اتوار 19 جولائی 2026 - 18:42
بچوں کے سوالوں کو نظر انداز نہ کریں!

حوزہ/بچہ جب سوال کرتا ہے تو درحقیقت وہ صرف الفاظ ادا نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ اپنی عقل، فطرت اور شخصیت کی تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا ہر سوال اس بات کی علامت ہے کہ اس کا ذہن بیدار ہے، وہ سیکھنا چاہتا ہے اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی قمی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بچہ جب سوال کرتا ہے تو درحقیقت وہ صرف الفاظ ادا نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ اپنی عقل، فطرت اور شخصیت کی تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا ہر سوال اس بات کی علامت ہے کہ اس کا ذہن بیدار ہے، وہ سیکھنا چاہتا ہے اور دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر والدین یا اساتذہ اس کے سوال کو نظر انداز کر دیں، اسے جھڑک دیں یا یہ کہہ دیں کہ "زیادہ سوال نہ کیا کرو" تو وہ صرف ایک سوال کو خاموش نہیں کرتے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی سوچ کو بھی دبا دیتے ہیں۔

اسلام نے غور و فکر اور سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ "اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔"(سورۂ نحل: 43)»

یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ سوال کرنا جہالت کی علامت نہیں بلکہ علم تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

قرآنِ مجید میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ مردوں کو کیسے زندہ کیا جاتا ہے، حضرت موسیٰؑ نے حضرت خضرؑ سے سوالات کیے، اور خود صحابۂ کرام رسولِ اکرم ﷺ سے مختلف امور دریافت کرتے تھے۔ اگر سوال کرنا ناپسندیدہ ہوتا تو قرآن ان واقعات کو اس انداز سے بیان نہ کرتا۔

رسولِ اکرم ﷺ بچوں کے سوالات کو بھی بڑی توجہ سے سنتے تھے۔ آپ ﷺ ان کی عمر، ذہنی استعداد اور ضرورت کے مطابق جواب دیتے تھے۔ یہی طرزِ عمل بہترین معلم اور بہترین مربی کی نشانی ہے۔

نفسیات بھی یہی کہتی ہے کہ جس بچے کے سوالوں کو عزت دی جائے، وہ خود اعتمادی، تجزیاتی صلاحیت اور تخلیقی سوچ میں آگے بڑھتا ہے۔ لیکن جس بچے کو بار بار خاموش کرایا جائے، وہ آہستہ آہستہ سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے، اور جب سوال ختم ہو جائیں تو سیکھنے کا جذبہ بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔

بدقسمتی سے بعض والدین مصروفیت یا جھنجھلاہٹ کی وجہ سے بچوں کو جواب دینے کے بجائے کہتے ہیں:

"ابھی خاموش رہو!"

"تم بہت سوال کرتے ہو!"

"یہ تمہارے سمجھنے کی بات نہیں!"

یہ جملے وقتی طور پر سکون تو دے سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں بچے اور والدین کے درمیان اعتماد کی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں۔ پھر وہی بچہ اپنے سوالوں کے جواب موبائل، انٹرنیٹ یا ایسے لوگوں سے تلاش کرتا ہے جو شاید صحیح رہنمائی نہ دے سکیں۔

والدین کا فرض ہے کہ اگر کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو جھوٹا یا غیر علمی جواب دینے کے بجائے محبت سے کہیں:

"یہ بہت اچھا سوال ہے، آؤ ہم مل کر اس کا جواب تلاش کرتے ہیں۔"

یہ ایک جملہ بچے کو یہ احساس دیتا ہے کہ اس کا سوال قیمتی ہے اور اس کی بات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

یاد رکھیے!

آج جس بچے کے سوال کا جواب آپ دیں گے، کل وہی بچہ زندگی کے بڑے سوالوں کے جواب دین، عقل اور صحیح فکر سے تلاش کرے گا۔ لیکن اگر آج آپ نے اس کی جستجو کو دبا دیا تو کل کوئی اور اس کے ذہن کی تعمیر کرے گا۔

تربیت کا سنہری اصول:

"بچوں کے سوالوں کو بوجھ نہ سمجھیں، انہیں علم، ایمان اور شخصیت کی تعمیر کا بہترین موقع سمجھیں۔ کیونکہ سوال کرنے والا بچہ ہی کل سوچنے والا، سمجھنے والا اور باکردار انسان بنتا ہے۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha