حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع اور الوداعی مراسم میں دنیا کے تقریباً 40 ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور اعلیٰ سطحی سرکاری وفود شرکت کریں گے۔ یہ شخصیات تقریب میں شریک ہو کر رہبرِ شہید انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کریں گی۔
تقریب کے ترجمان ایمان عطارزادہ نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کی بڑی تعداد کے علاوہ مختلف ممالک سے سیاسی، دینی، علمی، ثقافتی اور یونیورسٹی کی شخصیات بھی رہبرِ شہید انقلاب کے جسدِ مطہر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تہران پہنچیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شرکت کرنے والے ممالک، وفود کی سطح اور نمایاں شخصیات کی تفصیلات جلد وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رہبرِ شہید انقلاب کی تدفین ہو چکی ہے یا ان کا جسدِ مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک میں سپردِ خاک کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور جسدِ مطہر کو مکمل احترام کے ساتھ شرعی اور قانونی اصولوں کے مطابق محفوظ رکھا گیا ہے۔
ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تقریب سے متعلق تمام معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ 4 جولائی بروز ہفتہ صبح 6 بجے سے تہران کا مصلیٰ چوبیس گھنٹے عزاداروں کے لیے کھلا رہے گا۔ اس دوران تلاوتِ قرآن، نوحہ خوانی، شعر خوانی اور دیگر عزائی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ شرکاء سے درخواست کی گئی ہے کہ زیارت کے بعد 10 سے 15 منٹ کے اندر مقررہ راستوں سے باہر نکل جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو حاضری کا موقع مل سکے۔
ایمان عطارزادہ نے مزید بتایا کہ رہبرِ شہید انقلاب 69 برس بعد عتباتِ عالیات کی زیارت سے مشرف ہوں گے۔ ان کا جسدِ مطہر بدھ کے روز حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے روضوں پر حاضری دے گا، جہاں ان کی یہ تاریخی زیارت 69 سال بعد ممکن ہو رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ