حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حیدرآباد دکن/ کل ہند مجلس علماء و ذاکرین کے صدر و رکن وقف بورڈ حجۃ الاسلام مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدر آغا کی زیرِ قیادت شیعہ علماء کے ایک نمائندہ وفد کا وقف بورڈ کے چیئرمین سید عظمت اللہ حسینی اور سی ای او وقف بورڈ اسد اللہ ناظر القضاۃ اکرام اللہ کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں شیعہ قوم کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے حل کے لیے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں بالخصوص علماء کے وثیقہ ناموں کی رجسٹریشن اور منظوری کے معاملے پر سنجیدہ گفتگو ہوئی، جبکہ طلاق و خلع سے متعلق مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں قوم کے بااثر علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدر آغا کی نمائندگی اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وقف بورڈ کے چیئرمین سید عظمت اللہ حسینی نے 2022ء میں مجلس علماء و ذاکرین کی جانب سے پیش کیے گئے ناموں سمیت 34 علماء کرام کے وثیقہ ناموں کو فوری طور پر منظوری (Approval) دے دی۔

اجلاس میں شیعہ قبرستانوں اور عاشور خانوں کے حفاظتی انتظامات سمیت کوہِ امام ضامن، ترملگیری کی وقف اراضی سے متعلق مسائل بھی وقف بورڈ کے سامنے پیش کیے گئے۔ چیئرمین وقف بورڈ نے تمام مسائل کو غور سے سماعت کرتے ہوئے انہیں جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
آخر میں مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدر آغا نے ان تمام علماء کرام سے، جن کے وثیقہ ناموں کو منظوری دی گئی ہے، اپیل کی کہ وہ فوری طور پر صدر مجلس علماء و ذاکرین سے رابطہ کریں اور اگر دستاویزات میں کسی قسم کی کمی باقی ہو تو اسے جلد از جلد مکمل کریں۔










آپ کا تبصرہ