، ج 2 ، باب محاسبة النفس ، ص 453۔









آپ کا تبصرہ