حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حیدرآباد دکن/ معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات اور خاندانی نظام کو درپیش مسائل کے پیشِ نظر شیعہ علماء حیدرآباد کا ایک اہم اجلاس صدر کل ہند شیعہ مجلس علماء و ذاکرین مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدر آقا کی زیرِ صدارت بمقام شریعت کدہ منعقد ہوا۔
اجلاس میں حیدرآباد کے جید، ممتاز اور بااثر علماء کرام نے شرکت کی اور قوم و ملت کو درپیش مختلف اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی طور پر معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات، ان کے اسباب اور خاندانی نظام پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
علماء کرام نے طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ازدواجی اختلافات کو بروقت گفت و شنید، اصلاح اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ معمولی اختلافات سنگین نوعیت اختیار نہ کریں اور خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے۔
اجلاس میں حکومت اور وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہوئے طلاق سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ علماء نے اس امر پر زور دیا کہ طلاق کے معاملے میں شرعی اصول و ضوابط کی مکمل پابندی کے ساتھ فریقین کو مناسب شرعی رہنمائی اور مصالحتی مشاورت فراہم کی جائے۔
اس موقع پر علماء کرام نے طلاق کے واقعات میں کمی لانے کے لیے مؤثر شرعی رہنمائی، مصالحتی مشاورت، باقاعدہ نگرانی اور اصلاحی اقدامات کو مزید منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں مختلف علماء نے اپنی اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں، جن پر تفصیلی تبادلۂ خیال کے بعد مسائل کے حل اور خاندانی نظام کے استحکام کے لیے باہمی اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا۔
شرکائے اجلاس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے میں نکاح اور ازدواجی زندگی کی اہمیت کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے اور میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے حل کے لیے علماء کی نگرانی میں بروقت مشاورتی اور مصالحتی اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے علماء کرام اپنی ذمہ داریوں کو مزید مؤثر انداز میں انجام دیں گے اور ضرورت کے مطابق خاندانوں کی رہنمائی، اصلاح اور مصالحت کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اجلاس کو موجودہ حالات کے تناظر میں نہایت اہم اور بروقت قرار دیا گیا۔ شرکائے اجلاس نے قوم و ملت کے اجتماعی مسائل کے حل، بالخصوص خاندانی نظام کے تحفظ اور طلاق کے واقعات میں کمی لانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں حیدرآباد کے متعدد جید و بااثر علماء کرام کی شرکت رہی اور مختلف تجاویز و آراء کے بعد طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور خاندانی نظام کے استحکام کے لیے مؤثر اقدامات پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔










آپ کا تبصرہ