جمعرات 2 جولائی 2026 - 00:16
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی توحیدی بنیادوں پر شہادت اور مغربی نظام کے مادی ستونوں کی مسماری

حوزہ/ شہادت ایک عظیم مقصد کے تحت قربانی دیکر محض زندگی کے اختتام کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی زندگی کے آغاز کا عنوان ہے جو تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لیے روشن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں موت، فنا نہیں رہتی بلکہ بقا کا دروازہ بن جاتی ہے، اور خون، صرف زمین پر نہیں گرتا بلکہ قوموں کے ضمیر میں انقلاب کی صورت اترتا ہے۔

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | شہادت ایک عظیم مقصد کے تحت قربانی دیکر محض زندگی کے اختتام کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی زندگی کے آغاز کا عنوان ہے جو تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لیے روشن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں موت، فنا نہیں رہتی بلکہ بقا کا دروازہ بن جاتی ہے، اور خون، صرف زمین پر نہیں گرتا بلکہ قوموں کے ضمیر میں انقلاب کی صورت اترتا ہے۔

تاریخ شاہد ہے قومیں تلواروں سے نہیں جیتا کرتیں، نہ ہی محض طاقت اور وسائل انہیں دوام عطا کرتے ہیں۔ قوموں کی حقیقی سربلندی ان دلوں سے جنم لیتی ہے جو حق کی خاطر اپنے لہو کو روشنائی بنا دیتے ہیں۔ شہید وہ نہیں جو خون دے اور مر جائے، بلکہ وہ ہے جو مر کر بھی زندہ رہے اور دوسروں کو زندگی کے مفہوم سے آشنا کرے۔

تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے شہداء کے لہو کو بھلا دیا، وہ قوم رفتہ رفتہ مٹنے لگی۔ اور جب بھی کسی ملت نے شہادت کو اپنا سرمایہ بنایا، وہ قوم زمانے کی پیشانی پر درخشاں ستارے کی مانند چمک اٹھی۔ شہادت قوموں کی روح میں وہ حرارت ہے جو انہیں سرد و تاریک حالات میں بھی بیدار رکھتی ہے۔

شہید کا پیغام تلوار کی دھار سے زیادہ گہرا ہوتا ہے، کیونکہ تلوار جسم کو کاٹتی ہے مگر شہید کا پیغام دلوں کو بیدار کرتا ہے۔ اسی لیے شہادت قوموں کی فکری و اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے اور انہیں ظلم کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے۔

قوموں کی عزت و وقار کا حقیقی معیار ان کی بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ ان کے میدانِ قربانی ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنے شہداء کے خون کو مشعلِ راہ بنا لیتی ہیں، وہ نہ صرف اپنے زمانے کو روشن کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی حیاتِ نو کا پیغام چھوڑ جاتی ہیں۔

شہادت دراصل ایک خاموش اعلان ہے کہ حق کبھی شکست نہیں کھاتا، چاہے اس کی راہ میں جتنی بھی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ یہ وہ صداقت ہے جو ہر دور میں ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیتی ہے اور ہر فرعون کو یہ احساس دلاتی ہے کہ حق کا ایک قطرہ خون بھی باطل کی پوری سلطنت پر بھاری ہے۔

اگر قومیں اپنی سر بلندی چاہتی ہیں تو انہیں شہادت کے فلسفے کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ شہادت ہی وہ قوت ہے جو قوموں کو خوف سے نکال کر یقین کی منزل تک پہنچاتی ہے، اور انہیں مٹی سے اٹھا کر تاریخ کے آسمان پر چمکتا ہوا ستارہ بنا دیتی ہے۔

شہادت وہ چراغ ہے جو بجھ کر بھی روشنی دیتا ہے، یہی شہادت قوموں کی بقا، ان کی عزت اور ان کی ابدی سربلندی کا راز ہے۔

رہبر انقلاب کی توحیدی بنیادوں پر شہادت اور اسکے اثرات

یوں تو ہر مجاہد ہی اپنی زندگی کا اختتام شہادت پر چاہتا ہے لیکن آیت اللہ خامنہ ای رح جو کچھ کیا اس نے مغربی نظام کے مادی ستونوں کا ڈھا دیا آپ جس طرح شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے جنھجوڑ دینے والا ہے نہ آپ گہری زیرِ زمین پناہ گاہ میں جان بچانے کے لئے گئے اور نہ ہی یقینی خطرات سے فرسنگوں دور کسی محفوظ مقام پر ۔ بلکہ اپنے دفتر میں حسب معمول روزانہ کے کاموں میں مشغول رہے اورمعاشرے کی رہنمائی اور قیادت کے مرکز میں موجود ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اس سے بھی زیادہ بامعنی بات یہ تھی کہ آپ آخر وقت تک اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف آپ کے بعض اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ دار بھی اس واقعہ میں زخمی ہوئے بلکہ شہداء کے قافلے میں شامل ہو گئے۔

اہل خانہ کے ساتھ شہادت؛ یقینِ کامل کی تجلی

سیاسی حقیقت پسندی (Realism) کے نظریات میں رہنماؤں کی بقا کو نظام کے استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے غیر مشروط ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ مغربی حساب کتاب پر مبتنی عقلانیت کے مطابق اگر کسی ملک کا رہنما شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہو تو اسے تین چیزوں کو الگ الگ رکھنا چاہئے: حکمرانی کی ذمہ داریاں، اپنی ذاتی جان کا تحفظ، اور اپنے خاندان کی سلامتی۔

اسی سوچ کی بنیاد پر عموماً بڑے حکومتی عہدے دار بحران کے وقت اپنے خاندان کو دنیا کے محفوظ ترین اور نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیتے ہیں۔

لیکن آیت اللہ خامنہ ای رح کا میدان کے بیچ و بیچ رہنا اپنے دفتر میں موجود رہنا اور وہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ موجود رہنا—جبکہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے یقینی خطرات کی اطلاع بھی موجود تھی—مادی عقلانیت کے پورے نظریے کو توڑ دیتا ہے اور ایک ایمانی و وجودی عقلانیت کی بنیاد کو پیش کرتا ہے

خاندان انسان کی فطری وابستگیوں کی علامت ہوتا ہے۔ ایک شخص کسی نظریے کے لئے خود کو قربان کر سکتا ہے، مگر اپنے پورے خاندان کے ساتھ ایک الٰہی مکتب کے لئے قربانی دینا تب ہی ممکن ہے جب انسان تمام مادی وابستگیوں سے گزر کر عرفانی اور اعتقادی یقین کے بلند ترین درجے تک پہنچ چکا ہو۔

خاندان کے ساتھ آگ کے بیچ کھڑا ہونا ان تمام بیانیوں کی نفی کرتا ہے جو کئی دہائیوں سے انقلاب کی قیادت کو عوام سے جدا یا ذاتی مفادات کے تحفظ میں مصروف دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایسا رہبر جو اپنے عزیز ترین لوگوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل نہیں کرتا، دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی فکری کائنات میں رہبر کے خاندان کے خون اور عام شہری یا سپاہی کے خون میں کوئی امتیاز نہیں۔

جدید نجرانیوں کے مقابل ایک استقامت

اسلامی الٰہیات کی تاریخ میں واقعہ مباہلہ قرآن کی طرف سے رسول اکرمؐ کی صداقت پر ایک مضبوط دلیل ہے۔ جب نجران کے عیسائیوں نے پیغمبر اسلامؐ سے مناظرہ کیا اور بحث سے فیصلہ نہ ہو سکا تو وحی نازل ہوئی:

«فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَکُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَکُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ» ۶۱ آل عمران

“آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔”

اس عظیم واقعہ میں رسول اکرمؐ نے جنگجوؤں یا کثیر پیروکاروں کو نہیں بلکہ اپنے اہلِ بیتؑ—حضرت فاطمہؑ، حضرت علیؑ، اور اپنے نواسوں امام حسنؑ و امام حسینؑ—کو ساتھ لے کر میدان میں قدم رکھا۔

نجران کے عیسائیوں کے پادری و بشپ نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ اگر اس شخص کو اپنی صداقت پر ذرا سا بھی شک ہوتا تو وہ ہرگز اپنے عزیز ترین افراد کو اس خطرناک میدان میں نہ لاتا۔

اسی طرح جدید دور میں خود اور اپنے خاندان کو دشمن کی جدید ترین جنگی اور دہشت گرد مشینری کے سامنے رکھ دینا گویا مباہلہ کی ایک جدید اور عملی تکرار ہے امریکہ اور عالمی صہیونیت اس تاریخی نزاع میں جدید نجرانیوں کی مانند تھے جو استکبار کے مقابلے، سیاسی توحید اور مزاحمت کی حقانیت پر سوال اٹھا رہے تھے۔

ایسے ماحول میں جب دشمن اپنی تمام طاقت استعمال کر رہا تھا، آیت اللہ خامنہ ای سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے دفتر میں موجود رہے۔ نہ وہ چھپے، نہ اپنے خاندان کو دور کیا۔ یہ بالکل اسی منطق کی تکرار تھی جو رسول اکرمؐ نے مباہلہ میں پیش کی تھی: یہ راستہ حق ہے اور اس میں رتی برابر بھی کوئی شک نہیں۔

مغربی حسابی نظام کو تین زوردار جھٹکے

اس طرزِ حیات اور شہادت نے عالمی فکری نظام کے سامنے چند بنیادی حقیقتیں پیش کیں۔

1. قول، فعل اور زندگی کی مکمل ہم آہنگی

بعد از حقیقت (Post-truth) کے میڈیا ماحول میں ہمیشہ یہ کہا جاتا رہا کہ نظریاتی تحریکوں کے رہنما دوہرا معیار رکھتے ہیں؛ وہ عوام کو قربانی کی دعوت دیتے ہیں مگر اپنے خاندان کو محفوظ رکھتے ہیں۔

لیکن آیت اللہ خامنہ ای کا طرزِ عمل اس پروپیگنڈے کی مکمل نفی بن گیا۔ ایک ایسے رہبر نے، جو عمر کے آخری حصے میں تھے اور روزانہ خطرات کی خبریں سنتے تھے، بغیر کسی خوف کے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ قیادت کے مرکز میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ اس طرح ان کی شہادت نے ان کے اقوال اور اعمال کے درمیان مکمل یگانگت کو ثابت کر دیا۔

2. مکیاولی و ہابزی منطق کی موت

تھامس ہابز یا ماکیاولی کی فلسفیانہ سیاست کے مطابق طاقت کا مقصد بقا اور ذاتی فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک ایسا رہبر جو جان بوجھ کر خطرات کے درمیان اپنے خاندان کے ساتھ قیادت کی ذمہ داری ادا کرے، یہ واضح کرتا ہے کہ اس کے لئے طاقت ذاتی بقا کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک الٰہی ذمہ داری ہے۔

3. دہشت کی ٹیکنالوجی کی ذلت و حقارت

امریکہ اور اسرائیل نے جدید ترین ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ، جاسوسی نظام اور فضائی طاقت کے ذریعے اس حملے کو انجام دیا۔ لیکن دوسری طرف ایک عالم دین نے بغیر کسی عسکری پناہ گاہ کے صرف اپنے ایمان اور ارادے کے ساتھ ان کی پوری دہشت گرد مشینری کو حقیر بنا دیا۔

یہ واقعہ خود اس بات کا ثبوت بن گیا کہ اصل طاقت مادی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایمان اور ارادہ ہے۔

ایک نئی تحریک کی پیدائش

اس عظیم شہادت نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کو نئی فکری بنیاد فراہم کی۔ امام شہید نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ ظلم اور استکبار کے خلاف راستہ آسان نہیں بلکہ قربانیوں سے بھرا ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دکھا دیا کہ ولایت کا منصوبہ دشمن کے دباؤ سے تبدیل نہیں ہوتا، نہ پیچھے ہٹتا ہے اور نہ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرتا ہے۔ یہی حقیقی توکل اور حکیمانہ شجاعت کی عملی تصویر ہے۔

آپ کی مظلومانہ شہادت نے پوری دنیا کی نوجوان نسل میں ایک نئی بیداری پیدا کی اور ایک وسیع تر تحریک کو جنم دیا جو حق و باطل کی جدوجہد کو مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائے گی

امام شہید کی تاریخی و بے نظیر تشیع اور دنیا کے گوشے گوشے سے بیدار ضمیروں کا خراج عقیدت کے لئے پہنچنا بتا رہا ہے ایک نئی تحریک وجود میں آ چکی ہے جس سے مقابلہ مغربی نظام کے بس میں نہیں ہے ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha