حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہایؒ کے جنازے کی تیاریوں کے سلسلے میں قم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حرمِ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا سے مسجد مقدس جمکران تک کے راستے کو تشییع جنازہ کے مرکزی اور تاریخی راستے کے طور پر حتمی شکل دے دی گئی۔
اجلاس کی صدارت ایران کے نائب وزیر داخلہ برائے سیکیورٹی و انتظامی امور سردار علی اکبر پورجمشیدیان نے کی، جبکہ گورنر قم اکبر بہنام جو اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں جنازے کے انتظامات، سیکیورٹی، عوامی سہولیات اور بین الاقوامی مہمانوں کے استقبال سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
سردار پورجمشیدیان نے کہا کہ شہید رہبر انقلاب کے جنازے کی تقریبات کو اسلامی انقلاب اور شہید قائد کے شایانِ شان انداز میں منعقد کرنے کے لیے تمام سرکاری ادارے متحرک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی، انتظامی، ثقافتی، میڈیا اور بین الاقوامی امور کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ تشییع جنازہ کے عملی انتظامات اور جسد مقدس کی حفاظت کی ذمہ داری سپاہ کے سپرد ہوگی۔
گورنر قم اکبر بہنام جو نے بتایا کہ مختلف تجاویز پر غور کے بعد ’’حرم تا جمکران‘‘ کے راستے کو مرکزی جلوس کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قم پہلے بھی بڑے مذہبی اجتماعات اور اہم شخصیات کی تشییع کے کامیاب تجربات رکھتا ہے، اس لیے شہر اس عظیم اجتماع کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں زائرین قم آنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اندازہ ہے کہ تشییع میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے۔ شدید گرمی کے پیش نظر منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ اگر جسدِ مبارک رات کے وقت قم پہنچے تو جنازے کا آغاز صبح پانچ بجے کیا جائے تاکہ شرکا کو موسم کی سختی کا کم سامنا کرنا پڑے۔
اجلاس کے بعد حکام نے شہر کے داخلی راستوں، بلوارِ پیامبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پیدل راستوں اور مسجد جمکران کے اطراف کا دورہ کیا اور سیکیورٹی و عوامی سہولیات کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں مسجد جمکران میں ایک اور اجلاس میں زائرین اور عزاداروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔









آپ کا تبصرہ