حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعہ کے روز امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک فرمان کی روشنی میں حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے بارے میں غور کرتے ہیں۔
«مَتَی الْفَرَجُ؟»
کبھی ہمیں یہ گمان ہوتا ہے کہ ہم بہت اچھے انسان ہیں کیونکہ ہم امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے منتظر ہیں۔ لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے اس انتظار کا جائزہ لیا ہے کہ ہم کس لیے منتظر ہیں؟ دوسرے لفظوں میں، ہم آخر کس چیز کے رونما ہونے کا انتظار کر رہے ہیں؟
آئیے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اس منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔
ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’مولا! آپ پر قربان جاؤں! مَتَی الْفَرَجُ؟ ظہور یا فرج کب ہو گا؟‘‘
کیا ہی عجیب سوال ہے! کیونکہ یہی سوال ہمارے ذہن میں بھی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کیا جواب دیتے ہیں۔
لیکن اس سوال پر حضرت کے چہرۂ مبارک پر ناخوش ہونے کے آثار ظاہر ہوئے؛ گویا آپ اس سوال سے ناراض ہوئے۔ حضرت علیہ السلام نے ابوبصیر کی طرف رخ کرکے فرمایا: «أَنْتَ بِمَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا؟» ’’کیا تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو دنیا چاہتے ہیں؟‘‘
(یعنی کیا تم امام کو اپنی دنیا کی اصلاح کے لیے چاہتے ہو اور تمہارا انتظار اپنی مشکلات کے حل کا انتظار ہے؟! کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا انتظار بھی...)
پھر حضرت نے فرمایا: «مَنْ عَرَفَ هَذَا الْأَمْرَ فَقَدْ فُرِّجَ عَنْهُ لِانْتِظَارِهِ» ’’جو شخص اس امر کو جان لے، اس کے انتظار ہی کی وجہ سے اس کو فرج حاصل ہو جاتا ہے۔‘‘
یعنی اگر ہم امرِ ولایت کو اچھی طرح سمجھ لیں تو خود انتظار ہی ہمارے لیے تعمیری عمل بن جائے گا اور ہماری رشد و نجات کا ذریعہ ہوگا کیونکہ انتظار کا مطلب اس راستے پر گامزن ہونا ہے جس مقصد کے لیے امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہور ہونا ہے۔
انتظار؛ یعنی عدل و انصاف کو محور بنانا۔
انتظار؛ یعنی ہم میں سے ہر شخص یہ عزم کرے کہ وہ اپنے ہر کام اور ہر ذمہ داری میں درست طریقے سے عمل کرے اور اپنے عمل کے ذریعے دوسروں کو عدل و انصاف کی شیرینی کا ذائقہ چکھائے۔
انتظار؛ یعنی امام کو اپنے ذاتی مفادات اور آسائش کے لیے نہیں بلکہ انسان کے کمال اور رشد کے لیے چاہنا؛ اس لیے کہ امام کی موجودگی میں انسان ان صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کر سکے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے وجود میں ودیعت کی ہیں اور اپنے معبود کے قرب کی راہ پر آگے بڑھ سکے۔
حوالہ:
۱۔ الکافی، جلد ۱، صفحہ ۳۷۱، باب: ’’أنّه من عرف إمامه لم يضرّه تقدّم هذا الأمر أو تأخّره‘‘، حدیث ۳۔
ماخذ: کتاب ’’دُرّ و یاقوتِ مهدوی‘‘، محمود اباذری









آپ کا تبصرہ