حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ممبئی/ البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی جانگداز شہادت کی مناسبت سے زوم کے ذریعے ایک اہم انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کی گئی ۔
کانفرنس کا آغاز مولانا ابن حسن املوی کی صدارتی تقریر سے ہوا آپ نے جنت البقیع کی ایمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے البقیع آرگنائزیشن کی تحریک کی خاص کر مولانا محبوب مہدی عابدی، مولانا اسلم رضوی اور مولانا علی عباس وفا کی کھل کر حمایت کی ۔ مولانا ابن حسن املوی نے آل سعود کی حکومت کے ظلم کو کھل کر بیان کیا اور فرمایا افسوس صد افسوس ٨/شوال ١٣٤٤ ھ کو آل سعود نے جنت البقیع میں موجود خوبصورت روضوں کو منہدم کر دیا اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان اس تحریک میں ھمارا ساتھ دیں ۔
شہر پونا سے مولانا اسلم رضوی نے اپنی تقریر کے دوران ان لوگوں کو جواب دیا (جو حماقت و نادانی کی وجہ سے یہ کہہ کر اس تحریک کو کمزور کر رہے ہیں کہ جب ہم جانتے ہیں کہ آل سعود ہماری بات نہیں مانیں گے تو پھر ہم اس تحریک کے ذریعے اپنا وقت کیوں برباد کر رہے ہیں) مسئلہ کامیابی اور ناکامی کا نہیں ہے بلکہ آل سعود کے خلاف آواز بلند کر کے ہم مدفونین بقیع سے اپنی مودت کا اظہار کرتے ہیں اور ظالموں سے اظہار برائت کرتے ہیں ۔ ہم روز قیامت ائمہ معصومین سے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں ہم نے آپ کی محبت میں ظلم کے خلاف آواز بلند کی تھی ۔
امریکہ سے مولانا سید نفیس حیدر تقوی نے امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے عالم اسلام کی خدمت میں تعزیت پیش کی اور کہا کہ والد بزرگوار کی شہادت کے بعد آپ نے بحیثیت امام زمان یہ حکم خدا سنایا کہ پھوپھی جان چادر کے بغیر جلتے ہوئے خیمے سے باہر نکل جائیے کیوں کہ جان کی حفاظت واجب ہے ۔ ایسے سخت ماحول میں آپ نے دین مبین کی حفاظت کی جب اسلام کو مختلف بہانوں سے مٹایا جا رہا تھا بنی امیہ کی جانب سے حدیث رسول کو بیان کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس امام نے انسانیت اور اسلام کی بقا کے لیے قربانی پیش کی تھی اسی کی قبر کو ظالموں نے منہدم کر دیا ۔
امریکہ ہی سے ایک جواں سال مداح اھلبیت جناب کاظم علی خان نے بارگاہ امام زین العابدین علیہ السلام میں اس مظلوم امام کی شہادت پر نظم کی زبان سے نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ سوچتا ہوں کہ عابد کا حال کیا ہوگا :- اسیر ہو کے وہ جب شام میں گیا ہوگا :- سنا ہے شام میں جاتے ہی خون رونے لگا :- نہ جانے شمر نے اس وقت کیا کہا ہوگا ۔
البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے میزبان کی حیثیت سے تمام خطبا شعرا و ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ اگر تحقیق کریں گے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں بہت سے ظلم جو آج بھی ہو رہے ہیں اس کا آغاز جنت البقیع کے انہدام سے کیا گیا ہے یعنی بہت سے مظالم کا سر چشمہ انہدام جنت البقیع ہے۔ مولانا موصوف نے ایک خوبصورت مثال دیتے ہوئے کہا کہ چور ایک پتھر گھر میں پھینکتا ہے یہ جاننے کے لیے کہ گھر والے بیدار ہیں یا سو رہے ہیں اگر گھر والے بیدار ہیں تو یہ چور وہاں سے مایوس ہو کر بھاگ جاتا ہے لیکن اگر پتھر پھینکنے کے بعد کوئی رد عمل ظاہر نہیں ہوا تو وہ بے فکر ہو کر گھر میں داخل ہو جاتا ہے ۔ ان ظالموں نے جنت البقیع کو منہدم کر کے یہ معلوم کیا کہ دیکھیں مسلمانوں کا ضمیر سو رہا ہے یا بیدار ہے اور جب مطمئن ہو گئے کہ مسلمان خواب غفلت میں ہے تو اپنی مکروہ سازشوں میں اضافہ کر دیا ۔
مولانا محبوب مہدی نجفی نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگ بیدار نہ ہوئے تو یہ لوگ ایک دن روضہ رسول کو بھی منہدم کر دیں گے یہاں تک کہ ان کی نجس نگاہ کعبے پر بھی ہے ۔
قم المقدسہ ایران جہاں تشیع کی سب سے بڑی مذہبی یونیورسٹی موجود ہے مولانا سید محمود حسن رضوی نے شرکت کرتے ہوئے اس اہم انٹرنیشنل کانفرنس میں بہترین تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے لوگوں کے ذہن میں یہ بات تھی کہ جنت البقیع کی تعمیر کے لیے صرف آٹھ شوال کو ہی احتجاج کیا جانا چاہیے لیکن البقیع آرگنائزیشن کے ذریعے مولانا محبوب مہدی عابدی، مولانا اسلم رضوی اور برادر عزیز مولانا علی عباس وفا نے اس فکر کو ختم کر دیا ہے ۔ اب بقیع میں دفن اہم شخصیات کی شہادت کی مناسبت سے جو انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہو رہی ہے اس نے اس تحریک کو پورے سال زندہ رکھا ہے ۔ مولانا محمود رضوی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع کی منہدم قبریں یہ اعلان کر رہی ہے کہ کتنا بڑا سرمایہ ہم سے چھین لیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حالیہ دنوں میں دیکھا کہ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع میں تہران، قم، مشہد، عراق اور دیگر مقامات پر کروڑوں افراد شریک ہوئے۔ اندازوں کے مطابق ساڑھے چار کروڑ سے زائد انسانوں نے اپنی محبت، وفاداری اور عہد کی تجدید کا عملی ثبوت پیش کیا۔ یہ منظر اس بات کی علامت تھا کہ اہلِ وفا اپنے محسنین اور اپنے رہبروں کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔
جب ہم اپنے رہبر کے ساتھ اپنے عہد کو اس عظیم انداز میں نبھا سکتے ہیں، جب ہم ان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں میدان میں آ سکتے ہیں، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم رسول خدا ﷺ کے اہلِ بیتؑ کے مزارات کو فراموش کر دیں؟ ہم جنت البقیع کے غم کو کیسے بھلا دیں؟ ہم ان مقدس قبور کی بے حرمتی پر خاموش کیسے رہ سکتے ہیں؟
کینیڈا کے شہر وینکوور سے شاعر اھلبیت جناب شھریار خان نے بقیع کی تحریک کی کر کھل کر حمایت کی اور فرمایا کہ جب میں جنت البقیع جاتا تھا اور وہاں ٹوٹی ہوئی قبروں کو دیکھتا تھا تو مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی ۔ آپ نے جنت البقیع کی مظلومیت کو اشعار کے ذریعے یوں بیان کیا ۔
آل سعود ڈھاتے ہیں معصوم کا مزار :- افلاک پر ہے شور مچا وامحمدا :- روضہ رسول کا ہے منور مگر بقیع :- چھائی ہے جس پہ کالی گھٹا وا محمدا :- آل سعود اصل میں آل یہود ہیں :- جاری ہے ان کا ظلم سدا وامحمدا ۔
شہر حیدراباد دکن سے ہندوستان کے بزرگ و استاد شاعر جناب آغا سروش نے بارگاہ امام زین العابدین علیہ السلام میں زبردست اشعار پیش فرمائے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ غم وہ تھے نیند میں بھی اشک بہائے سجاد :- نہ ہوئی بند کبھی چشم عزائے سجاد:- بھیگ جاتی تھی زمیں بیٹھ کے روتے تھے جہاں :- روز عاشور تھا ہر روز برائے سجاد۔ اس کے بعد آپ نے سلام کے چند جاذب و دلکش اشعار پڑھے صرف دو شعر ملاحظہ فرمائیں ۔ اکبر کے چاند سے سینے سے ٹکرا کے سنانیں ٹوٹ گئیں :- اصغر کی ھنسی کے ناوک سے چھلنی تھا کلیجہ تیروں کا :- کونین میں اب تک تیغ تلے ایسا کوئی سجدہ پھر نہ ہوا :- شہ نے جو لپیٹا پھر نہ بچھا مقتل میں مصلیٰ تیروں کا ۔
ایس این این چینل کے ایڈیٹر ان چیف مولانا علی عباس وفا اور ایڈیٹر جناب کاشف صاحب نے اس کامیاب کانفرنس کو اپنے موقر چینل سے براہ راست نشر کیا ۔









آپ کا تبصرہ