بدھ 1 جولائی 2026 - 23:29
حوزۂ علمیہ کو آج پہلے سے کہیں زیادہ قابل اور مؤثر مبلغین کی ضرورت ہے

حوزہ / آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا: منبر کی محوریت میں کی جانے والی تبلیغ علماء کا تاریخی فریضہ ہے۔ آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ قابل خطباء کی تربیت، فنِ خطابت کا احیاء اور مختلف ثقافتی و سماجی میدانوں میں مبلغین کی مؤثر موجودگی کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ خراسان رضوی میں نمائندۂ ولی فقیہ آیت اللہ علم الہدیٰ نے دفتر تبلیغات اسلامی، خراسان رضوی کے شعبۂ ثقافتی-تبلیغی کے ڈائریکٹر حجت االاسلام محمد الہی خراسانی سے ملاقات میں فنِ خطابت اور منبر کی احیاء کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج تبلیغ کے میدان میں دو بنیادی حصے ہیں۔ ایک تخصصی تبلیغ ہے، جس کے تحت ہر ادارے اور ہر طبقے کو اپنی ضرورت کے مطابق تبلیغ درکار ہے؛ طلباء، مدارس، جامعات اور دیگر طبقے—ہر ایک کو اپنی صورتحال کے مطابق تخصصی تبلیغ کی ضرورت ہے اور آپ بھی اس میدان میں سرگرم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اس کے ساتھ ساتھ علماء و مبلغین ماضی سے آج تک ایک عمومی تبلیغی اسلوب رکھتے ہیں جس پر وہ آگے بڑھتے آئے ہیں یہاں تک کہ انقلاب اسلامی بھی اسی راستے سے کامیاب ہوا اور وہ ہے منبر پر عمومی تبلیغ۔ یہ تبلیغی نظام وہی ہے جس میں لوگ مجالس میں آ کر بیٹھتے ہیں، گفتگو سنتے ہیں، مصائب سنتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور دین کا پیغام حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہی نظام ہے جس کے ذریعے ہمارے بزرگ علماء نے بھی اپنا راستہ طے کیا اور یہ نظام آج ہم تک پہنچا ہے۔

آیت اللہ علم الہدیٰ نے حوزات علمیہ کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: آج اہم مسئلہ یہ ہے کہ حوزۂ علمیہ میں خاص طور پر طلباء میں، تبلیغ کا یہ پہلو کمزور پڑ گیا ہے۔ ایک زمانے میں مشہد میں ہر اوّل درجہ کا منبر یا تو مشہدی ہوتا تھا یا تہرانی۔ مرحوم حاج شیخ محقق، مرحوم آقای کافی، شیخ رضا نانی، محدثِ کبیر اور دیگر نامور خطباء مشہد سے اٹھے تھے۔ یہاں تک کہ آیت اللہ العظمیٰ وحید جیسی شخصیات بھی برسوں منبری رہیں اور اسی راستے سے ترقی کی۔

انہوں نے فنِ خطابت اور منبر کے احیاء اور قابلِ خطیب کی تربیت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: عمومی تبلیغ کو تخصصی تبلیغ کا تابع نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اگر آپ کا منصوبہ منبر کو عمومی تبلیغ کے طور پر ترقی دینا نہیں ہے اور صرف تخصصی موضوعات تک محدود رہیں گے تو درحقیقت آپ نے ایک تبلیغی ادارے کے فرائض کا صرف ایک حصہ انجام دیا ہے لیکن وہ بنیادی اور تاریخی کردار پورا نہیں ہو گا۔

خراسان رضوی میں نمائندۂ ولی فقیہ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں مشہد میں رہبر شہید (رہ) کے وداعی اور تشییعی مراسم میں بعض انتظامی امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا: توقع ہے کہ اہم موضوعات پر ذمہ دار اداروں اور مؤثر مراکز کے درمیان زیادہ ہم آہنگی اور باہمی تعاون ہو تاکہ تمام صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکیں۔

آیت اللہ علم الہدیٰ نے ان مراسم کے انعقاد کے لیے سہولیات کی پیش بندی اور دقیق منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: تمام امور کے پہلوؤں کو باریک بینی سے جانچنا چاہیے تاکہ نظم و سکون برقرار رکھتے ہوئے عوام کو بہترین خدمات پیش کی جا سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha