ہفتہ 3 اکتوبر 2026 - 12:56
آسان شادی، آج کے جوان کی ضرورت اور رہبر شہید کی فکر

حوزه/ جب نکاح مشکل بن جائے اور اس سے سادگی رخصت ہو جائے تو خاندان بھی اپنی روح کھو بیٹھتا ہے، جب گناہ آسان نظر آنے لگے اور حلال طریقہ مشکل تو جوان لڑکے اور لڑکیاں گناہ کی راہ پر چل پڑتے ہیں، جب کوئی تہذیب اپنی اصل روح سے دور ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کے مقدس ادارے متاثر ہوتے ہیں، اور ان میں سب سے نمایاں ادارہ خاندان ہے۔

تحریر: مولانا احمد فاطمی

حوزه نیوز ایجنسی!

جب نکاح مشکل بن جائے اور اس سے سادگی رخصت ہو جائے تو خاندان بھی اپنی روح کھو بیٹھتا ہے، جب گناہ آسان نظر آنے لگے اور حلال طریقہ مشکل تو جوان لڑکے اور لڑکیاں گناہ کی راہ پر چل پڑتے ہیں، جب کوئی تہذیب اپنی اصل روح سے دور ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کے مقدس ادارے متاثر ہوتے ہیں، اور ان میں سب سے نمایاں ادارہ خاندان ہے۔

ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیوں ہمارے برصغیر کے سماج میں خصوصیت کے ساتھ گناہ آسان اور نکاح مشکل ہو رہا ہے، جہاں ایک طرف دشمن کی ثقافتی یلغار ہے وہیں ہم اپنے خود ساختہ غلط میعارات کے ساتھ دشمن کا خاموش ہتھیار و آلہ کار بن کر اپنی نئی نسلوں کو برباد کرنے میں برابر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں شادی، جو سکونِ قلب اور تکمیلِ دین کا ذریعہ تھی، رسوم و رواج، نمود و نمائش اور مالی بوجھ کی نذر ہو چکی ہے۔ خاندان محبت، سکون اور تربیت کا گہوارہ ہے اور اس کی بنیاد نکاح پر استوار ہے۔

ایسے میں رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کے ارشادات رہنمائی کا روشن چراغ ہیں۔ انہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے میں مختلف مواقع پر نوجوانوں اور خاندانوں کو سادہ اور آسان شادی کی تلقین فرمائی۔

زیرِ نظر مضمون میں ان کے منتخب بیانات کی روشنی میں اس موضوع کے اہم پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

نکاحِ امیرالمؤمنینؑ و فاطمہ زہراؑ: سادگی کا کامل نمونہ

تاریخِ اسلام کا وہ زرّیں لمحہ، جب امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا عقد منعقد ہوا، محض ایک رسمِ ازدواج نہ تھا بلکہ ایک مکمل نظریۂ حیات کا اعلان تھا۔ اس نے واضح کر دیا کہ محبت دولت کی محتاج نہیں، اخلاص رسم و رواج سے بلند تر ہے، اور سادگی عظمت کی ضد نہیں بلکہ اس کی اساس ہے۔

رہبرِ شہید اسی نمونے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: «بگذارند ازدواج برای دختر مسلمان... مثل ازدواج فاطمہ زہراؑ باشد» یعنی مسلمان لڑکی کی شادی کو حضرت فاطمہ زہراؑ کی شادی جیسا ہونے دیں؛ ایسی شادی جس میں مومن مرد و عورت کے درمیان روحانی اور الٰہی عشق کا رشتہ ہو، اور حقیقی معنوں میں تعاون اور رفاقت ہو، لیکن ظاہری کھوکھلے تکلفات اور زر و زیور سے بالکل بیگانہ۔ (26/10/1368)

ایک اور مقام پر فرمایا کہ حضرت زہراؑ کے جہیز میں اس قدر سادگی کا لحاظ رکھنا ایک تعلیمی و تربیتی پہلو رکھتا تھا، تاکہ لوگوں کے لیے عمل کی ایک بنیاد اور معیار قائم رہے اور وہ زیادہ روی سے پیدا ہونے والی مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔ (18/4/1377)

اصل رکاوٹ: معاشی نہیں، ثقافتی

عام طور پر شادی میں تاخیر کا سبب معاشی تنگی کو قرار دیا جاتا ہے، مگر رہبرِ شہید اس تجزیے کو ناکافی سمجھتے تھے۔ انہوں نے طلبہ و اساتذہ کے ایک اجتماع میں فرمایا: «میرے عزیزو! شادی کی ثقافتی رکاوٹوں کو معمولی نہ سمجھیں... اقتصادی رکاوٹیں مشکل کا ایک حصہ ہیں، بڑا حصہ ثقافتی رکاوٹوں کا ہے: عادتیں، فخر و تفاخر، کثرت پر نازاں ہونا، دیکھا دیکھی اور مقابلہ بازی، اور تجمل پسندی۔» (9/12/1379)

یہ جملہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنی اجتماعی کمزوریاں صاف دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اسی خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ اسلام میں شادی کی بنیاد سادگی پر ہے، اور افسوس کہ تکاثر، تفاخر اور سرمایہ داری کی ثقافت نے اس کام کو مشکل بنا دیا، بلکہ بعض ذمہ داروں نے بھی اپنے خاندانوں کی نمائشی شادیوں سے مشکلات پیدا کیں۔

والدین کی ذمہ داری

معاشرہ اسی وقت سنورتا ہے جب اس کے بزرگ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ رہبرِ شہید نے والدین کو نہایت دردمندی سے مخاطب کیا: «میں ماں اور باپ کو یاد دہانی کراتا ہوں؛ میری درخواست اور گزارش ہے کہ شادی کے امکانات کو ذرا آسان کریں۔ والدین سختی کرتے ہیں؛ کسی سختی کی ضرورت نہیں۔ ہاں، کچھ فطری مشکلات ہیں، مثلاً مکان اور روزگار کا مسئلہ؛ لیکن ‘اِن یَکونوا فُقَرآءَ یُغنِهِمُ اللهُ مِن فَضلِه’۔ نوجوانوں کی شادی کو نہ روکیں۔» (20/4/1394)

یہ الفاظ محض نصیحت نہیں بلکہ ایک سماجی تقاضا ہیں۔ جب والدین اپنی انا، خواہشات اور سماجی حیثیت کو اولیت دیتے ہیں تو دراصل اپنی ہی اولاد کے مستقبل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ انقلاب کے دور میں تکلفات اور سخت گیریاں کم ہونے سے شادیاں آسان ہو گئی تھیں، اور تنبیہ کی کہ ہم دوبارہ پہلی حالت کی طرف نہ لوٹ جائیں۔ (26/10/1368)

واسطہ گری اور رشتہ سازی کا احیا

رہبرِ شہید نے ایک اہم سماجی پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ رشتہ مانگنے اور درمیان میں واسطہ بن کر رشتے طے کرانے کی روایت ماند پڑ گئی ہے، حالانکہ ماضی میں نیک اور مومن افراد مناسب لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کراتے اور شادیوں کی راہ ہموار کرتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ کام دوبارہ زندہ ہونا چاہیے اور معاشرے میں اس سلسلے میں ایک تحریک پیدا ہونی چاہیے۔ (1/5/1393،20/4/1394)

مہر: مقدار نہیں، نیت اور اخلاص

مہر نکاح کا لازمی حق ہے، مگر ہمارے ہاں اس کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف مہر محض رسمی اور علامتی رہ جاتا ہے، یعنی ہر چیز مہنگی ہو گئی مگر مہر کی مقدار وہی رہی۔ دوسری طرف لڑکی کے تحفظ کے نام پر بھاری مہر مقرر کر دیا جاتا ہے۔ رہبرِ شہید دوسری انتہا پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«زیادہ مہر سے کوئی خوش بخت نہیں ہوا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ مہر نہ ہو تو ان کی بیٹی کی شادی متزلزل ہو جائے گی، وہ غلطی پر ہیں۔ شادی اگر محبت اور درست حالات کے ساتھ ہو تو بغیر مہر کے بھی متزلزل نہیں ہوتی؛ اور اگر وہ فریب اور چالاکی کی بنیاد پر ہو تو مہر جتنا بھی زیادہ ہو، بدطینت مرد اس سے بچ نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لے گا۔» (4/9/1375)

انہوں نے بھاری مہر کو جاہلی رسم قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ طرزِ عمل پیغمبرؐ، ائمۂ ہدیٰؑ اور اسلام کے بزرگوں کی سیرت کے خلاف ہے۔ (2/9/1373)

جہیز: اجتماعی انصاف کا مسئلہ

جہیز کے بارے میں رہبرِ شہید کا نقطۂ نظر محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی انصاف پر مبنی ہے۔ فرماتے ہیں:
«یہ دلیل کہ ‘ہمارے پاس ہے اس لیے کرتے ہیں’ بالکل کافی نہیں۔ معاشرے میں ہر طرح کے انسان رہتے ہیں۔ آپ کو ایسا کرنا چاہیے کہ جس لڑکی کے پاس نہیں ہے وہ بھی اگر شادی کرنا چاہے تو کر سکے؛ ورنہ یہ جہیز اور یہ مہر دوسروں کے لیے شادی کا دروازہ بند کر دے گا۔ یہ انسانی طریقہ نہیں، اسلامی طریقہ نہیں۔» (5/8/1375)

وہ اس مسابقت کو بھی موذی غلطی قرار دیتے ہیں کہ جہیز میں کوئی چیز خالہ زاد، بہن، پڑوسن یا ہم جماعت سے کم نہ رہے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے بہت سی لڑکیاں رخصت نہیں ہو پاتیں اور بہت سے لڑکے شادی نہیں کر پاتے۔ (26/10/1372) انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ مہنگی اور نام نہاد معروف دکانوں کا رخ نہ کیا جائے۔ (19/3/1372)

اسراف اور نمود و نمائش

دورِ حاضر میں شادیوں کی سب سے بڑی مشکل اسراف اور فضول خرچی ہے، اور اس مرض میں عوام ہی نہیں بلکہ خواص بھی مبتلا ہیں، بلکہ بعض اوقات وہ عوام پر سبقت لے جاتے ہیں۔ زبان سے سب فضول خرچی کی مخالفت کرتے ہیں مگر عمل میں کوئی پیچھے نہیں رہتا۔ اسلام نے اسراف کو حرام قرار دیا، مگر ہم نے اسے باعثِ افتخار بنا لیا ہے۔

رہبرِ شہید فرماتے ہیں: «بعض لوگ اس کام سے، جس سے ثواب کمایا جا سکتا ہے، گناہ کماتے ہیں؛ اپنے اسراف سے اور اس نیک عمل کو حرام کاموں کے ساتھ ملا دینے سے۔ ... اسراف حرام ہے۔ ان لوگوں کا دل جلانا جن کے پاس نہیں ہے، بعض مواقع پر واقعی حرام ہے۔» (9/11/1376)

شادی کے مہنگے لباس کے بارے میں فرمایا کہ کرائے پر لینے میں کوئی شرم نہیں؛ اصل شرم کی بات یہ ہے کہ انسان بے تحاشا رقم خرچ کر کے ایسی چیز خریدے جو ایک بار استعمال ہو اور پھر پھینک دی جائے۔ (4/10/1374)

سادگی: زندگی بھر کی بنیاد

رہبرِ شہید کے نزدیک شادی کی سادگی صرف ایک تقریب کا معاملہ نہیں بلکہ پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ ان کا ارشاد ہے:
«اپنی زندگی کے تمام معاملات میں سادگی کا خیال رکھیں، اور اس کی ابتدا اسی شادی کی تقریب سے ہوتی ہے۔ اگر آپ نے سادگی سے آغاز کیا تو اگلا قدم بھی سادہ ہو گا؛ ورنہ اگر آپ نے امیروں جیسی نمائشی محفل سجا لی تو پھر چھوٹے سے گھر اور مختصر سامان کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔» (13/6/1374)

نوجوان: تبدیلی کے علم بردار

ہر انقلاب کی بنیاد نوجوان ہوتے ہیں، اور آسان شادی کی تحریک بھی ان کے بغیر ممکن نہیں۔ رہبرِ شہید نوجوانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ آپ مطالبہ کرنے والے اور پرنشاط ہیں، اور شادی کے شعبے میں موجود غلط روایات کو توڑنا بھی آپ ہی کا کام ہے۔ (1/5/1393)

انہوں نے اس غلط تصور کی بھی نفی کی کہ شادی سے پہلے ذاتی مکان اور آمدنی والی ملازمت لازماً ہونی چاہیے۔ قرآنِ کریم کی آیت «اِن یَکونوا فُقَرآءَ یُغنِهِمُ اللهُ مِن فَضلِه» کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے توکل کا درس دیا اور شادی کی عمر بڑھنے کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیا جس پر ملکی سطح پر غور ہونا چاہیے۔ (6/8/1392) یہ پیغام دراصل فکری آزادی کی دعوت ہے کہ نوجوان سماجی زنجیروں سے آزاد ہو کر سادگی کو اپنا شعار بنائیں۔

ثقافت سازی کی ضرورت

رہبرِ شہید کے نزدیک یہ مسئلہ صرف انفرادی اصلاح سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے ثقافت سازی لازم ہے۔ انہوں نے فرمایا:
«خاندان کی تشکیل کے لیے ثقافت سازی چاہیے، آسان شادی کے لیے ثقافت سازی چاہیے، اور شادی کے معاملے میں سخت گیری نہ کرنے کے لیے ثقافت سازی چاہیے۔» (26/11/1398)

انہوں نے اس کا تعلق معاشرے کے مستقبل سے بھی جوڑا کہ نوجوان آبادی سے محرومی معاشرے کو بوڑھا کر دیتی ہے، اور بوڑھا معاشرہ ترقی کی چوٹیاں سر نہیں کر سکتا۔

آسان شادی: ایک انقلابی عمل

گہرائی سے دیکھا جائے تو آسان شادی ایک انقلابی اقدام ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے خلاف صدائے احتجاج، طبقاتی تفریق کے مقابل مساوات کا اعلان، اور اخلاقی زوال کے خلاف ایک اصلاحی تحریک ہے۔ یہ انقلاب ہتھیاروں سے نہیں بلکہ شعور سے آتا ہے، اور نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے۔

قوم کی ترقی کا دار و مدار اس کے خاندانی نظام پر ہے۔ آسان شادی مضبوط خاندان کو جنم دیتی ہے، مضبوط خاندان مستحکم معاشرے کی بنیاد بنتا ہے، اور مستحکم معاشرہ ترقی یافتہ قوم کی علامت ہے۔ اس کے برعکس مشکل شادی ایک سست رو زہر ہے جو رفتہ رفتہ پوری قوم کو کمزور کر دیتی ہے۔

خود احتسابی کی دعوت

آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوالات کرنے کی ضرورت ہے: کیا ہم شادی کو آسان بنا رہے ہیں یا مشکل؟ کیا ہم سنت کو زندہ کر رہے ہیں یا رسم کو؟ کیوں ہمارے برصغیر کے سماج میں خصوصیت کے ساتھ گناہ آسان اور نکاح مشکل ہو رہا ہے، جہاں ایک طرف دشمن کی ثقافتی یلغار ہے وہیں ہم اپنے خود ساختہ غلط میعارات کے ساتھ دشمن کا خاموش ہتھیار و آلہ کار بن کر اپنی نئی نسلوں کو برباد کرنے میں برابر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا ہم محبت کو ترجیح دے رہے ہیں یا نمود و نمائش کو؟ یہی سوالات تبدیلی کے سفر کا نقطۂ آغاز ہیں۔

خاتمہ

آسان شادی کوئی ثانوی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی سماجی ضرورت ہے۔ رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کے ارشادات ہمیں سکھاتے ہیں کہ سادگی اختیار کرنا ایک انقلابی قدم ہے جو فرد کی زندگی بھی بدلتا ہے اور پورے معاشرے کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ جب ہم امیرالمؤمنین علیؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کے اسوہ کی پیروی کرتے ہیں تو سکون، برکت اور حقیقی کامیابی کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا لازم ہے کہ ہم سادگی کو شعار بنائیں، آسانی کو فروغ دیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں شادی بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہو، جہاں محبت غالب ہو اور نمود و نمائش مغلوب۔ جہاں گناہ مشکل اور شادی آسان نظر آئے۔ یہی حقیقی انقلاب ہے، اور یہی اصل نجات کا راستہ ہے جو ہماری جوان نسلوں کو محفوظ بنا کر ہمیں امام زمانہ عج کی نگاہ میں سرخرو کر سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha