شہادت صرف میدانِ جنگ میں نہیں!

حوزہ/اگر کوئی انسان خدا سے محبت کرتا ہے اور اُس کے لیے کام کرتا ہے اور مر جاتا ہے تو وہ بھی شہادت ہے۔

تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی

حوزہ نیوز ایجنسی|

اگر کوئی انسان خدا سے محبت کرتا ہے اور اُس کے لیے کام کرتا ہے اور مر جاتا ہے تو وہ بھی شہادت ہے۔

سلام بر شہداء

بعض اوقات چند مختصر الفاظ انسان کے دل، فکر اور زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ جملہ بھی انہی گہرے اور بامعنی جملوں میں سے ہے جو انسان کو شہادت کے وسیع مفہوم کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ عام طور پر جب لفظِ شہادت سنائی دیتا ہے تو ذہن میں میدانِ جنگ، تلوار، قربانی اور خون کی تصویر آتی ہے، لیکن اسلام شہادت کو صرف جنگ کے ایک لمحے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک مکمل طرزِ زندگی قرار دیتا ہے۔

اسلام کی نگاہ میں اصل قدر انسان کے ظاہری انجام کی نہیں بلکہ اُس کے مقصد، نیت، اخلاص اور اُس راستے کی ہے جس پر وہ زندگی گزارتا ہے۔ اگر کوئی انسان خدا کی محبت میں جیتا ہے، اُس کے دین کی خدمت کرتا ہے، بندگانِ خدا کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، حق کے لیے ثابت قدم رہتا ہے اور اسی راستے میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، تو اُس کی زندگی بھی قربِ الٰہی اور شہادت کی خوشبو سے خالی نہیں ہوتی۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ خداوندی ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾(بے شک اللہ نے مؤمنوں سے اُن کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے ان کے لیے جنت ہے۔)سورۂ توبہ: 111

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مؤمن کی زندگی اُس کی اپنی نہیں رہتی بلکہ خدا کے سپرد ہو جاتی ہے۔

شہادت؛ صرف مرنے کا نام نہیں

شہادت دراصل مرنے سے پہلے جینے کا طریقہ ہے۔

ہر انسان مرتا ہے، لیکن ہر انسان شہید نہیں ہوتا۔

شہادت صرف جسم کے ختم ہونے کا نام نہیں بلکہ نفس کے خدا کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔

کئی لوگ لمبی عمر پاتے ہیں لیکن ان کی زندگی مقصد سے خالی رہتی ہے۔

اور کئی لوگ مختصر زندگی گزار کر بھی تاریخ کے دل میں زندہ رہتے ہیں۔

شہید وہ ہوتا ہے جو اپنے وجود کو خدا کے مقصد سے جوڑ دے۔

خدا کی محبت؛ شہادت کا آغاز

اس جملے میں سب سے اہم لفظ محبتِ خدا ہے۔

انسان جس سے محبت کرتا ہے اُس کے لیے وقت نکالتا ہے۔

جس سے محبت کرتا ہے اُس کے لیے قربانی دیتا ہے۔

جس سے محبت کرتا ہے اُس کی نافرمانی نہیں کرنا چاہتا۔

خدا سے محبت بھی یہی چاہتی ہے۔

محبتِ خدا صرف دعا نہیں، عمل ہے۔

صرف آنسو نہیں، اطاعت ہے۔

صرف الفاظ نہیں، کردار ہے۔

قرآن کہتا ہے:﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ﴾(اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔) سورۂ بقرہ: 165

جب خدا کی محبت دل میں آتی ہے تو انسان دنیا کو مقصد نہیں بلکہ وسیلہ سمجھنے لگتا ہے۔

روزمرہ زندگی میں شہادت

شہادت صرف محاذ پر نہیں ملتی۔

ایک باپ جو حلال روزی کے لیے محنت کرتا ہے۔

ایک ماں جو اپنی خواہشات چھوڑ کر اولاد کی تربیت کرتی ہے۔

ایک استاد جو نسلوں کو سنوارتا ہے۔

ایک عالم جو دین کی خدمت کرتا ہے۔

ایک طالب علم جو اخلاص کے ساتھ علم حاصل کرتا ہے۔

ایک نوجوان جو گناہ سے بچتا ہے۔

ایک خاتون جو حیا اور عبادت کو زندہ رکھتی ہے—

یہ سب اپنے اپنے مقام پر خدا کے لیے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔

اگر نیت خدا ہو تو عام زندگی بھی عبادت بن جاتی ہے۔

خاموش قربانیاں

دنیا شور کو سنتی ہے لیکن خدا خاموش قربانیوں کو بھی جانتا ہے۔

کئی لوگ ہیں جو کسی شہرت کے بغیر لوگوں کے دکھ بانٹتے ہیں۔

کئی ایسے ہیں جو راتوں کو دعا کرتے ہیں اور دن میں خدمت کرتے ہیں۔

کئی ایسے ہیں جو خود مشکل میں ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے آسانی بنتے ہیں۔

یہ لوگ شاید دنیا کی نظروں میں معمولی ہوں، لیکن خدا کے نزدیک ان کا مقام بلند ہو سکتا ہے۔

کربلا؛ شہادت کا مدرسہ

اگر شہادت صرف جنگ ہوتی تو کربلا صرف ایک دن کی داستان ہوتی، لیکن کربلا ایک مکتب بن گئی۔

امام حسینؑ نے بتایا کہ حق کے لیے جان دینا کیا ہے۔

حضرت عباسؑ نے وفا سکھائی۔

حضرت علی اکبرؑ نے جوانی کی قربانی سکھائی۔

حضرت قاسمؑ نے اطاعت سکھائی۔

حضرت زینبؑ نے صبر اور پیغام رسانی سکھائی۔

کربلا نے واضح کیا کہ شہادت صرف خون نہیں بلکہ استقامت، صبر اور حق پر باقی رہنے کا نام بھی ہے۔

خواتین اور شہادت کی روح

اسلام نے عورت کو صرف گھر تک محدود نہیں کیا بلکہ اُسے انسان سازی کا مرکز بنایا۔

حضرت خدیجہؑ نے مال قربان کیا۔

حضرت زہراؑ نے حق کا دفاع کیا۔

حضرت زینبؑ نے مصیبت میں حق کو زندہ رکھا۔

ان عظیم خواتین نے دکھایا کہ عورت بھی خدا کے راستے میں عظیم قربانی دے سکتی ہے۔

آج بھی ہر وہ خاتون جو علم، حجاب، تربیت، عبادت اور خدمت کے ذریعے معاشرے کو سنوارتی ہے وہ ایک عظیم ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔

شہادت اور اخلاص

اخلاص وہ چیز ہے جو چھوٹے عمل کو بھی عظیم بنا دیتی ہے۔

ممکن ہے دو لوگ ایک جیسا کام کریں لیکن خدا کے نزدیک ایک کا عمل آسمان تک پہنچ جائے اور دوسرے کا زمین پر رہ جائے۔

فرق صرف نیت کا ہوتا ہے۔

اس لیے اہل بیتؑ نے ہمیشہ نیت کی اصلاح پر زور دیا۔

خود احتسابی

ہم سب کو خود سے سوال کرنا چاہیے:

کیا میری زندگی خدا کے لیے ہے؟

کیا میری عبادت خالص ہے؟

کیا میری خدمت دکھاوے سے پاک ہے؟

کیا میرے فیصلے رضائے خدا کے مطابق ہیں؟

اگر جواب تلاش کرنا شروع کر دیں تو یہی سفر انسان کو بدل دیتا ہے۔

زندگی کو شہادت کی خوشبو کیسے دی جائے؟

۱۔ نماز کی پابندی

۲۔ قرآن سے تعلق

۳۔ اہل بیتؑ کی سیرت پر عمل

۴۔ لوگوں کی خدمت

۵۔ صبر

۶۔ حلال روزی

۷۔ علم حاصل کرنا

۸۔ اخلاق بہتر کرنا

۹۔ اخلاص پیدا کرنا

۱۰۔ ہر عمل خدا کے لیے کرنا

دنیا کی کامیابی یا خدا کی رضا؟

دنیا انسان کو نام دیتی ہے۔

خدا انسان کو مقام دیتا ہے۔

دنیا تالیاں دیتی ہے۔

خدا قرب عطا کرتا ہے۔

دنیا وقتی ہے۔

خدا کی رضا دائمی ہے۔

اسی لیے مؤمن اپنی کامیابی لوگوں کی تعریف میں نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی میں تلاش کرتا ہے۔

اختتامی دعا

اے اللہ!

ہمیں اپنی محبت عطا فرما۔

ہمیں ایسی زندگی عطا فرما جو تیری رضا کے لیے ہو۔

ہمیں اخلاص، صبر، عبادت اور خدمت کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں اُن لوگوں میں قرار دے جو اپنی پوری زندگی تیرے لیے گزار دیتے ہیں۔

ہمارے اعمال کو قبول فرما اور ہمارے انجام کو خیر بنا۔

پروردگار!

اگر ہمیں شہادت نصیب نہ ہو تو شہداء کی فکر، اُن کا اخلاص اور اُن کا راستہ نصیب فرما۔

سلام بر شہداء

خدا کے لیے جینا… اور خدا کے لیے جانا… یہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha