منگل 15 ستمبر 2026 - 22:25
امام زمانہؑ سے وفاداری کا تقاضا عہد کی پاسداری اور کردار کی اصلاح ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ حوزہ/ ہندوستان کے شہر اجمیر میں مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ کے زیر اہتمام امام جمعہ مولانا سید نقی مہدی زیدی کی نگرانی میں ’’آشنائی با مہدویت‘‘ کے عنوان سے ہفتہ وار درس کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نشست میں انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے شیعیانِ اہل بیتؑ کے عہد و وفا، اس عہد کی تکمیل کے طریقوں اور انتظارِ امام کے عملی تقاضوں پر گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ جعفریہ تاراگڑھ اجمیر ہندوستان میں امام جمعہ مولانا سید نقی مہدی زیدی کے توسط سے درس ہفتگی بعنوان" آشنائی با مہدویت" کا سلسلہ جاری ہے۔

امام زمانہؑ سے وفاداری کا تقاضا عہد کی پاسداری اور کردار کی اصلاح ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے درس میں بحار الانوار جلد ٥٣ میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی شیخ مفید علیہ الرحمہ کو توقیع کا بیان کرتے ہوئے کہا کہ شیخ مفید علیہ الرحمہ کی توقیع میں جو علمائے شیعہ میں ایک عظیم عالم گزرے ہیں اس طرح ان کو شیعہ معاشرہ نے بہت کم دیکھا ہے:"وَلَوْأَنَّ أَشْيَاعَنَا وَفَّقَهُمْ اللَّهُ لِطَاعَتِهِ عَلَی‌ اِجْتِمَاعٍ مِنَ اَلْقُلُوبِ فِي الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ عَلَيْهِمْ لَمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمُ الْيُمْنُ بِلِقَائِنَا وَ لَتَعَجَّلَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ بِمُشَاهَدَتِنَا"، اگر ہمارے شیعوں (اللہ انہیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا کرے) کے دل اپنے وعدہ اور عہد کو پورا کرنے پر جمع ہوتے تو ہمارے دیدار کی سعادت میں تاخیر نہ ہوتی بلکہ یہ کامیابی انہیں بہت جلد نصیب ہو جاتی۔

منتظرین کا امام کے لیے افتخار اور زینت کا سبب بننا ناگزیر: مولانا سید نقی مہدی

انہوں نے علامہ سید محمد تقی موسوی اصفہانی کی کتاب مکیال المکارم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ: مکیال المکارم کے مصنف نے اس کتاب کو امام زمانہ علیہ السلام کے حکم سے تحریر کیا ہے مصنف کہتے ہیں کہ میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ ایک منفرد کتاب حضرت امام عصر علیہ السلام کے بارے میں لکھوں جس میں امام کے وجود کا فائدہ کیا ہے، لیکن زمانے کے حالات، زندگی کے نشیب و فراز، پے در پے مصیبتوں کی وجہ سے یہ کام نہ کرسکا یہاں تک کہ ایک شب میں امام عصر علیہ السلام کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ مجھے حکم فرما رہے ہیں اس کتاب کو لکھو اور عربی میں لکھو اور اس کتاب کا نام "مکیال المکارم فی فوائد الدعاء للقائم" رکھو، علامہ سید محمد تقی موسوی اصفہانی نے اپنی زندگی میں امام کی زیارت اور دیدار کا شرف حاصل کیا تھا اور حقیقت میں ہم ان کو ایک سچا اور ایمان دار انتظار کرنے والا کہہ سکتے ہیں۔

انہوں نے عہد و وفا کو نبھانے کے چند راستے اس کتاب میں لکھے ہیں:

(۱) ائمہ علیہم السلام کی ولایت و امامت پر یقین محکم اور انکی فرمایشات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔

(۲) اماموں کو دل سے دوست رکھنا اور انکے دشمنوں سے نفرت کرنا۔

(۳) پوری طرح انکی اطاعت وفرمانبرداری کرنا۔

(۴) زمانے کے اعتبار سے جس طرح بھی ممکن ہو انکی مدد کے لئے تیار رہنا۔

حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید کہا کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے ہم نے امام زمانہ علیہ السلام سے ایک عہد کیا ہے ایک وعدہ کیا ہے کہ ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے اور امام کے لئے افتخار اور زینت کا سبب بنیں گے، ان کی ناراضگی کا سبب نہیں ہوں گے انکے دشمنوں سے دشمنی اور انکے دوستوں کو دوست رکھیں گے۔ ایمان اور قلبی یقین کو دوستی بڑھانے کے لئے زیادہ کریں گے، جس طرح بھی ممکن ہو ہم امام زمانہ علیہ السلام کی مدد کریں، اور اس راستہ سے ہم اپنے آپ کو امام کے محبوب میں شمار کریں گے اور حضرت سے اپنے آپ کو قریب کریں گے اور یہ بات جانیں اور سمجھیں کہ امام اپنے شیعوں کو کئے گئے عہد و وفا پر محکم و ثابت قدم دیکھنا چاہتے ہیں اور جب یہ دیکھتے ہیں کہ وہ وعدہ شکنی کر رہے ہیں اور ذلت کا سبب ہو رہے ہیں تو غمگین ہوتے ہیں۔

منتظرین کا امام کے لیے افتخار اور زینت کا سبب بننا ناگزیر: مولانا سید نقی مہدی

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب نے عہد کیا ہے اور اپنی گردن میں اس پاکیزہ بیعت کا ہار پہنا ہے اس عہد اور بیعت کو کیسے پورا کریں؟ کیسے ہم اس عہد کو پورا کر کے ایک اور قدم امام کی محبت اور قربت کے لئے اٹھا سکتے ہیں؟ ہم اپنی ذمہ داری کے عنوان سے سوچیں کہ ہم کیسے اس عہد کو پورا کر سکتے ہیں؟ اس عہد کو پورا کرنے کے کیا کیا راستے ہو سکتے ہیں۔

حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے آخر کلاس میں کہا کہ امام زمانہ علیہ السلام کی خاطر ہر برے کام کو چھوڑ دیں، یقین جانیں کہ امام علیہ السلام ہمارے تمام اعمال سے آگاہ ہیں۔ ہمارے برے کام سے ناراض ہوتے ہیں اور اچھے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ آئیں امام زمانہ علیہ السلام کی خاطر اپنے کردار و گفتار پر نظر رکھیں، ہم سب سے پہلے اپنی آنکھوں پر نظر رکھیں۔ وہ آنکھ جو حرام کی عادت میں مبتلا ہے، آلودہ آنکھ، گنہگار آنکھ، امام زمانہ علیہ السلام کی مدد کرنے کے لائق نہیں ہے، وہ آنکھ امام زمانہ علیہ السلام کو مدد پہچانے کی قابلیت و صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ اس آنکھ میں امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت و دیدار کی لیاقت نہیں پائی جاتی ہے اور نہ وہ آنکھ امام کی قربت اور نزدیکی کے لائق ہے۔ اس کے بعد ہم اپنے کان اور زبان کو کنٹرول کریں وہ زبان جس سے ناحق باتیں باہر نکلتی ہیں وہ امام علیہ السلام سے گفتگو کے لائق نہیں ہے، اگر وہ بناوٹی باتیں بھی کرتی ہے تو بھی فائدہ نہیں ہے۔ وہ کان جو حرام سننے کا عادی ہو گیا ہے یا غیبت سن چکا ہو وہ زبان جو غیبت کر چکی ہو، ان میں سے کسی میں بھی لیاقت اور صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنے مولا کی خدمت کر سکے۔ یہ کان حق قبول کرنے والا نہیں ہے، کیونکر ممکن ہے کہ اس آنکھ، کان اور زبان سے امام سے قربت اور نزدیکی کے لئے رابطہ کیا جا سکے؟ کیا مناسب ہے کہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے اعضاء سے محبوب کے دیکھنے کی تمنا یا روز بروز محبت میں اضافہ کا مطالبہ کیا جاسکے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha