ہفتہ 11 جولائی 2026 - 19:02
رہبرِ شہید نے اپنے خون سے امتِ مسلمہ کو عزت بخشی؛ ولایتِ فقیہ کی پیروی ہی کامیابی کا راستہ ہے: سید اقبال رضوی

حوزہ/ حوزہ نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں میانمار کی انجمنِ علمائے دین کے صدر، حجت الاسلام سید اقبال رضوی نے کہا کہ رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ نے اپنی استقامت اور شہادت کے ذریعے پوری امتِ مسلمہ کو عزت و سربلندی عطا کی۔ انہوں نے ملتِ ایران کو ولایتِ فقیہ کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہی راہ مقاومت کی بقا اور کامیابی کی ضمانت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید اقبال رضوی، صدر انجمنِ علمائے دین میانمار، رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی تشییع میں شرکت کے لیے ایران آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں رہبرِ شہید کی شخصیت، ان کی شہادت پر میانمار کے عوام اور میڈیا کے ردِعمل، تشییع کے جذباتی لمحات، محاذِ مقاومت کے مستقبل اور ملتِ ایران کے نام اپنے پیغام پر تفصیل سے گفتگو کی۔ ذیل میں پیش ہے اس گفتگو کا مکمل متن:

سوال: سب سے پہلے اپنا تعارف کرائیے۔

سید اقبال رضوی:

میرا نام سید اقبال رضوی ہے۔ میں میانمار سے تعلق رکھتا ہوں اور اس وقت وہاں کی انجمنِ علمائے دین کا صدر ہوں۔

سوال: جب آپ نے رہبرِ معظم انقلاب کی شہادت کی خبر سنی تو آپ کا پہلا ردِعمل کیا تھا؟ کیا آپ کو یقین آیا؟

سید اقبال رضوی: سچ کہوں تو مجھے بالکل یقین نہیں آیا۔ میری پوری امید یہی تھی کہ شاید یہ خبر غلط ہو یا کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، لیکن افسوس کہ کچھ ہی دیر بعد حقیقت واضح ہوگئی اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔

سوال: آپ میانمار میں کیا ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں؟

سید اقبال رضوی: میں میانمار کی انجمنِ علمائے دین کا صدر ہوں۔ ہماری سرگرمیاں دینی، ثقافتی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی کو فروغ دینے پر مرکوز ہیں۔

سوال: میانمار کے عوام اور میڈیا نے رہبرِ شہید کی شہادت پر کیا ردِعمل ظاہر کیا؟

سید اقبال رضوی: عوام اور میڈیا نے بھرپور انداز میں اس واقعے پر ردِعمل دیا۔ سب نے یہی کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنے خون سے شیعوں اور پوری امتِ مسلمہ کو عزت بخشی۔ آج دنیا جانتی ہے کہ وہ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگے، حالانکہ ایسا کر سکتے تھے، مگر انہوں نے استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ ہمارے میڈیا میں مسلسل یہ بات نشر ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر فلسطین اور قبلۂ اول کے سب سے مضبوط حامی تھے اور انہوں نے مظلوموں کے حق میں ہمیشہ آواز بلند کی۔

سوال: رہبرِ شہید کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے دوران آپ کے جذبات کیا تھے؟

سید اقبال رضوی: وہ لمحے میرے لیے انتہائی کٹھن تھے۔ نماز کے دوران میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور بے اختیار رونے لگا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ ادا کر رہا ہوں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، گویا امت ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئی ہو۔

سوال: آپ کے خیال میں اس واقعے کے بعد دنیا اور محاذِ مقاومت کا ردِعمل کیا ہوگا؟

سید اقبال رضوی: ہمیں یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران حکمت اور تدبیر کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ ہماری توقع ہے کہ دشمنانِ اسلام کو ایسا مضبوط جواب دیا جائے گا کہ وہ اپنے انجام کو پہنچیں اور رہبرِ شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے۔

سوال: آخر میں ایران کے عوام کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟

سید اقبال رضوی: میری گزارش ہے کہ آپ ہمیشہ ولایتِ فقیہ اور اپنی قیادت کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہیں۔ ہم بھی ایران سے باہر رہتے ہوئے ولایتِ فقیہ کی ہدایات پر عمل کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ میں ایرانی عوام کی استقامت اور صبر کو سلام پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید عزت، کامیابی اور فتح عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha